کرم ، متاثرہ علاقوں میں شرپسندوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ،بگن میں کرفیو نافذ،سرچ آپریشن شروع
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
کرم ، متاثرہ علاقوں میں شرپسندوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ،بگن میں کرفیو نافذ،سرچ آپریشن شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2025 سب نیوز
کرم /پشاور (آئی پی ایس )خیبرپختونخوا حکومت نے کرم میں شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں موجود چند شرپسندوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے، خیبر پختونخوا حکومت گزشتہ 3 مہینوں سے کرم میں امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، امن معاہدے پر قانون اور پشتون روایات کے مطابق عملدرآمد کرایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق کرم کی صورتحال پر خیبرپختونخوا میں اعلی سطح کی بیٹھک ہوئی ہے جس میں شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ ریاست پرامن عناصر کے ساتھ کھڑی ہے، ظالم عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔اعلی سطحی اجلاس میں ترجمان حکومت خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس کے علاوہ دیگر سول و پولیس افسران شامل تھے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں شرپسندوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے، امن معاہدے پر قانون اور پشتون روایات کے مطابق عملدرآمد کرایا جائے گا، پولیس اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے سکیورٹی فورسز موجود ہوں گی۔ترجمان نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ امن پسند لوگوں کے درمیان کچھ شرپسند گھس گئے ہیں۔ امن پسند لوگوں کو نقصان سے بچانے کیلئے انہیں شرپسندوں سے الگ کرکے کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے عوام کے لیے رہائش کے بہترین متبادل انتظامات کیے گئے ہیں، حکومت دونوں فریقین سے درخواست کرتی ہے کہ اپنے درمیان موجود شرپسندوں کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ تین مہینوں سے کرم میں پرامن طریقے سے امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، گرینڈ جرگے کے ذریعے پشتون روایات کے مطابق امن معاہدہ کیا گیا، کرم میں چند شرپسند عناصر نے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی، شرپسندوں نے ڈپٹی کمشنر پر قاتلانہ حملہ کیا، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے، شرپسند عناصر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور امدادی سامان کے قافلوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، عوام سے اپیل ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت جلد ہی متاثرہ علاقوں سے شرپسندوں کا خاتمہ کرکے علاقے میں امن بحال کر دے گی، حکومت نے امن معاہدے کے مطابق امن بحال کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔کمشنر کوہاٹ ڈویژن معتصم باللہ اور ریجنل پولیس آفسر عباس مجید مروت کا کہنا ہے کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے، کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے، کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ہنگو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمشنر کوہاٹ ڈویژن معتصم باللہ، ریجنل پولیس آفسر عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو، دہشت گرد کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔کمشنر کوہاٹ ڈویژن کا کہنا تھا کہ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں، امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گے۔آر پی او عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے، کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے، کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔
دوسری طرف لوئر کرم میں تجارتی قافلے پر فائرنگ اور اہلکاروں کی شہادت کے بعد فورسز بگن میں داخل ہوچکی ہیں اور سرچ آپریشن شروع ہوگیا ہے، بگن میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور ایف سی قلعے سے شیلنگ بھی کی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق فورسز نے پہاڑوں پر دہشتگردوں کے مورچوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، آج رات تک دیگرعلاقوں میں بھی سرچ آپریشن متوقع ہے، آپریشن دہشتگردوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کیا جارہا ہے۔ کرم میں ٹل پاراچنار مین شاہراہ 110ویں روز بھی ہر قسم آمدورفت کیلئے بند ہے، جس کے باعث اشیائے ضرورہ نہ ملنے کی وجہ سے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے چار ویلج کونسلز میں آپریشن کیا جائے گا اور فورسز نے کئی مورچوں پر کمانڈ سنبھال لیا ہے۔ پولیس کے مطابق فورسز کی بھاری نفری لوئر کرم میں موجود ہے۔ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے مکین آپریشن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین کا کہنا ہے کہ یکطرفہ فوجی آپریشن ہرگز قبول نہیں ہے۔طوری بنگش قبائل نے آج چھ بجے تک حکومت کو ڈیڈ لائن دی ہے۔ قبائل کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے بعد اب تک دس سے زیادہ خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں لیکن حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، اگر راستوں کو نہیں کھولا اور تحفظ کو یقینی نہیں بنایا تو امن معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے اور معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر اپنا لائحہ عمل خود تیار کریں گے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بنکرز مسماری کا عمل تاخیر کا شکار ہے، دونوں فریقین کے اب تک آٹھ بنکرز مسمار ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب راستوں کی طویل بندش کے باعث دو مزید بچے دم توڑ گئے، جس کے بعد جاں بحق بچوں کی تعداد 157 ہوگئی۔میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان کا کہنا ہے کہ 38 بچے صرف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پاراچنار میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں کا فیصلہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔