انڈے ناشتے کی میز پر برسوں سے موجود ہیں اور انہیں غذائیت سے بھرپور غذا مانا جاتا ہے۔ کوئی انہیں اُبال کر کھانا پسند کرتا ہے تو کوئی آملیٹ کی شکل میں۔

دونوں ہی صورتوں میں جسم کو پروٹین ملتا ہے، مگر جب بات وزن کم کرنے کی ہو تو پکانے کے طریقے اور شامل کیے جانے والے اجزا بڑی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی فرق کو سمجھنے کے لیے ماہرین غذائیت دونوں انداز کے سائنسی پہلوؤں پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اُبلا ہوا انڈا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے تیار کرتے وقت نہ تیل شامل کیا جاتا ہے اور نہ دودھ یا مصالحہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔ 

ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں اوسطاً 6 سے 6.

3 گرام مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو جسم کو تمام ضروری امینو ایسڈ فراہم کرتا ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ناشتے میں انڈے کھانے سے دیر تک پیٹ بھرا رہتا ہے اور اگلے کئی گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال ہوتی ہیں، اسی لیے وزن کم کرنے والوں کے لیے یہ ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد انتخاب مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُبلے انڈے میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین جیسے اہم غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

دوسری جانب آملیٹ ذائقے کے لحاظ سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر پروٹین کی مقدار وہی رہتی ہے جو اُبلے انڈے میں ہوتی ہے، تاہم اس کی مجموعی غذائیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اسے کس طرح تیار کیا گیا ہے۔

اگر کم تیل استعمال کیا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے جو فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی فراہم کرتی ہے۔ البتہ زیادہ تیل، پنیر یا پروسیسڈ گوشت شامل کرنے سے کیلوریز اور سیر شدہ چکنائی تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جو وزن کم کرنے کے ہدف کو متاثر کرسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کیلوریز پر سخت نظر رکھنا چاہتا ہے تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے کیونکہ اس میں اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی اور مقدار کا اندازہ لگانا بھی آسان ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا سبزیوں سے بھرپور آملیٹ زیادہ حجم فراہم کرتا ہے، جس سے پیٹ بھرنے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور غیر ضروری اسنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

اسی لیے بعض غذائی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دونوں طریقوں کو اپنی ضروریات اور روزمرہ کے معمول کے مطابق باری باری استعمال کیا جائے تاکہ ذائقہ بھی برقرار رہے اور صحت کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاتا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام کے بعد باضابطہ طور پر ’ٹیم آف دی ٹورنامنٹ‘ کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیفا کی ’ٹیم آف دی ٹورنامنٹ‘ میں نئی عالمی چیمپئن اسپین کے سب سے زیادہ تین کھلاڑیوں کو جگہ دی گئی ہے۔

4-3-3 فارمیشن پر مشتمل اس بہترین الیون میں مجموعی طور پر سات مختلف ممالک کے کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقدہ میگا ایونٹ کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اسپین کی جانب سے دفاعی کھلاڑی مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو کے ساتھ مڈفیلڈر روڈری کو منتخب کیا گیا جنہوں نے ٹیم کو عالمی ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

فائنل میں شکست کھانے والی ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی کو فارورڈ لائن میں جبکہ دفاعی کھلاڑی لیسانڈرو مارٹینیز کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا۔

فرانس کے کائلیان ایمباپے، مائیکل اولیسے اور ڈیوٹ اپامیکانو بھی بہترین الیون کا حصہ بنے جبکہ انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم نے مڈفیلڈ میں جگہ حاصل کی۔

ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ کو مرکزی اسٹرائیکر منتخب کیا گیا جبکہ کیپ وردے کے گول کیپر ووزینہا اپنی غیرمعمولی گول کیپنگ کی بدولت ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں شامل ہونے میں کامیاب رہے۔

Your FIFA Dream XI is here ⭐

Your favourite players, chosen by fans around the world. This is the FIFA Dream XI powered by @aramco#FIFAWorldCup #DreamXI

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) July 22, 2026

 

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار