کراچی سے لیاری گینگ وار کا بھتہ خور رنگے ہاتھوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
کراچی:
پولیس نے شہر قائد کے علاقے سے گینک وار کے کارندے کو بھتہ لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بغدادی پولیس نے لیاری کے علاقے چھاپہ مار کر بیکری کے مالک سے بھتہ طلب کرنے والے گینگ وار کے بھتہ خور کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے مطابق گرفتار بھتہ خور کی شناخت فرحان عرف خلیفہ کے نام سے کی گئی جس کے قبضے سے اسلحہ، گولیاں اور بھتے کی رقم برآمد ہوئی ہے ، بھتہ خور کا تعلق لیاری گینگ وار جھینگو گروپ سے ہے جبکہ ملزم جھینگو گروپ کے نام پر بھتہ خوری کرتا تھا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم بھتہ خور بغدادی تھانے کی حدود میں واقع ایک بیکری کے مالک سے اسلحہ کے زور پر بھتہ طلب کر رہا تھا کہ علاقہ گشت پر مامور بغدادی پولیس موقع پر پہنچ گئی جسے دیکھ ملزم فرار ہو رہا تھا کہ پولیس نے اسے تعاقب کر کے گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار بھتہ خور عادی جرائم پیشہ ہے جس کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے ، ملزم اس سے قبل 5 بار بغدادی اور 3 بار کلاکوٹ پولیس کے ہاتھوں قتل، اقدام قتل ، پولیس مقابلے ، غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور منشیات سمیت دیگر دفعہ کے تحت درج ہیں جس میں سال 2023 میں 6 جبکہ سال 2024 میں 2 مقدمات درج ہیں۔
پولیس نے گرفتار بھتہ خور کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس نے بھتہ خور پولیس کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک