خلا کی گہرائیوں میں ستاروں کی نرسری، ناسا نے دلکش تصویر جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا کی وسعتوں میں موجود ایک حیرت انگیز ’ستاروں کی نرسری‘ کی نئی تصویر جاری کی ہے، جس نے سائنس دانوں اور خلائی تحقیق سے دلچسپی رکھنے والوں کو مسحور کر دیا ہے۔
یہ دلچسپ اور خوبصورت تصویر ایک ایسے خطے کو ظاہر کرتی ہے جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور کائنات میں زندگی کے ابتدائی مراحل کو دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ خوبصورت اور پراسرار منظر لُوپس 3 نامی ستارہ ساز بادل کا ہے، جو زمین سے سیکڑوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ناسا کے مطابق یہ بادل تقریباً 500 نوری سال دور اسکارپیئس نامی جھرمٹ میں موجود ہے، جہاں گیس اور گرد کے گھنے بادل ستاروں کی تخلیق کے عمل میں مصروف ہیں۔
اس تصویر کو ناسا کی مشہور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے محفوظ کیا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے خلا کی باریک ترین تفصیلات زمین تک پہنچا رہی ہے۔ تصویر میں بادلوں کے اندر روشنی اور سائے کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے، جو نئے بننے والے ستاروں کے ابتدائی لمحات کی عکاسی کرتا ہے۔
ناسا سے وابستہ سائنس دان مونیکا لاؤبیا کے مطابق اگرچہ یہ تصویر پہلی نظر میں خوفناک یا ڈراؤنی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم حقیقت میں یہ نئی کائناتی زندگی سے بھرپور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ستارہ ساز بادل دراصل کائنات کے وہ علاقے ہیں جہاں مستقبل کے ستارے اور ممکنہ سیارے تشکیل پاتے ہیں۔
تصویر میں ٹی ٹاؤری ستارے بھی نمایاں ہیں، جو انتہائی کم عمر ستارے ہوتے ہیں اور اپنی ابتدائی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں۔ یہ ستارے اپنی تیز روشنی اور سرگرمی کے باعث آس پاس کے بادلوں کو روشن کر دیتے ہیں، جس سے یہ منظر مزید دلکش بن جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لُوپس 3 جیسے ستارہ ساز بادل کائنات کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ یہ ہمیں یہ جاننے میں مدد دیتے ہیں کہ ستارے اور نظامِ شمسی کس طرح وجود میں آتے ہیں۔ ناسا کی جانب سے جاری کی گئی یہ تصویر ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کائنات مسلسل تخلیق کے عمل میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
اسامہ ملک : یکم جون سے لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز کا معاملہ،پہلے دن کتنے شہری کیمرے کی نظر میں آئے؟ کتنے چالان ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی۔
کراچی شہر میں لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان سسٹم کے آغاز کے پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تمام چالان میٹروپول سے ایئرپورٹ جانے اور آنے والی مرکزی سڑک پر کیمروں کی مدد سے کیے گئے، پہلے دن مجموعی طور پر 11 مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کو خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اعداد و شمار کے مطابق بڑی بسوں کے 2، کوسٹر کے 2، ڈبل کیبن کا 1 اور عام گاڑیوں کے 9 چالان کیے گئے، اسی طرح منی بس کے 6، منی ٹرک کے 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان بھی جاری ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ موٹرسائیکل کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن کے 43 چالان کیے گئےجبکہ ٹرک کے 3، وین کے 4 اور واٹر ٹینکر کے 2 چالان بھی شامل ہیں۔
تمام چالان اس بنیاد پر کیے گئے کہ گاڑیاں اپنی مقررہ لین چھوڑ کر دوسری لین میں چل رہی تھیں، مزید یہ بھی سامنے آیا کہ فرسٹ لین میں کم رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات