8 فروری احتجاج کی کال واپس نہیں لینگے، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے واضح کیا ہے کہ 8 فروری کے احتجاج کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اوردباؤ کے باوجود پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اپوزیشن لیڈرز نے کہا کہ حالات کے پیش نظرجیل بھرو تحریک شروع کرنے کا امکان بھی موجود ہے، ابھی یہ تحریک اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اورآگے مزید مراحل باقی ہیں، جن کیلئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔
8 فروری کو قوم باہر نکلے، یہ ووٹ، جمہوریت اور آزادی کی جنگ ہے، سلمان اکرم راجہ
انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی بالادستی کیلئے آواز بلند کرنا ناگزیرہوچکا ہے، ملک میں جمہوری اقدارکو مضبوط بنانے کیلئے ہرممکن اقدام کیا جائے گا اورعوام کواس جدوجہد میں ساتھ لے کرچلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں، یہ صرف آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں تحریک مزید وسعت اختیار کرے گی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے متحد ہو کر اپنا کردارادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔