پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی خان نے ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہانیوں میں یکسانیت اور غیر منطقی کردار نگاری سے تخلیقی معیار متاثر ہو رہا ہے۔

ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ ایک ڈرامہ ’میری زندگی ہے تو‘ کر رہے ہیں جس میں ان کا کردار ڈاکٹر کا ہے لیکن ڈرامے میں ان کے کردار کی پیشہ ورانہ زندگی کو پیش نہیں کیا گیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Entertainment Hub (@theentertainmentthub)

ان کا کہنا تھا کہ پورا ڈرامہ گزر گیا لیکن میں کلینک نہیں گیا۔ میرا کام کچن اور گھر کے معاملات سنبھالنا تھا تو میں نے ڈائریکٹر سے سوال کیا کہ یہ کردار ڈاکٹر کا ہے یا بنیےکا؟ وہ صرف شادی کی بات کر رہا ہے اور ڈائری میں پھولوں کا حساب کتاب کر رہا ہے۔ یہ کتنی بےوقوفی ہے لیکن اگر اسے پوری دنیا میں لوگ سراہ رہے ہیں تو کون ٹھیک ہے ڈائریکٹر یا اداکار؟

اداکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے تین ڈراموں میں کام کیا اور تینوں کی کہانیاں ایک جیسی محسوس ہوئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ روایتی موضوعات سے ہٹ کر نئے زاویوں پر مبنی کہانیاں پیش کی جائیں مثلاً والدین کی جانب سے بچوں کی شادی کرانے کے بجائے بچے والدین کی شادیاں کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر توجہ دینے کے بجائے کمرشل اپیل کو ترجیح دینے کا بڑھتا ہوا رجحان تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے جس کے باعث معیاری اور منفرد کہانیوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی ڈرامے علی خان میری زندگی ہے تو ہانیہ عامر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے علی خان میری زندگی ہے تو ہانیہ عامر رہا ہے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف