اُبلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن گھٹانے کے لیے کون سا بہتر؟ ماہرین کی رائے جانیے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
انڈے ناشتے کی میز پر برسوں سے موجود ہیں اور انہیں غذائیت سے بھرپور غذا مانا جاتا ہے۔ کوئی انہیں اُبال کر کھانا پسند کرتا ہے تو کوئی آملیٹ کی شکل میں۔
دونوں ہی صورتوں میں جسم کو پروٹین ملتا ہے، مگر جب بات وزن کم کرنے کی ہو تو پکانے کے طریقے اور شامل کیے جانے والے اجزا بڑی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی فرق کو سمجھنے کے لیے ماہرین غذائیت دونوں انداز کے سائنسی پہلوؤں پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اُبلا ہوا انڈا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے تیار کرتے وقت نہ تیل شامل کیا جاتا ہے اور نہ دودھ یا مصالحہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔
ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں اوسطاً 6 سے 6.
تحقیق بتاتی ہے کہ ناشتے میں انڈے کھانے سے دیر تک پیٹ بھرا رہتا ہے اور اگلے کئی گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال ہوتی ہیں، اسی لیے وزن کم کرنے والوں کے لیے یہ ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد انتخاب مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُبلے انڈے میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین جیسے اہم غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
دوسری جانب آملیٹ ذائقے کے لحاظ سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر پروٹین کی مقدار وہی رہتی ہے جو اُبلے انڈے میں ہوتی ہے، تاہم اس کی مجموعی غذائیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اسے کس طرح تیار کیا گیا ہے۔
اگر کم تیل استعمال کیا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے جو فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی فراہم کرتی ہے۔ البتہ زیادہ تیل، پنیر یا پروسیسڈ گوشت شامل کرنے سے کیلوریز اور سیر شدہ چکنائی تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جو وزن کم کرنے کے ہدف کو متاثر کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کیلوریز پر سخت نظر رکھنا چاہتا ہے تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے کیونکہ اس میں اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی اور مقدار کا اندازہ لگانا بھی آسان ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا سبزیوں سے بھرپور آملیٹ زیادہ حجم فراہم کرتا ہے، جس سے پیٹ بھرنے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور غیر ضروری اسنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
اسی لیے بعض غذائی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دونوں طریقوں کو اپنی ضروریات اور روزمرہ کے معمول کے مطابق باری باری استعمال کیا جائے تاکہ ذائقہ بھی برقرار رہے اور صحت کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاتا ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ