لاہور(نیوز ڈیسک) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ صدرمملکت آصف علی زرداری سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو متحدہ عرب امارات بھجوانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ’کچھ دو کچھ لو‘ کے اصول کے تحت معاملات چل رہے ہیں جس میں نوازشریف فعال کردار ادا کررہے ہیں۔اُن کی طرف سے رانا ثنائ اللہ بھی اس ضمن میں مثبت سیاسی کردار ادا کررہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سے خطاب میں زرداری صاحب کہا تھا کہ وہ مفاہمت کے لئے کردار ادا کریں تو زرداری صاحب خاموشی سے یہ کردار ادا کررہے ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف اپوزیشن کو اپنے ساتھ انگیج کرکے مفاہمت کا کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف نے سیاسی مفاہمت کے لئے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے تو اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہاکہ علاج کے معاملے میں حکومتی رویہ مناسب نہیں رہا۔ زرداری صاحب نے اپنی آدھی قید ہسپتالوں میں گزاری۔نوازشریف صاحب اس صورتحال سے گزرے ہیں۔ عمران خان کی آنکھ اور صحت سے متعلق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالتی عمل سے موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ صحت اور علاج کے معاملے میں گنجائش رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔ محمد علی درانی نے کہاکہ محمود اچکزئی اور نوازشریف کا پرانا تعلق ہے۔سپیکر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بنانے پر تیار نہیں تھے لیکن نوازشریف صاحب نے محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر کے طورپر تعیناتی کو یقینی بنایا۔محمود اچکزئی کی پہلی کامیابی خود کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرانا اور دوسری کامیابی اس عہدے پر اپنی تقرری کرالینا تھا۔ یہ عمل نوازشریف کی متحرک مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر کا نوازشریف سے مکمل رابطہ ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ عمران خان جب تک جیل میں رہے گا، حکمران جماعتوں کی سیاست کا گراف مسلسل گرتا جائے گا اور عمران خان کی مقبولیت بڑھتی جائے گی۔یہی وہ حقیقت ہے جس کا صدر زرداری اور نوازشریف صاحب نے ادراک کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں اول دِن سے حکومت اور اپوزیشن سے کہہ رہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ پی ٹی آئی کو بھی یہ کہا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں سے بات کرے۔ اسی لئے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ نوازشریف اور صدر زرداری سیاسی مفاہمت کے لئے کردار ادا کریں۔ دونوں نے مشکلات سہی ہیں۔ اُن کے اس کردار سے ہی سیاسی مفاہمت کی فضا بن سکتی ہے۔عمران خان نے ثابت کیا کہ وہ جیل کاٹ سکتا ہے اور جیل میں رہ کر سیاست کو اپنی انگلیوں پر نچا بھی سکتا ہے۔ حکمران جماعتوںنے ثابت کیا کہ وہ ووٹ کے بغیر حکومت میں آسکتے ہیں اور چلابھی سکتے ہیں۔ کسی کی لیڈری اور سیاست صرف عوام ہی ختم کرسکتے ہیں۔ عمران خان کی سیاست اور مقبولیت ختم کرنے میں حکمران جماعتیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ سہیل آفریدی نے وزیراعلی خیبرپختون خوا بن کر مکمل سرنڈر کیا، زبان دوسری رکھی لیکن عملا انہوں نے مکمل تعاون کا آغاز کیا۔ اُن کے رویے کی تبدیلی نے اعتماد سازی کے اقدامات اور سیاسی فضا بنانے کی راہ ہموار کی۔ دہشت گردی بہت بڑا چیلنج ہے جس میں پوری قوم کا اتحاد ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کی باہر موجود قیادت سے پارٹی نہیں چل رہی، وہ فوٹو بنوا کر خوش ہوجاتے ہیں۔ سیاسی ترازو توازن کی طرف آیا ہے ، اب پلڑے کس طرف جھکتے ہیں ، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کردار ادا کررہے ہیں محمد علی درانی نے انہوں نے کہاکہ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی تھا کہ

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟