امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت ادارہ نورحق میں بنگالی، برمی اور بہاری کمیونٹی کے شناختی کارڈ بنوانے میں مشکلات و پریشانیوںکے حوالے سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ہے کہا کہجماعت اسلامی بنگلا ، برمی اور بہاری کمیونٹی کے ساتھ ہے ، انہیں محب ِ وطن ہونے اور پاکستانی ثابت کرنے کے لیے کسی سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ، ان سے امتیازی سلوک اور نادرا میں قومی شناختی کارڈ کے حصول میں غیر ضروری اور ناجائز رکاوٹیں کسی صورت قبول نہیں ، ہم ہر فورم پر ان کا مقدمہ لڑیں گے، ضرورت پڑی تو احتجاج اور دھرنا بھی دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت ادارہ نور حق میں بنگالی، برمی اور بہاری کمیونٹی کے شناختی کارڈ بنوانے میں ایک بار پھر سے رکاوٹوں اور مشکلات و پریشانیوں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ،سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی، پبلک ایڈ کمیٹی کے قطب احمد،آصف آزاد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں متاثرہ کمیونیٹیز سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
متاثرین نے بتایا کہ نادرا کے دفاتر میں ان کے ساتھ ایک بار پھر سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، بنگالی، برمی اور بہاری کمیونٹی کو خاص طور پرنشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمیں جماعت اسلامی سے امید ہے کہ وہ ہمارے شناختی کارڈ بنوانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ہم محب وطن ہیں لیکن ہمیں غیر ملکی سمجھا جاتا ہے اور ہماری شناخت پوچھی جاتی ہے،ہمیں ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں۔متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ انٹیلی جینس اسپیشل برانچ کی گھر گھر چیکنگ کا عمل فوری روکا جائے، اب تک جتنے لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے اور ان کے شناختی کارڈ کلیئر ہیں ان کومکمل تحفظ فراہم اوران کے ڈیٹا کا کوئی غلط استعمال نا کیا جائے،بنگلا زبان بولنے والے محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند ، نادرا کے آفسز میں خاص کر لوگوں کو تنگ کرنا بند کیا جائے، کارڈ کی تجدید کرانے جانے والوں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔ جن بچوں کے ب فارم نہیں اور اس کی وجہ سے اسکولوں میں داخلے نہیں ہو رہے ان کے ب فارم جاری کیے جائے۔ زونل بورڈز میں سالوں سے زیر التواء کیسز یا پھر IB کے پاس ہیں ان کو فوری پروسس کیا جائے۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ مشرقی پاکستان سے آنے والوں نے وطن کی محبت میں ہی دو دفعہ ہجرت کی۔ جماعت اسلامی نے بنگلا و برمی زبان بولنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑا اور ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ایم کیو ایم 1986 سے آج تک ہر حکومت کا حصہ رہی ہے۔ یہ جب چاہتی تھی 10 منٹ میں پورا شہر بند ہوجایا کرتا تھا لیکن کراچی کے شہریوں سمیت بنگلا ، برمی اور بہاری کمیونٹی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ۔ کراچی میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اس میں ایم کیو ایم ہی کا کردار رہا ہے، پیپلز پارٹی گزشتہ 35 سال سے کراچی پر قابض ہے لیکن اس نے بھی بنگالی، برمی اور بہاریوں کا مسئلہ ہی حل نہیں کیا ہے ، ادارہ نور حق میں طویل عرصے سے قائم نادرا ڈیسک ہفتہ وار جمعہ کوکام کر رہی ہے اورہم کراچی کے تمام اضلاع میں بھی نادراڈیسک قائم کر رہے ہیں ۔جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں نادرا کے ہیڈ آفس اور تمام ڈسٹرکٹ دفاتر پر دھرنے دیے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ کوئی بھی ادارہ تنگ کرے یا پاکستانی ہونے کا ثبوت مانگے تو اس کے لیے جماعت اسلامی کے دفاتر موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم لیگ ڈھاکا میں بنی اور قرارداد مقاصد پیش کرنے والے بھی بنگلا زبان بولنے والے تھے، اس لیے بنگالی، برمی اور مشرقی پاکستان سے آنے والوں سے کوئی بھی ان کی شناخت نہیں پوچھ سکتا۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ جماعت اسلامی کے علاؤہ کوئی بھی سیاسی پارٹی بنگالی، بہاری اور برمی کمیونٹی سے وابستہ افراد کے لیے بات نہیں کرتی بلکہ یہی پارٹیاں ہیں جنہوں نے ان لوگوں کے لیے مسائل پیدا کیا ہے، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں طے کیا تھا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت مسائل حل کریں گے، جماعت اسلامی کی جدوجہد سے ہی ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے بلاک شدہ شناختی کارڈز کو بحال کروایا گیا تھا۔ ہم آئندہ بھی بھرپور جدوجہد کریں گے اور مسائل حل کروائیں گے۔نجیب ایوبی نے کہاکہ ہمارے دل بنگالی، برمی اور بہاری کمیونٹی کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ہر صورت ان کے ساتھ ہیں، کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ قطب احمد نے کہا کہ ہر شہری کا حق ہے کہ اس کا قومی شناختی کارڈ بنے ، جو بھی بنگلا دیش سے پاکستان آیا ہے وہ پاکستانی ہے اور اسے پاکستان میں رہنے کا حق ہے اور اس کی شناخت ایک پاکستانی کی ہے، ماضی میں بھی بنگالی، برمی اور بہاری کمیونٹی سے وابستہ افراد کے لیے جماعت اسلامی نے بھرپور تحریک چلائی اور ایس او پی تبدیل کروائی، سندھ پر ایسے لوگوں کی حکمرانی ہے جو ظالم اور جابر ہیں ، جو ظلم کر کے اپنی حاکمیت کو قائم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں شامل ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں مل کر عوام کا استحصال کررہے ہیں۔
منعم ظفر

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے شناختی کارڈ ایم کیو ایم نے والوں کیا جائے کے ساتھ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم