پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ کیلئے حکومت کو 5 نام بھیج دیے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری کو خط ارسال کیا ہے، جس میں پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لیے 5 نام بھیجے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں جنیداکبر، شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب خان، عامر ڈوگر کے اور خواجہ شیراز محمود کے نام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت 28 جنوری کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے چوتھے سیشن میں شرکت نہیں کرے گی، کیوں کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں مذاکرات میں شریک ہونے سے منع کر دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت کی جانب سے ہمارے مطالبے پر تحقیقاتی کمیشن نہیں بنائے گئے، ہم بات چیت کو مثبت بنانے کے خواہشمند ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کمیشن نہ بنانے کی وجہ سے مزید کسی مذاکرات کا حصہ نہیں رہ سکتے۔

یاد رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے 28 جنوری کو حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے چوتھے سیشن کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے، جس سے دونوں فریقین کو آگاہ بھی کیا جاچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی جانب سے پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو