Islam Times:
2026-07-24@15:11:30 GMT

ڈیرہ اسماعیل خان، برسی شہید سلیمانی کی تقریب

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

ڈیرہ اسماعیل خان، برسی شہید سلیمانی کی تقریب

اسلام ٹائمز: مولانا غلام جعفر مرتضوی نے برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقامات مقدسہ کو شدت پسند تکفیریوں کی نجاست سے دور کرنا اور شام کو محفوظ بنانا یہ سارے کے سارے کارنامے شہید سلیمانی کے نام ہیں۔ آج غزہ، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں امن و استحکام نظر آتا ہے وہ شہید سلیمانی کا مرہون منت ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

بعض افراد کی شخصیت اس قدر طلسماتی ہوتی ہے کہ ان کی محبت سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مسلک و قومیت بھی ایسے لوگوں کیلئے اہمیت نہیں رکھتی۔ ایسی ہی ایک شخصیت حاج قاسم سلیمانی کی ہے، ایسے لوگ خدا شائد صدیوں میں پیدا کرتا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کو چھ برس گزر چکے ہیں، تاہم انکی یاد انکے چاہنے والوں کے دلوں میں ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہیں، یہی وجہ ہے کہ رواں ماہ شہید کی برسی کی مناسبت سے مخصوص ہے، پاکستان میں تواتر کیساتھ شہید کی برسی کے اجتماعات منعقد ہورہے ہیں۔ اسی سلسلے میں شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام شہید قاسم سلیمانی کی برسی کی ایک تقریب خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئی، یہ تقریب مرکزی حیدریہ امام بارگاہ ڈیرہ میں منعقد ہوئی۔

تقریب کے آغاز میں شہید مقاومت و شہدائے حریت کی بلندی درجات کے لئے قرآن پاک کی تلاوت کی گئی، جس میں خاص طور پر نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سید صائم رضا نقوی نے نعت رسول مقبول اور شہدائے مقاومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اشعار پڑھے۔ برسی کی تقریب سے شیعہ علماء کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر مولانا کرامت علی حیدری، مولانا غلام جعفر مرتضوی، مولانا اختر عباس یزدانی نے شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی اور مظلومین جہاں کی حمایت اور دفاع قدس کے لیے خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مولانا کرامت علی حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید سردار قاسم سلیمانی کا وجود امریکہ جیسے فرعون کے لیے خطرہ کی علامت بن چکا تھا، وہ رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے بااعتماد ساتھی اور ایرانی افواج کے عظیم سپاہ سالار تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہید سلیمانی اپنی جوانی سے ہی انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں عملاً شریک رہے اور ایک فعال و متحرک رکن کے طور پر انقلاب برپا کرنے والوں میں شامل رہے۔ شہید سلیمانی کی جہادی صلاحیت انہیں منفرد اور ممتاز مقام دلواتی ہے۔ شہید سلیمانی جس انداز میں آگے بڑھ رہے تھے اور اسلام و ایران دشمنوں کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دے رہے تھے اس کا تقاضا تھا کہ دشمن بھی انہیں اپنی آنکھ کا کانٹا سمجھیں اور اپنے مکروہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھیں۔ کیونکہ قاسم سلیمانی نے امریکہ و اسرائیل اور دنیا بھر کے تکفیریوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ مولانا غلام جعفر مرتضوی نے برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقامات مقدسہ کو شدت پسند تکفیریوں کی نجاست سے دور کرنا اور شام کو محفوظ بنانا یہ سارے کے سارے کارنامے شہید سلیمانی کے نام ہیں۔ آج غزہ، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں امن و استحکام نظر آتا ہے وہ شہید سلیمانی کا مرہون منت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف فداکار جنگجو تھے اور بلاخوف موت میدان میں وارد اور موجود رہتے تھے، خود شہید ہونا یا دشمن کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرانا سلیمانی کے لیے ایک دلچسپ مشغلہ تھا۔ شہید سلیمانی اور ان کے باوفا ساتھیوں نے ایران کو داخلی سطح پر بہت زیادہ محفوظ کر لیا تھا، جس کے بعد عالمی دشمن سے لے کر مقامی ایجنٹوں تک ہر دشمن ناکام ہوا اور سلیمانی کو فتح حاصل ہوئی۔ لبنان میں حزب اللہ جیسی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قوت کے ساتھ ہمکاری اور حزب اللہ کو بام عروج تک پہنچانے کے تمام مراحل میں شہید سلیمانی کا کردار نمایاں ہے۔ مولانا اختر عباس یزدانی نے کہا کہ یمن میں انصاراللہ جیسی طاقت کی پشتیبانی اور اسے بڑی طاقتوں کے خلاف میدان میں اتارنے کے پس منظر میں شہید سلیمانی کا نام سرفہرست ہے، عراق میں مزاحمت کا نشان ہی شہید کے ساتھ مختص ہو چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ داعش جیسی درندہ صفت منفی قوت کو شکست فاش سے دوچار کرنا اور عراق کی سرزمین کو داعش کی غلاظت سے پاک کرنا شہید سلیمانی کا خاصہ ہے۔ اس کے بعد عراق کو عالمی شیطان امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شہید سلیمانی کا کردار بھی روشن نظر آتا ہے۔ آج بھی شہید سلیمانی کی منصوبہ سازی کے مطابق جدوجہد جاری ہے اور قاسم سلیمانی کا نام ہی مزاحمت کاروں کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ شہید مقاومت سردار جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب میں نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے شہید جنرل کو اپنی آئیڈیل شخصیت قرار دیا ہے۔ تقریب کے آخر میں شہید مقاومت، شہدائے قدس، شہدائے ملت جعفریہ پاکستان کے فاتحہ خوانی اور دعا مغفرت کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہید سلیمانی کا قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب شہید مقاومت کرتے ہوئے میں شہید کی برسی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت