طلاق یافتہ والدین کے بچوں میں فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ طلاق یافتہ والدین کے بچوں میں فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
جریدے PLOS One میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان عمر رسیدہ افراد میں فالج کا خطرہ 61 فیصد زیادہ ہوتا ہے جن کے بچپن یا نوعمری میں والدین طلاق لے چکے ہوں۔
محققین نے کہا کہ اس صورت حال میں فالج کے خطرے کی سطح ذیابیطس اور ڈپریشن جیسے عوامل کے برابر ہے۔
سرکردہ محقق اور اونٹاریو کی ٹنڈیل یونیورسٹی میں سائیکالوجی کی لیکچرر، میری کیٹ شلکے نے نیوز ریلیز میں کہا کہ فالج سے وابستہ زیادہ تر معروف عوامل جیسے سگریٹ نوشی، جسمانی غیرفعالیت، کم آمدنی اور تعلیم، ذیابیطس، ڈپریشن کو بھی اگر نظرانداز کیا جائے تو والدین نی طلاق بڑی عمر میں فالج ہونے کے امکانات 61 فیصد زیادہ کردیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں فالج
پڑھیں:
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔