عمران خان کی بہنوں پر جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرِ نے کہا ہے کہ عمران خان کی فیملی پر تنقید پارٹی پالیسی کے خلاف ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔
میڈیا سے گفت گو میں انہوں نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور صوبائی اسمبلی ممبران کی بڑی بیٹھک ہوگی جس میں مختلف شعبوں کے پروفیسرز ملکی بہتری پر تفصیلی گفتگو کریں گے، عمران خان کی صحت سے متعلق اہم ڈسکشن ایجنڈے میں شامل ہوگی، اتحاد کی تاریخ پہلے ہی اعلان ہوچکا ہے، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ تاریخ کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل ہے، پورے پاکستان سے عوام کو احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے، کے پی کے یا پنجاب کی تخصیص نہیں، احتجاج پورے ملک میں ہوگا۔
بیرسٹر گوہرِ کا کہنا تھا کہ اٹھ فروری کو احتجاج رضاکارانہ ہوگا، کسی پر زور زبردستی نہیں، آٹھ فروری کا دن جمہوریت کے لیے ایک بڑا سیاہ دن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی پر تنقید پارٹی پالیسی کے خلاف ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں، پارٹی رہنماؤں کو ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔