اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان کے شمالی علاقوں میں پائی جانے والی قیمتی اور لذیذ ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف مقامی معیشت کا اہم ذریعہ ہے بلکہ علاقے کے ماحولیاتی توازن میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: دریائے نیلم کی ٹراؤٹ مچھلی میں جینیاتی تبدیلی کا انکشاف
اسکردو سمیت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ٹراؤٹ فارمنگ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، تاہم رواں سال موسمیاتی تبدیلی اور غیر یقینی موسمی حالات نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم برف باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹراؤٹ مچھلی کی بریڈنگ اور افزائش پر پڑ رہا ہے۔
پانی کی قلت کے باعث مچھلیوں میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بعض فارموں میں پیداواری صلاحیت بھی کم ہو گئی ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کے لیے زیادہ تر مصنوعی بریڈنگ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جو مخصوص درجہ حرارت اور صاف پانی کا متقاضی ہوتا ہے۔ مگر بدلتے موسمی حالات نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے، جس سے مقامی فارمرز کو معاشی نقصان کا سامنا ہے۔
دوسری جانب محکمہ فشریز کی جانب سے ٹراؤٹ فارمنگ کو بچانے اور فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کی مچھلی سکھر میں پکڑی گئی، ماہرین کو تشویش لاحق
اسکردو میں محکمہ فشریز نے جدید تکنیک کے ذریعے بیرون ملک سے اعلیٰ معیار کی ٹراؤٹ مچھلیاں منگوا کر بریڈنگ کا عمل شروع کر دیا ہے، تاکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکردو ٹراؤٹ مچھلی گلگت بلتستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹراؤٹ مچھلی گلگت بلتستان وی نیوز ٹراؤٹ مچھلی کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔