کردار ڈاکٹر کا ادا کیا لیکن کبھی کلینک نہیں گیا، علی خان ’میری زندگی ہے تو‘ کی کامیابی پر حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی خان نے ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہانیوں میں یکسانیت اور غیر منطقی کردار نگاری سے تخلیقی معیار متاثر ہو رہا ہے۔
ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ ایک ڈرامہ ’میری زندگی ہے تو‘ کر رہے ہیں جس میں ان کا کردار ڈاکٹر کا ہے لیکن ڈرامے میں ان کے کردار کی پیشہ ورانہ زندگی کو پیش نہیں کیا گیا۔
View this post on Instagram
A post shared by Entertainment Hub (@theentertainmentthub)
ان کا کہنا تھا کہ پورا ڈرامہ گزر گیا لیکن میں کلینک نہیں گیا۔ میرا کام کچن اور گھر کے معاملات سنبھالنا تھا تو میں نے ڈائریکٹر سے سوال کیا کہ یہ کردار ڈاکٹر کا ہے یا بنیےکا؟ وہ صرف شادی کی بات کر رہا ہے اور ڈائری میں پھولوں کا حساب کتاب کر رہا ہے۔ یہ کتنی بےوقوفی ہے لیکن اگر اسے پوری دنیا میں لوگ سراہ رہے ہیں تو کون ٹھیک ہے ڈائریکٹر یا اداکار؟
اداکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے تین ڈراموں میں کام کیا اور تینوں کی کہانیاں ایک جیسی محسوس ہوئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ روایتی موضوعات سے ہٹ کر نئے زاویوں پر مبنی کہانیاں پیش کی جائیں مثلاً والدین کی جانب سے بچوں کی شادی کرانے کے بجائے بچے والدین کی شادیاں کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر توجہ دینے کے بجائے کمرشل اپیل کو ترجیح دینے کا بڑھتا ہوا رجحان تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے جس کے باعث معیاری اور منفرد کہانیوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے علی خان میری زندگی ہے تو ہانیہ عامر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے علی خان میری زندگی ہے تو ہانیہ عامر رہا ہے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔