منوڑہ میں ڈوبنے والے ایک اور ماہی گیر کی لاش نکال لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی:
منوڑہ میں ڈوبنے والے ایک اور ماہی گیر کی لاش سمندر سے نکال لی گئی۔
ڈاکس تھانے کے علاقے منوڑہ سمندرمیں ڈوبنے والے ماہی گیروں کی تلاش میں آج بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا اورآپریشن کے دوران ایک اور ماہی گیرکی لاش سمندر سے نکالنے کے بعد قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردی گئی۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک چار ماہی گیروں میں سے 2 ماہی گیروں کی لاشیں سرچ آپریشن کے دوران نکالی جا چکی ہیں جن کی شناخت ہارون ولد سلیم اورمحمد حسین ولد رحمان کے نام سے کی گئی، لا پتہ 2 ماہی گیروں کی تلاش میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہی گیروں
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔