ڈیرہ اسماعیل خان، شہید قاسم سلیمانی کی برسی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: برسی کی تقریب سے شیعہ علماء کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر مولانا کرامت علی حیدری، مولانا غلام جعفر مرتضوی اور مولانا اختر عباس یزدانی نے شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی اور مظلومین جہاں کی حمایت اور دفاع قدس کے لیے ان کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
ڈیرہ اسماعیل خان، شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شہید مقاومت سردار جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سید صائم رضا نقوی نے نعت رسول مقبول اور شہدائے مقاومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اشعار پڑھے۔ برسی کی تقریب سے شیعہ علماء کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر مولانا کرامت علی حیدری، مولانا غلام جعفر مرتضوی اور مولانا اختر عباس یزدانی نے شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی اور مظلومین جہاں کی حمایت اور دفاع قدس کے لیے ان کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سردار قاسم سلیمانی کا وجود امریکہ جیسے فرعون کے لیے خطرہ کی علامت بن چکا تھا، وہ رہبر معظم کے بااعتماد ساتھی اور ایرانی افواج کے عظیم سپاہ سالار تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید مقاومت جنرل قاسم سلیمانی کی برسی ڈیرہ اسماعیل خان
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔