نواز اور شہباز شریف کو دھمکیاں دینے والا پی ٹی آئی اسپورٹر لندن میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسپورٹر گلفام حسین کیانی کو وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور شریف خاندان کے دیگر افراد کو ٹک ٹاک پر براہ راست نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
حال میں مبینہ طور پر گلفام کیانی نے سماجی رابطے کی مختصر ویڈیو ایپ ’ٹک ٹاک‘ پر اپنی ایک ویڈیو میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی بھی دی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’ٹک ٹاک‘ پر اپنے فالوورز سے بات کرتے ہوئے گلفام حسین نے دھمکی دی کہ وہ عملی طور پر شریف خاندان کے افراد کو لندن کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور اگر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو پاکستان میں کوئی نقصان پہنچا تو شریف خاندان سے اس کا بدلہ لیں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق گلفام کیانی نے پاکستان کی فوجی قیادت کو بھی اپنی ’ٹک ٹاک‘ ویڈیوز میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لندن میں ایک ہفتہ قبل گلفام کیانی کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس کے بعد ہفتہ کے روز اسکاٹ لینڈ یارڈ گلفام کیانی کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے فوراً بعد جمعہ کی رات گلفام کیانی کو لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے گیٹ سے گرفتار کیا گیا، اس وقت گلفام کیانی ’ٹک ٹاک‘ پر لائیو تھے اور اپنے فالوورز سے بات چیت کر رہے تھے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے یوتھ ونگ کے رہنما خرم بٹ، جنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں عمران خان کے چانسلر بننے کی کوشش کے خلاف درخواست بھی دائر کی تھی، نے گلفام کیانی کی دھمکیوں کے خلاف پولیس کو شکایت کی تھی۔
خرم بٹ کا کہنا ہے کہ ’میں نے پولیس کو تقریباً ایک درجن اردو ویڈیوز فراہم کیں جن میں گلفام کیانی جان سے مارنے، ہراساں کرنے، پیچھا کرنے اور پی ٹی آئی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔
گلفام کیانی نے واضح طور پر دھمکی دی کہ وہ شریف خاندان کو نقصان پہنچانے کے بعد جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور شریف خاندان کے دیگر افراد کو اپنا ہدف قرار دیا تھا۔
خرم بٹ کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ٹھیک ہے لیکن دھمکیاں ناقابل قبول ہیں، گلفام کیانی کا شمار تقریباً 4 ماہ قبل مسلم لیگ (ن) کے حامیوں میں ہوا کرتا تھا، حتیٰ کہ وہ ایون فیلڈ فلیٹس کے باہر اور دیگر مقامات پر پی ٹی آئی کے حامیوں سے بھی لڑا کرتے تھے۔
بعد ازاں گلفام کیانی نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی حمایت میں آواز بلند کرنے لگے۔ گلفام کیانی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ’ٹک ٹاک‘ پر لائیو آنے کے لیے ایک تربیت یافتہ شیف کی حیثیت سے اپنی نوکری بھی چھوڑ دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپورٹر اسکاٹ لینڈ یارڈ آکسفورڈ یونیورسٹی پاک فوج پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی ٹک ٹاک خرم بٹ دھمکیاں سوشل میڈیا شریف خاندان شہباز شریف عمران خان فوج گلفام کیانی لندن میڈیا نواز شریف وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپورٹر اسکاٹ لینڈ یارڈ ا کسفورڈ یونیورسٹی پاک فوج پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی ٹک ٹاک دھمکیاں سوشل میڈیا شریف خاندان شہباز شریف فوج میڈیا نواز شریف شریف خاندان شہباز شریف پی ٹی ا ئی ٹک ٹاک
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔