کچھ لو کچھ دو! کیا عمران خان کو ملک سے باہر بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو متحدہ عرب امارات بھجوانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ’کچھ دو کچھ لو‘ کے اصول کے تحت معاملات چل رہے ہیں جس میں نواز شریف فعال کردار ادا کررہے ہیں جب کہ اُن کی جانب سے رانا ثناء اللہ بھی اس ضمن میں مثبت سیاسی کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول نے شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سے خطاب میں زرداری صاحب سے کہا تھا کہ وہ مفاہمت کے لیے کردار ادا کریں، جس کے بعد زرداری صاحب خاموشی سے یہ کردار ادا کررہے ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف اپوزیشن کو اپنے ساتھ انگیج کرکے مفاہمت کا کردار ادا کررہے ہیں۔
محمد علی درانی کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف نے سیاسی مفاہمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے جس کے اثرات بھی نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاج کے معاملے میں حکومتی رویہ مناسب نہیں رہا، زرداری صاحب نے اپنی آدھی قید اسپتالوں میں گزاری جب کہ نوازشریف بھی اس صورتحال سے گزر چکے ہیں۔ عمران خان کی آنکھ اور صحت سے متعلق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالتی عمل سے موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے ۔ صحت و علاج کے معاملے میں گنجائش رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ محمود اچکزئی اور نوازشریف کا پرانا تعلق ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر تیار نہیں تھے لیکن نوازشریف نے ان کی اپوزیشن لیڈر کے طور پر تعیناتی کو یقینی بنایا۔ محمود اچکزئی کی پہلی کامیابی خود کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرانا اور دوسری کامیابی اس عہدے پر تقرری کرانا تھا اور یہ عمل نوازشریف کی متحرک مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ موجودہ اپوزیشن لیڈر کا نوازشریف سے مکمل رابطہ ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان جب تک جیل میں رہیں گے حکمران جماعتوں کی سیاست کا گراف گرتا جائے گا اور عمران خان کی مقبولیت بڑھتی جائے گی، یہی حقیقت صدر زرداری اور نوازشریف نے محسوس کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ شروع دن سے حکومت اور اپوزیشن کو کہہ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ۔ پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے بات کرے۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نوازشریف اور صدر زرداری سیاسی مفاہمت کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ دونوں نے مشکلات سہی ہیں اور انہی کے کردار سے مفاہمت کی فضا بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ثابت کیا کہ وہ جیل کاٹ سکتے ہیں اور جیل میں رہ کر سیاست کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتے ہیں جبکہ حکمران جماعتوں نے ثابت کیا کہ وہ ووٹ کے بغیر حکومت میں آ سکتے ہیں اور چلا بھی سکتے ہیں۔ کسی کی لیڈری اور سیاست صرف عوام ہی ختم کرسکتے ہیں ۔ عمران خان کی سیاست اور مقبولیت ختم کرنے میں حکمران جماعتیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
محمد علی درانی نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بن کر مکمل سرنڈر کیا، زبان دوسری رکھی لیکن عملاً مکمل تعاون کا آغاز کیا۔ ان کے رویے کی تبدیلی نے اعتماد سازی کے اقدامات اور سیاسی فضا بنانے کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بہت بڑا چیلنج ہے جس میں پوری قوم کا اتحاد ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کی باہر موجود قیادت سے پارٹی نہیں چل رہی اور وہ فوٹو بنوا کر خوش ہوجاتے ہیں۔ سیاسی ترازو توازن کی طرف آ چکا ہے اور اب پلڑے کس طرف جھکتے ہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ محمد علی درانی اپوزیشن لیڈر سکتے ہیں
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس