ایک حالیہ خبر کے مطابق صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کا وقت اور ان کی دیکھ بھال ڈاکٹروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے لہٰذا اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت پنجاب کے اس فیصلے پر گو کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اچھا رد عمل نہیں آ رہا ہے تاہم عوام کی ایک تعداد اس فیصلے کو خوش آئند بھی قرار دے رہی ہے۔ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ کافی حد تک بہتر ہے کیونکہ دوران ڈرائیونگ فون کے استعمال پر اس لیے پابندی ہوتی ہے کہ کہیں ذرا سا دھیان ادھر ، ادھر ہونے سے کوئی حادثہ نہ ہو جائے، کسی کا جانی نقصان نہ ہو جائے تو اس تناظر میں ایمرجنسی وارڈ وغیرہ میں بھی مریضوں کی زندگی کا معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔
بہرکیف اب موبائل فون ہم سب کی زندگی میں آکسیجن کی طرح اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ ہم اس کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں گزار سکتے۔ اس کا استعمال ڈاکٹر اور مریض کے تبادلہ خیال (کمیونیکیشن) میں بھی اکثر منفی ماحول پیدا کرتا ہے۔ ماضی میں جب یہ جدید موبائل نہیں تھا تب بھی مریضوں کو یہ عام شکایت تھی کہ ڈاکٹرز حضرات اپنے مریضوں سے اس کی کیفیت بھی پوری طرح نہیں سنتے، فی مریض بمشکل ایک آدھ منٹ ہی وقت دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے سب سے پہلے یہی بات کہتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر صاحب! آپ بے شک مجھ سے ڈبل فیس لے لیں، لیکن تھوڑا وقت دے دیں تاکہ میں اپنی کیفیت تفصیل کے ساتھ آپ کو بتا سکوں۔‘‘
اسی حوالے سے میرے بچپن کی یادیں ہیں کہ میں جب بھی ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا تو ایک عجیب معاملہ دیکھتا تھا۔ ہمارے محلے کے یہ ڈاکٹر صاحب ہر آنے والے کے منہ میں فوراً ایک تھرما میٹر ڈال دیتے اور اس کے بعد مریض سے سوال کرنا شروع کر دیتے ، ’’یہ بتائیے! آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے؟ یہ بتائیے آپ کو سردی لگ رہی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے (جب ہم بیمار ہو کر ان کے پاس پہنچے تو) یہی معاملہ ہمارے ساتھ کیا ہم چونکہ بچے تھے، لہٰذا فوراً بول پڑے اور ان کا تھرما میٹر نیچے گر گیا، ڈاکٹر صاحب عجیب نظروں سے ہمیں گھورنے لگے۔
ڈاکٹر اور مریض کا ابلاغ یعنی بات چیت ایک عجیب ہی معاملہ ہے آج کل کے جدید ڈاکٹر تو کچھ نرالے ہی ہیں پہلے ان کا اسسٹنٹ مریض کو دیکھتا ہے، اچھی طرح سے پوری ہسٹری پوچھتا ہے، ایک فائل پر لکھ دیتا ہے پھر مزید سوالات کرتا ہے اور وہ بھی نوٹ کرتا جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کا انتظار کرنے کو کہتا ہے، ڈاکٹر اپنے کیبنٹ میں کسی اور مریض کو دیکھ رہا ہوتا ہے، آنے والے مریض کو کسی برابر والے کیبنٹ میں بٹھا دیا جاتا ہے اور جب ڈاکٹر صاحب اپنے پہلے مریض سے فارغ ہوتے ہیں تو خود چل کر اگلے مریض کے کیبنٹ میں آ جاتے ہیں اور پھر فائل پڑھتے رہتے ہیں اور فائل پڑھنے کے بعد بہ مشکل کوئی ایک سوال مریض سے پوچھتے ہیں اور پھر دوائی لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ دوائی استعمال کر لیجیے گا۔
اب مریض نے دوا کے استعمال کی تفصیل معلوم کرنی ہو یا کچھ اور بات کرنی ہو، یہ ڈاکٹر صاحب فوراً ہی برابر والے دوسرے کیبن میں اگلے مریض کو دیکھنے چلے جاتے ہیں اور پہلا مریض منہ تکتا رہ جاتا ہے کہ وہ دل میں کیا کیا سوچ کر بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر سے فلاں فلاں باتیں پوچھنی ہیں۔ اب اگر کسی مریض کو اپنے اس قسم کی تمام باتوں کے جوابات چاہیے ہوں تو اس کے لیے ان ڈاکٹر کا کوئی اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے جو مریض کو تمام سوالوں کے جوابات دیتا ہے، مگر مریض کا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ میں نے تو جس ڈاکٹر کے لیے اتنی بڑی فیس دی اور کئی ہفتوں یا مہینوں پہلے اپائنمنٹ لیا، میرے سوالوں کا جواب تو اس ڈاکٹر کو ہی دینا چاہیے۔
سرکاری اسپتال میں تو ڈاکٹر مریض کو بہت ہی کم ٹائم دیتے ہیں جس کی ایک وجہ وہاں کا رش ہے لیکن یہاں جب مریض اپنی کیفیت بتانا شروع کرتا ہے تو اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر پرچی لکھ کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے کہ جاؤ۔۔۔۔! کہتے ہیں کہ مریض کی بات سننے سے ہی اس کا آدھا مرض دور ہو جاتا ہے مگر ہمارے ہاں تو ڈاکٹر مریض کو سننا ہی پسند نہیں کرتا۔
ڈاکٹر کا مریض کو مناسب ٹائم نہ دینا اور اس کی بات پوری طرح سے نہ سننا آج کے دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ جب ڈاکٹر اور مریض کا باہمی رابطہ (یعنی تبادلہ خیال ہی) درست نہ ہو تو ڈاکٹر کی دی گئی دوائی کیسے درست ہو سکتی ہے اور مریض کیسے بیماری سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟ عموماً تو مریض کو یہ تفصیل بتائی نہیں جاتی کہ آپ نے دوائی کب اور کیسے کھانی ہے، عموماً مریض میڈیکل اسٹور والے سے پوچھ کر الٹی سیدھی ٹائمنگ سے دوا کھا لیتا ہے۔
بہر کیف مریض اور ڈاکٹر کے مابین ابلاغ (تبادلہ خیال) کے پہلے ہی بڑے مسائل موجود تھے ، جدید موبائل جب سے زندگی کا لازمی حصہ بنا ہے مزید مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ راقم کے خیال میں اس جدید ٹیکنالوجی سے ان مسائل کو کم کرنے میں مدد بھی لی جا سکتی ہے مثلاً کوئی بھی ڈاکٹر اپنے موبائل پر اے آئی ایپ پر صرف یہ سوال لکھے کہ ’’ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان ابلاغ (کمیونیکیشن) کے مسائل کیا ہیں؟‘‘ تو جواب میں چند اہم ترین مسائل جو سامنے آئیں گے وہ یہ ہوں گے۔
1۔ زبان اور اصطلاحات کا فرق
2۔ وقت کی کمی
3۔اعتماد کی کمی
4۔ سماجی اور تعلیمی فرق
5۔ جذباتی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا
ویسے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، محض ’’کامن سینس‘‘ کی بات ہے۔ جیسے ڈاکٹر کے مقابلے میں ایک عام شخص میڈیکل کی اصطلاح نہیں سمجھ سکتا خاص کر جب کوئی پیچیدہ بیماری کا معاملہ ہو، لہٰذاایسے میں ڈاکٹر کی ذمے داری ہے کہ وہ عام اور آسان زبان میں اچھی طرح مریض کو اپنی بات سمجھائے اس میں بہ مشکل چند منٹ لگ سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کی بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایک مریض کو کم از کم اتنا تو وقت دیا جائے کہ وہ اپنی مکمل کیفیت ڈاکٹر کو بیان کر سکے، اگر ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا تو پھر سارا پروسیس ہی بیکار ہو جائے گا، مریض کو شفا کیسے ملے گی؟ سماجی اور تعلیمی فرق بھی مریض اور ڈاکٹر کی باہمی گفتگو سمجھنے میں مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، یہ بات ڈاکٹر حضرات کو ضرور سمجھنی چاہیے۔
ان سب مسائل میں ایک اہم ترین مسئلہ جذباتی پہلو کا بھی ہوتا ہے اور یہ خصوصاً بزرگوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بزرگ مریضوں کو ڈاکٹر کی دوا سے زیادہ ان کی توجہ اور شفقت بھرے لہجے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بزرگ مریضوں سے ڈاکٹر حضرات اچھی طرح پیش آئیں، ان کی باتیں سکون سے سنیں تو ان کا یہ طرز عمل ہی بزرگ مریضوں کے لیے ایک بہترین دوا ثابت ہوگا۔ دعا ہے کہ میری یہ گزارشات زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کے دل میں گھر کر جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر کی اور مریض تو ڈاکٹر ڈاکٹر کے جاتا ہے ہوتا ہے مریض کو ہیں اور کی بات کے بعد ہے اور ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔