Express News:
2026-07-24@12:43:24 GMT

ڈاکٹر ، مریض ابلاغ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

ایک حالیہ خبر کے مطابق صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کا وقت اور ان کی دیکھ بھال ڈاکٹروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے لہٰذا اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت پنجاب کے اس فیصلے پر گو کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اچھا رد عمل نہیں آ رہا ہے تاہم عوام کی ایک تعداد اس فیصلے کو خوش آئند بھی قرار دے رہی ہے۔ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ کافی حد تک بہتر ہے کیونکہ دوران ڈرائیونگ فون کے استعمال پر اس لیے پابندی ہوتی ہے کہ کہیں ذرا سا دھیان ادھر ، ادھر ہونے سے کوئی حادثہ نہ ہو جائے، کسی کا جانی نقصان نہ ہو جائے تو اس تناظر میں ایمرجنسی وارڈ وغیرہ میں بھی مریضوں کی زندگی کا معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔

بہرکیف اب موبائل فون ہم سب کی زندگی میں آکسیجن کی طرح اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ ہم اس کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں گزار سکتے۔ اس کا استعمال ڈاکٹر اور مریض کے تبادلہ خیال (کمیونیکیشن) میں بھی اکثر منفی ماحول پیدا کرتا ہے۔ ماضی میں جب یہ جدید موبائل نہیں تھا تب بھی مریضوں کو یہ عام شکایت تھی کہ ڈاکٹرز حضرات اپنے مریضوں سے اس کی کیفیت بھی پوری طرح نہیں سنتے، فی مریض بمشکل ایک آدھ منٹ ہی وقت دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے سب سے پہلے یہی بات کہتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر صاحب! آپ بے شک مجھ سے ڈبل فیس لے لیں، لیکن تھوڑا وقت دے دیں تاکہ میں اپنی کیفیت تفصیل کے ساتھ آپ کو بتا سکوں۔‘‘

اسی حوالے سے میرے بچپن کی یادیں ہیں کہ میں جب بھی ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا تو ایک عجیب معاملہ دیکھتا تھا۔ ہمارے محلے کے یہ ڈاکٹر صاحب ہر آنے والے کے منہ میں فوراً ایک تھرما میٹر ڈال دیتے اور اس کے بعد مریض سے سوال کرنا شروع کر دیتے ، ’’یہ بتائیے! آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے؟ یہ بتائیے آپ کو سردی لگ رہی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے (جب ہم بیمار ہو کر ان کے پاس پہنچے تو) یہی معاملہ ہمارے ساتھ کیا ہم چونکہ بچے تھے، لہٰذا فوراً بول پڑے اور ان کا تھرما میٹر نیچے گر گیا، ڈاکٹر صاحب عجیب نظروں سے ہمیں گھورنے لگے۔

ڈاکٹر اور مریض کا ابلاغ یعنی بات چیت ایک عجیب ہی معاملہ ہے آج کل کے جدید ڈاکٹر تو کچھ نرالے ہی ہیں پہلے ان کا اسسٹنٹ مریض کو دیکھتا ہے، اچھی طرح سے پوری ہسٹری پوچھتا ہے، ایک فائل پر لکھ دیتا ہے پھر مزید سوالات کرتا ہے اور وہ بھی نوٹ کرتا جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کا انتظار کرنے کو کہتا ہے، ڈاکٹر اپنے کیبنٹ میں کسی اور مریض کو دیکھ رہا ہوتا ہے، آنے والے مریض کو کسی برابر والے کیبنٹ میں بٹھا دیا جاتا ہے اور جب ڈاکٹر صاحب اپنے پہلے مریض سے فارغ ہوتے ہیں تو خود چل کر اگلے مریض کے کیبنٹ میں آ جاتے ہیں اور پھر فائل پڑھتے رہتے ہیں اور فائل پڑھنے کے بعد بہ مشکل کوئی ایک سوال مریض سے پوچھتے ہیں اور پھر دوائی لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ دوائی استعمال کر لیجیے گا۔

اب مریض نے دوا کے استعمال کی تفصیل معلوم کرنی ہو یا کچھ اور بات کرنی ہو، یہ ڈاکٹر صاحب فوراً ہی برابر والے دوسرے کیبن میں اگلے مریض کو دیکھنے چلے جاتے ہیں اور پہلا مریض منہ تکتا رہ جاتا ہے کہ وہ دل میں کیا کیا سوچ کر بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر سے فلاں فلاں باتیں پوچھنی ہیں۔ اب اگر کسی مریض کو اپنے اس قسم کی تمام باتوں کے جوابات چاہیے ہوں تو اس کے لیے ان ڈاکٹر کا کوئی اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے جو مریض کو تمام سوالوں کے جوابات دیتا ہے، مگر مریض کا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ میں نے تو جس ڈاکٹر کے لیے اتنی بڑی فیس دی اور کئی ہفتوں یا مہینوں پہلے اپائنمنٹ لیا، میرے سوالوں کا جواب تو اس ڈاکٹر کو ہی دینا چاہیے۔

سرکاری اسپتال میں تو ڈاکٹر مریض کو بہت ہی کم ٹائم دیتے ہیں جس کی ایک وجہ وہاں کا رش ہے لیکن یہاں جب مریض اپنی کیفیت بتانا شروع کرتا ہے تو اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر پرچی لکھ کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے کہ جاؤ۔۔۔۔! کہتے ہیں کہ مریض کی بات سننے سے ہی اس کا آدھا مرض دور ہو جاتا ہے مگر ہمارے ہاں تو ڈاکٹر مریض کو سننا ہی پسند نہیں کرتا۔

ڈاکٹر کا مریض کو مناسب ٹائم نہ دینا اور اس کی بات پوری طرح سے نہ سننا آج کے دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ جب ڈاکٹر اور مریض کا باہمی رابطہ (یعنی تبادلہ خیال ہی) درست نہ ہو تو ڈاکٹر کی دی گئی دوائی کیسے درست ہو سکتی ہے اور مریض کیسے بیماری سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟ عموماً تو مریض کو یہ تفصیل بتائی نہیں جاتی کہ آپ نے دوائی کب اور کیسے کھانی ہے، عموماً مریض میڈیکل اسٹور والے سے پوچھ کر الٹی سیدھی ٹائمنگ سے دوا کھا لیتا ہے۔

بہر کیف مریض اور ڈاکٹر کے مابین ابلاغ (تبادلہ خیال) کے پہلے ہی بڑے مسائل موجود تھے ، جدید موبائل جب سے زندگی کا لازمی حصہ بنا ہے مزید مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ راقم کے خیال میں اس جدید ٹیکنالوجی سے ان مسائل کو کم کرنے میں مدد بھی لی جا سکتی ہے مثلاً کوئی بھی ڈاکٹر اپنے موبائل پر اے آئی ایپ پر صرف یہ سوال لکھے کہ ’’ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان ابلاغ (کمیونیکیشن) کے مسائل کیا ہیں؟‘‘ تو جواب میں چند اہم ترین مسائل جو سامنے آئیں گے وہ یہ ہوں گے۔

1۔ زبان اور اصطلاحات کا فرق

 2۔ وقت کی کمی

 3۔اعتماد کی کمی

 4۔ سماجی اور تعلیمی فرق

 5۔ جذباتی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا

ویسے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، محض ’’کامن سینس‘‘ کی بات ہے۔ جیسے ڈاکٹر کے مقابلے میں ایک عام شخص میڈیکل کی اصطلاح نہیں سمجھ سکتا خاص کر جب کوئی پیچیدہ بیماری کا معاملہ ہو، لہٰذاایسے میں ڈاکٹر کی ذمے داری ہے کہ وہ عام اور آسان زبان میں اچھی طرح مریض کو اپنی بات سمجھائے اس میں بہ مشکل چند منٹ لگ سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کی بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایک مریض کو کم از کم اتنا تو وقت دیا جائے کہ وہ اپنی مکمل کیفیت ڈاکٹر کو بیان کر سکے، اگر ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا تو پھر سارا پروسیس ہی بیکار ہو جائے گا، مریض کو شفا کیسے ملے گی؟ سماجی اور تعلیمی فرق بھی مریض اور ڈاکٹر کی باہمی گفتگو سمجھنے میں مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، یہ بات ڈاکٹر حضرات کو ضرور سمجھنی چاہیے۔

ان سب مسائل میں ایک اہم ترین مسئلہ جذباتی پہلو کا بھی ہوتا ہے اور یہ خصوصاً بزرگوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بزرگ مریضوں کو ڈاکٹر کی دوا سے زیادہ ان کی توجہ اور شفقت بھرے لہجے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بزرگ مریضوں سے ڈاکٹر حضرات اچھی طرح پیش آئیں، ان کی باتیں سکون سے سنیں تو ان کا یہ طرز عمل ہی بزرگ مریضوں کے لیے ایک بہترین دوا ثابت ہوگا۔ دعا ہے کہ میری یہ گزارشات زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کے دل میں گھر کر جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر کی اور مریض تو ڈاکٹر ڈاکٹر کے جاتا ہے ہوتا ہے مریض کو ہیں اور کی بات کے بعد ہے اور ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک