ڈیرہ اسماعیل خان، برسی شہید سلیمانی کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: مولانا غلام جعفر مرتضوی نے برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقامات مقدسہ کو شدت پسند تکفیریوں کی نجاست سے دور کرنا اور شام کو محفوظ بنانا یہ سارے کے سارے کارنامے شہید سلیمانی کے نام ہیں۔ آج غزہ، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں امن و استحکام نظر آتا ہے وہ شہید سلیمانی کا مرہون منت ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
بعض افراد کی شخصیت اس قدر طلسماتی ہوتی ہے کہ ان کی محبت سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مسلک و قومیت بھی ایسے لوگوں کیلئے اہمیت نہیں رکھتی۔ ایسی ہی ایک شخصیت حاج قاسم سلیمانی کی ہے، ایسے لوگ خدا شائد صدیوں میں پیدا کرتا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کو چھ برس گزر چکے ہیں، تاہم انکی یاد انکے چاہنے والوں کے دلوں میں ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہیں، یہی وجہ ہے کہ رواں ماہ شہید کی برسی کی مناسبت سے مخصوص ہے، پاکستان میں تواتر کیساتھ شہید کی برسی کے اجتماعات منعقد ہورہے ہیں۔ اسی سلسلے میں شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام شہید قاسم سلیمانی کی برسی کی ایک تقریب خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئی، یہ تقریب مرکزی حیدریہ امام بارگاہ ڈیرہ میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے آغاز میں شہید مقاومت و شہدائے حریت کی بلندی درجات کے لئے قرآن پاک کی تلاوت کی گئی، جس میں خاص طور پر نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سید صائم رضا نقوی نے نعت رسول مقبول اور شہدائے مقاومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اشعار پڑھے۔ برسی کی تقریب سے شیعہ علماء کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر مولانا کرامت علی حیدری، مولانا غلام جعفر مرتضوی، مولانا اختر عباس یزدانی نے شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی اور مظلومین جہاں کی حمایت اور دفاع قدس کے لیے خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مولانا کرامت علی حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید سردار قاسم سلیمانی کا وجود امریکہ جیسے فرعون کے لیے خطرہ کی علامت بن چکا تھا، وہ رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے بااعتماد ساتھی اور ایرانی افواج کے عظیم سپاہ سالار تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید سلیمانی اپنی جوانی سے ہی انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں عملاً شریک رہے اور ایک فعال و متحرک رکن کے طور پر انقلاب برپا کرنے والوں میں شامل رہے۔ شہید سلیمانی کی جہادی صلاحیت انہیں منفرد اور ممتاز مقام دلواتی ہے۔ شہید سلیمانی جس انداز میں آگے بڑھ رہے تھے اور اسلام و ایران دشمنوں کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دے رہے تھے اس کا تقاضا تھا کہ دشمن بھی انہیں اپنی آنکھ کا کانٹا سمجھیں اور اپنے مکروہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھیں۔ کیونکہ قاسم سلیمانی نے امریکہ و اسرائیل اور دنیا بھر کے تکفیریوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ مولانا غلام جعفر مرتضوی نے برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقامات مقدسہ کو شدت پسند تکفیریوں کی نجاست سے دور کرنا اور شام کو محفوظ بنانا یہ سارے کے سارے کارنامے شہید سلیمانی کے نام ہیں۔ آج غزہ، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں امن و استحکام نظر آتا ہے وہ شہید سلیمانی کا مرہون منت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف فداکار جنگجو تھے اور بلاخوف موت میدان میں وارد اور موجود رہتے تھے، خود شہید ہونا یا دشمن کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرانا سلیمانی کے لیے ایک دلچسپ مشغلہ تھا۔ شہید سلیمانی اور ان کے باوفا ساتھیوں نے ایران کو داخلی سطح پر بہت زیادہ محفوظ کر لیا تھا، جس کے بعد عالمی دشمن سے لے کر مقامی ایجنٹوں تک ہر دشمن ناکام ہوا اور سلیمانی کو فتح حاصل ہوئی۔ لبنان میں حزب اللہ جیسی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قوت کے ساتھ ہمکاری اور حزب اللہ کو بام عروج تک پہنچانے کے تمام مراحل میں شہید سلیمانی کا کردار نمایاں ہے۔ مولانا اختر عباس یزدانی نے کہا کہ یمن میں انصاراللہ جیسی طاقت کی پشتیبانی اور اسے بڑی طاقتوں کے خلاف میدان میں اتارنے کے پس منظر میں شہید سلیمانی کا نام سرفہرست ہے، عراق میں مزاحمت کا نشان ہی شہید کے ساتھ مختص ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ داعش جیسی درندہ صفت منفی قوت کو شکست فاش سے دوچار کرنا اور عراق کی سرزمین کو داعش کی غلاظت سے پاک کرنا شہید سلیمانی کا خاصہ ہے۔ اس کے بعد عراق کو عالمی شیطان امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شہید سلیمانی کا کردار بھی روشن نظر آتا ہے۔ آج بھی شہید سلیمانی کی منصوبہ سازی کے مطابق جدوجہد جاری ہے اور قاسم سلیمانی کا نام ہی مزاحمت کاروں کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ شہید مقاومت سردار جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب میں نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے شہید جنرل کو اپنی آئیڈیل شخصیت قرار دیا ہے۔ تقریب کے آخر میں شہید مقاومت، شہدائے قدس، شہدائے ملت جعفریہ پاکستان کے فاتحہ خوانی اور دعا مغفرت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید سلیمانی کا قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب شہید مقاومت کرتے ہوئے میں شہید کی برسی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔