سیکرٹری ایوی ایشن کی سربراہی میں بولی کھولنے والی سول ایوی ایشن اور نجکاری کمیشن کی آوٹ سورسنگ کمیٹی کو یقین تھا کہ اس دفعہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا اہم مرحلہ کامیاب ہوجائے گا اوراصل مالیاتی اہداف حاصل کرلیے جائیں گے۔ اسی لیے کمیٹی کی کارروائی براہ راست پیش کرنے کا فیصلہ بھی ہوگیا تاکہ شفافیت کے ساتھ حکومت کی کارکردگی کو بھی سراہا جائے۔

کمیٹی نے نے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مالیاتی بولی 2جنوری 2015 کو کراچی میں کھولی، انہیں یقین تھا کہ وہ ہدف حاصل کرلیں گے، یعنی بولی کی قیمت کا 56فیصد یا اس سے زیادہ، کیونکہ صرف ایک ہی کمپنی تھی اور مقابلے میں کوئی اور نہیں تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔

ترکی کی کمپنی TAV نے صرف47فیصد قیمت کی پیشکش کرکے سب کو نہ صرف حیران کیا بلکہ سخت مایوس اور پریشان کردیا۔ اس نے آؤٹ سورسنگ کا عمل کو ایک بار پھر تعطل کا شکار کردیا۔ کمیٹی کو یقین نہیں تھا کہ جس پارٹی کو qualify کرنے کے لیے انہوں نے انتھک تگ و دو کی۔ اس نے اتنی کم بو لی دے کر شرمندہ کردیا۔ کمیٹی پریشان تھی کہ وزیر اعظم (جو اچھی خبر سننے انتظار میں تھے) کو کیا اور کیسے بتائیں۔

ترکی کی کمپنی نے سب کیے کرائے پر پانی پھیردیا۔ اس طرح آؤٹ سورسنگ کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا حالانکہ جناب احسن علی منگی سکریٹری ایوی ایشن نے خصوصی دلچسپی لی اور سخت محنت کی مگر مقررہ اہداف نہ حاصل ہوسکے۔

یاد رہے کہ حکومت نے 3بڑے ہوائی اڈوں کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر آؤٹ سورسنگ کے عمل کو شروع کیا ہوا ہے۔ حکومت کو اس عمل سے نمایاں آمدنی کی توقع ہے۔ اس عمل کو مکمل طور پر پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے سب سے پہلے تقریباً 40 ارب سالانہ کمانے والے پاکستان کے پہلے گرین فیلڈ ایئر پورٹ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا انتخاب کیا تاکہ مالی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ آمدنی پیدا کی جاسکے، اور فارن ریزرو کو بڑہایا جائے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آوٹ سورسنگ کے عمل میں کڑی شرائط کے باوجود 4کمپنیوں (گروپ اے ڈی پی، انچیون کورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کارپوریشن، میونخ (جرمنی) ایئرپورٹ (انٹرنیشنل جی ایم بی ایچ) اور ترکی کی TAV کمپنی نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور بولی کے دستاویزات جمع کرائے تھے، 3 کمپنیاں اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔

صرف ایک کمپنی، Turkey’s TAV Airports، نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی بولی کے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ تاہم، اس کو کوالیفائی کراوانے پر بھی شکوک و شبہات اور کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔”ٹی اے وی ایئرپورٹس” نے سعودی عرب میں قائم فرم الراجی ہولڈنگ گروپ کے ساتھ ایک کنسورشیم میں فنانشل بولی
جمع کرائی، جس نے آوٹ سورسنگ کے عمل کو آگے بڑھانے میں مشکل بنا دیا۔

، TAVایئرپورٹس” نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں کم پیشکش (47.

25فیصد) دی۔ اور تمام عمل کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنے favourable حالات ہونے کے باوجود TAV نے ایسا کیوں کیا؟ ماہرین کے مطابق TAV نے خطرے کی تشخیص قبل از وقت کرلی تھی۔ TAV ہوائی اڈوں نے آپریشنل، مالیاتی، اور ریگولیٹری چیلنجز سمیت پروجیکٹ کے خطرات کا اندازہ لگایا ہوگا، اور اس کے مطابق اپنی پیشکش کو ایڈجسٹ کیا ہوگا۔

اس کے علاوہ کمپنی نے پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات اور ایوی ایشن مارکیٹ کے موجودہ حالات پر غور کیا ہوگا، بشمول خطے کے دیگر ہوائی اڈوں سے مسابقت، اور مسابقتی رہنے کے لیے کم بولی کی پیشکش کی ہو۔ ترک کمپنی نے مستقبل کے مذاکرات اور رعایتی معاہدے پر ممکنہ نظرثانی کے لیے گنجائش(cushion)چھوڑنے کی کم بولی کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، مذاکرات کی حکمت عملی استعمال کی ہو TAV نے دوسری کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی گئی بولیوں کا کسی “خاص” سے مل کر تجزیہ کیا ہو اور مسابقتی رہنے کے لیے اپنی پیشکش کو ایڈجسٹ کیا۔

کمپنی نے پاکستان کے لیے مخصوص ریگولیٹری اور تعمیل کے تقاضوں پر ہوسکتا ہے غور کیا ہو جس کی وجہ سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پیشکش کم ہوسکتی ہے۔ ٹی اے وی ایئرپورٹس نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مالی کارکردگی کا تجزیہ کیا ہوگا اور طے کیا ہوکہ ایئرپورٹ کی آمدنی کے تخمینوں کے پیش نظر کم رعایتی نرخ زیادہ موزوں ہوں۔ یہ چند وجوہات ہوسکتی ہین جن کی وجہ سے ہوسکتا ہے TAV نے کم بولی دی ہو۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ارباب اختیار نے اس سارے معاملے سے نمٹنے کے لیے مبینہ طور پر قانونی ماہرین سے رابطے کا راستہ اختیار کرنےکا فیصلہ کرلیا تاکہ TAV سے مذاکرات کرکے بولی کو آگے بڑھایا جا سکے اور اس “گھن چکر”سے نکل سکیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے قوانین خصوصاً PAPRS کے مطابق بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستانی قانون کے تحت بولی لگانے والوں کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید کی اجازت نہیں ہے، خاص طور پر پبلک پروکیورمنٹ میں۔ سابق سینیئر ٹائرکٹرکمرشل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سینیئر پارٹنر گلوبل لاز کنسلٹنٹ زبیر حسین پراچہ کہتے ہیں کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004، قاعدہ 35 کے مطابق “ایک بار بولی کھولنے اور جانچنے کے بعد، پروکیورنگ ایجنسی کسی بھی بولی ن کے مطابق دہندہ کے ساتھ بات چیت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس اصول کا مقصد تمام بولی دہندگان کے ساتھ شفافیت، انصاف پسندی اور مساوی سلوک کو یقینی بنانا ہے۔ بولی کی جانچ کے عمل کے بعد بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید PPRs اور عوامی خریداری کے اصولوں کی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔
تاہم، اسلام آباد کے مشہور قانون دان محمد طاہر کہتے ہیں کہ پروکیورنگ ایجنسی بولی دہندگان سے وضاحت طلب کرسکتی ہے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی بولیوں کو صحیح طریقے سے سمجھا گیا ہے۔

بعض حالات میں، پروکیورنگ ایجنسی تشخیص کے عمل کے بعد کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ بات چیت کرسکتی ہے، لیکن صرف معاہدے کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے لیے قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے، پروکیورنگ ایجنسی کو واضح طور پر بولی لگانے والوں کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید سے گریز کرنا ہوتا ہے، سوائے غیر معمولی حالات کے۔

سینر کارپوریٹ ایڈووکیٹ علی کے مطابق اعلیٰ عدالتوں نے مسلسل کہا ہے کہ بولی لگانے کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید جائز نہیں ہے اور اسے غیر قانونی سمجھا جاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے، کیونکہ اس سے اگلا مرحلہ کراچی اور لاہور کے انٹرنیشنل ایئر پورٹس کو بھی آوٹ سورسنگ کی بھٹی میں سے گزارنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ نے اسلام آباد آؤٹ سورسنگ کا آوٹ سورسنگ ایوی ایشن سورسنگ کے کے مطابق کیا ہو اور اس کے عمل کے بعد کے لیے عمل کو

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے