پدم بھوشن ایواڈ یافتہ شخص نے جمہوریت اور آئین کا قتل کیا تھا، سنجے راؤت
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
مودی حکومت نے 25 جنوری کو اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلٰی بھگت سنگھ کوشیاری کو "پدم بھوشن" ایوارڈ دینے کا اعلان کیا، کوشیاری 2019ء سے 2023ء تک مہاراشٹر کے گورنر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو "پدم بھوشن" ایوارڈ دیے جانے پر اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھگت سنگھ کوشیاری نے ادھو ٹھاکرے کی ایم وی اے حکومت کو گرا کر ریاست میں جمہوریت اور آئین کا قتل کیا ہے، اس لئے انہیں "پدم بھوشن" ایوارڈ سے سرفراز نہیں کیا جانا چاہیئے تھا۔ دراصل مودی حکومت نے 25 جنوری کو اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلٰی اور مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو "پدم بھوشن" ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ بھگت سنگھ کوشیاری 2019ء سے 2023ء تک مہاراشٹر کے گورنر رہے ہیں۔
اس دوران ان کی کارکردگی پر کئی بار سوال اٹھائے گئے۔ اسی تعلق سے سنجے راؤت نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلٰی دیویندر فڑنویس اور نائب وزرائے اعلیٰ اجیت پوار و ایکناتھ شندے سمیت مہایوتی حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ کوشیاری کو پدم بھوشن دینے کے فیصلہ کی مذمت کرے۔ انہیں یہ قدم اٹھانا چاہیئے کیونکہ کوشیاری نے چھترپتی شیواجی مہاراج اور سماجی مصلح مہاتما پھولے و ساوتری بھائی پھولے کی بے عزتی کی تھی۔
سنجے راؤت نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھگت سنگھ کوشیاری نے مہاراشٹر کا گورنر رہتے ہوئے جمہوریت اور آئین کا قتل کیا تھا، انہوں نے ادھو ٹھاکرے کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ کوشیاری نے گورنر کے طور پر اپنی مدت کار میں غیر قانونی کام کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے کی اکثریت والی حکومت کو گرا کر کوشیاری ریاست میں بی جے پی حکومت لانا چاہتے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ بھگت سنگھ کوشیاری جب مہاراشٹر کے گورنر تھے تو کئی تنازعات کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ جب ادھو ٹھاکرے وزیراعلیٰ تھے، تو کوشیاری پر بطور گورنر "اوور ایکٹیو" (ضرورت سے زیادہ فعال) ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور بتایا تھا کہ ریاستی حکومت کی سفارش کے باوجود انہوں نے ریاستی قانون ساز کونسل کی 12 خالیں سیٹیں نہیں بھری تھیں۔ سابق گورنر کو چھترپتی شیواجی مہاراج کو پرانے وقت کا "آئیکن" بتانے والے اپنے بیان پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے کوشیاری کو کوشیاری نے سنجے راو ت پدم بھوشن انہوں نے حکومت کو کے سابق کیا تھا
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔