فرسودہ نظام و کرپٹ قیادت سے نجات ہی مسائل کا حل ہے،کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-08-26
کراچی( اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے سندھ سمیت ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پراظہار تشویش اوراسے حکومتی نااہلی اورمعاشی ترقی کے دعویدارشہباز شریف حکومت کے منہ پرطمانچہ قراردیا ہے۔انہوں نے آج ایک بیان میں کہاکہ حکومتی سرپرستی میں آٹا مافیانے عوام کا زندہ رہنا بھی مشکل بنادیا ہے ۔عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔کاشتکاروں سے 2000روپے من گندم خریدی گئی مگرمیڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی نااہلی کی وجہ سے ملک کے بعض شہروں میں آج20کلو آٹے کا تھیلا تین ہزار تک پہنچ گیا ۔ پیٹرول سے لیکر آٹے تک حکومت غریب کاشتکاروں اورعام آدمی کو کسی قسم کا ریلیف دینے کے بجائے آٹا مافیا وسرمایہ داروں کو دے رہی ہے کیونکہ حکومت میں وہی جاگیردار،وڈیرے اورسرمایہ دار بیٹھے ہیں۔ان کی پارٹیا اورجھنڈے ضرور الگ الگ ہوتے ہیں لیکن چوربازری سے لیکرمفادپرستانہ سیاست تک اندر سے ایک ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دستاویز کے مطابق پاکستان کو موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 280 ارب روپے زیادہ بیرونی قرضہ حاصل ہوا۔ جولائی تا دسمبر قرض اور گرانٹ کی مد میں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے موصول ہوئے۔ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے۔بھیک و قرضوں سے ملک ومعیشت نہیں چلتی۔اس کے باوجود غربت وافلاس میں اضافہ عام آدمی کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔پی آئی اے سمیت ملک کے قومی ادارے فروخت کئے جارہے ہیں مگرحکمرانوں کی عیاشیوں وشاہانہ طرززندگی میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔اس لییفرسودہ نظام کی تبدیلی وکرپٹ قیادت سے نجات ہی مسائل کا حل ہے۔انہوں نے زوردیا کہ آٹے سمیت خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول ،ذخیراندوزمافیاکو قانون کی پکڑمیں لایا جائے اورعام آدمی کی زندگی بہتربنانے کے لیے کرپشن فری اقدامات کئے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔