پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغازپرکے ایس ای ہنڈرڈانڈیکس میں 605 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے،مارکیٹ 1 لاکھ 15 ہزار 877 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہی ہے ۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر ہنڈرڈانڈیکس 658 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 13 ہزار 836 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ سٹاک مارکیٹ میں دن بھر مجموعی طور پر 463 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا ، 136 کمپنیز کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 268 کے شیئرز میں کمی ہوئی تھی، مارکیٹ میں 46 کروڑ 94 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا ،سٹاک مارکیٹ میں 24 ارب 98 کروڑ سے زائد مالیت کے شیئرز کے سودے ہوئے تھے۔سٹاک مارکیٹ کی بلند ترین سطح 114،884 جبکہ کم ترین سطح 113،630 پوائنٹس رہی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے شیئرز
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔