وزیر مملکت حذیفہ رحمن کا کہنا ہے کہ سیاسی شعور کا غلط استعمال کیا گیا اور شعور کا مطلب پگڑیاں اچھالنا بنا دیا گیا ہے جو ملک میں ہو رہا ہے کیا یہ شعور ہے؟ بانی پی ٹی آئی کی بہن مخالفانہ بیانیہ بنائیں اور پی ٹی آئی والے ان کے پیرو کار ان کے پیچھے چل پڑیں، کیا یہ شعور ہے اگر یہی شعور ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی سے ایک تعلیمی تقریب میں ایک طالبہ نے کے پی میں ترقی نہ ہونے کا سوال کیا تھا کہ باقی صوبوں میں ترقی ہو رہی ہے جب کہ کے پی میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا جب کہ پی ٹی آئی دیگر صوبوں کی حکومتوں کو جعلی اور خود کو اصلی قرار دیتی ہے مگر ترقی کے پی میں کیوں نہیں ہو رہی جس کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے سوال کا مثبت جواب دینے کی بجائے غیر ذمے دارانہ جواب دیا کہ طالبہ جو سوال کر رہی ہے وہ پی ٹی آئی کے دیے گئے شعور ہی کا نتیجہ ہے جب کہ یہ سراسر غلط ہے، کیونکہ ملک میں سیاسی شعور پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملا تھا جس کا سہرا بھٹو صاحب کے سر جاتا ہے۔
بھٹو صاحب نے ملک میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور ہر ضلع میں وزیر، کمیشنر اور ڈپٹی کمیشنر کھلی کچہریاں منعقد کیا کرتے تھے جہاں لوگ بلا روک ٹوک آ کر اپنے مسائل و شکایات سے ہی انھیں آگاہ نہیں کرتے تھے بلکہ پولیس اور دیگر افسران جو لوگوں کو تنگ کرتے تھے، ان کی شکایات بھی کیا کرتے تھے جس کے نتیجے میں عوام کو سرکاری افسروں کے دفاتر دور دور سے آنا نہیں پڑتا تھا اور ان کے چھوٹے موٹے مسائل موقع پر ہی حل کرا دیے جاتے تھے۔ کھلی کچہریوں کا سلسلہ جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی جاری رہا، جہاں ڈویژنوں میں تعینات بڑے فوجی افسران بھی خود شریک ہو کر لوگوں کی شکایات سنتے تھے۔
کھلی کچہریوں کے نتیجے میں لوگوں میں اعلیٰ حکام سے سوال کرنے کا شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ بلا جھجک اپنے مسائل بیان، مسائل کی نشاندہی اور شکایات کیا کرتے تھے۔ یہ عوامی شعور ہی تھا کہ وزیر اعظم بھٹو کے لیاقت آباد کراچی کی سپر مارکیٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران لوگوں نے جوتے لہرائے تو وزیر اعظم نے مشتعل ہونے کی بجائے کہا تھا کہ ہاں مجھے پتا ہے کہ جوتے مہنگے ہو گئے ہیں۔ بھٹو صاحب بھی جنرل ایوب کے مارشل لا میں وزیر بنے تھے اور سقوط ڈھاکا کے بعد انھیں ہی اقتدار دیا گیا تھا اور وہ چند ماہ سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی رہے اور پی پی کے قیام کے بعد ہی نہیں بلکہ وہ اقتدار میں آ کر بھی عوام میں رہتے تھے اور خواص کی منعقدہ سرکاری تقریب سے خطاب کی بجائے عوام میں جانے کو ترجیح دیتے تھے اور عوام سے دور رہنا پسند نہیں کرتے تھے اور لوگوں میں گھل مل جاتے تھے۔
بھٹو صاحب وزیر اعظم بن کر ایک بار بذریعہ ٹرین لاڑکانہ سے جیکب آباد جا رہے تھے تو انھوں نے شکارپور جو اس وقت ضلع نہیں تھا وہاں ٹرین رکوا کر عوام سے خطاب کیا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو بعد میں سرکاری دورے پر شکارپور آئے تو انتظامیہ نے شہر سے باہر انسپکشن بنگلہ کے لان میں علاقے کے مخصوص معززین سے ان کے خطاب کا انتظام کیا تھا۔ بھٹو صاحب بنگلہ میں سرکاری میٹنگ کے بعد باہر آئے جہاں عوام نہیں صرف مخصوص معززین موجود تھے تو بھٹو صاحب نے پوچھا کہ عام لوگ کہاں ہیں جس کے بعد وہاں خطاب کرنے کی بجائے گھنٹہ گھر آئے اور ٹیکسی اسٹینڈ کے سامنے ایک اونچی جگہ پر چڑھے جہاں عوام کا جم غفیر جمع ہو گیا تھا جنھیں مخصوص جگہ بلایا نہیں گیا تھا اور بھٹو صاحب اچانک گھنٹہ گھر پہنچے اور عوام سے خطاب کیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں بھٹو صاحب نے انتخابی مہم کے دوران 100 فٹ کا پی پی پرچم لہرایا اور خطاب کیا تھا یہ جگہ بھٹو صاحب کو یاد تھی۔
بانی پی ٹی آئی نے 2011 میں بالاتروں کے کرائے گئے پہلے بڑے جلسے اور 2014 کے دھرنے میں اپنے کارکنوں کو یہ باور کرایا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کرپٹ تھے جنھوں نے ملک لوٹا اور صرف میں ہی ایماندار ہوں۔ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا سے موثر ٹرولنگ کرائی کہ مخالفین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرو۔ ان کی بے بنیاد الزامات سے پگڑیاں اچھالو، سرعام انھیں ذلیل کرو کہ وہ بدنام ہو جائیں۔ بانی نے خود اپنے جلسوں میں اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالیں، ان پر جھوٹے الزامات لگائے اور مذاق اڑایا جس کے بعد سے پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اس مقام پر آ گیا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے اپنے رہنما بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی اپنوں کو ملازمتوں میں نوازنے، مسلم لیگ (ن) ترقیاتی کاموں کو اپنی ترجیح قرار دیتی آئی ہے جب کہ بانی تحریک انصاف اپنے مخالفین سے انتقام لینے اور بلند و بانگ دعوے کرنے، لوٹی ہوئی مبینہ کرپشن کی رقم واپس ملک میں لانے کے لیے اقتدار میں آئے تھے اور انھوں نے صرف مخالفین سے انتقام لیا۔ ایک کروڑ نوکریاں دیں نہ 50 لاکھ گھر بنوائے اور اب اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مظلومیت، خود ساختہ ایمان داری اور مقبولیت کا کامیاب پروپیگنڈا کرنے میں کامیاب رہے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت پی ٹی آئی کے گمراہ کن پروپیگنڈے پر توجہ ہی نہیں دے رہی اور حکمرانوں کو عوام کی حالت زار کی فکر بھی نہیں۔ ان کی طرف سے بھی صرف بلند و بانگ دعوے اور قرضے بڑھانے کا ضرور ریکارڈ قائم ہوا ہے۔
موجودہ دور سوشل میڈیا کا ہے جس کا پی ٹی آئی اپنی مرضی کا استعمال کر رہی ہے اور ثابت کر رہی ہے کہ بانی کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔ گالم گلوچ اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کا کام کامیاب ہے اور پی ٹی آئی کے کارکن سیاسی شعور نہیں بلکہ مخالفین کو رسوا کرنے کے شعور میں واقعی تمام پارٹیوں سے آگے نکل چکے ہیں اور حکومت صرف کمزور بیان بازی کر رہی ہے جس کے پاس جوابی بیانیہ تک نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے سیاسی شعور سوشل میڈیا بھٹو صاحب کر رہی ہے کرتے تھے کی بجائے کیا تھا تھا اور تھے اور خطاب کی ملک میں کے بعد ہے اور کے دور
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)