معذوری کا بہانہ بے نقاب: برطانیہ میں قید سے بچنے والا مجرم باکسنگ مقابلے میں پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کارڈف:برطانیہ میں معذوری کا بہانہ بنا کر جیل سے بچنے والے ایک مجرم کا جھوٹ اس وقت کھل کر سامنے آگیا جب وہ ایک باکسنگ مقابلے میں پوری جسمانی فِٹنس کے ساتھ لڑتا ہوا پکڑا گیا۔ عدالت نے واقعے کو عدالتی نظام سے دھوکا قرار دیتے ہوئے مجرم کو قید اور طویل پابندی کی سزا سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویلز کے شہر کارڈف سے تعلق رکھنے والا 31 سالہ اینٹن بوسٹن غیر قانونی طور پر کتوں کی افزائش (بریڈنگ) میں ملوث تھا۔ اینٹن بوسٹن نے عدالت میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے چھ کتوں کے کان غیر قانونی طریقے سے کاٹے جو برطانیہ میں جانوروں پر ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
اینٹن بوسٹن نے خود کو کرونز بیماری میں مبتلا ظاہر کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہے اور جیل میں رہنے کے قابل نہیں۔ 2020 میں جرم کا اعتراف کرنے کے باوجود ایک جج نے طبی بنیادوں پر ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے قید سے مستثنیٰ قرار دے دیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق اینٹن بوسٹن نہ صرف اپنا غیر قانونی کاروبار جاری رکھے ہوئے تھا بلکہ حال ہی میں اسے ایک باقاعدہ باکسنگ مقابلے میں شریک ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ پراسیکیوٹنگ وکیل لی رینلڈز نے عدالت کو بتایا کہ جس شخص نے خود کو شدید معذور ظاہر کیا، اس کی باکسنگ رنگ میں سرگرمی اور جسمانی طاقت اس دعوے کے بالکل برعکس تھی۔
ادھر مجرم کے پڑوسیوں نے اس کے گھر سے شدید بدبو آنے پر پولیس کو شکایت درج کرائی، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اینٹن بوسٹن جانوروں کو انتہائی خراب اور غیر انسانی حالات میں رکھ رہا تھا، جس پر اس کے خلاف مزید الزامات عائد کیے گئے۔
عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں اینٹن بوسٹن کو تین سال قید کی سزا سناتے ہوئے 15 برس تک کتے پالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ عدالتی نظام کو دھوکا دینا اور جانوروں پر ظلم کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے جرائم پر سخت سزائیں ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اینٹن بوسٹن
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔