امریکا: ریگن ایئرپورٹ فضائی حادثے میں حکام کی سنگین غفلت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
64 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور امریکن ایئرلائنز کے مسافر طیارے کے درمیان تصادم سے چند گھنٹے قبل حکام کی سنگین غفلت سامنے آگئی۔
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خوفناک تصادم سے چند گھنٹے قبل طیارے کے سپروائزر نے مبینہ طور پر رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر ہوائی جہاز کے ٹریفک کنٹرولر کو جلد آفس سے جانے کی اجازت دی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سپروائزر کی جانب سے کنٹرولر کو جلد جانے کی اجازت دینے کا مطلب تھا کہ صرف ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر دونوں کے ٹریفک کو دیکھ رہا تھا جب کہ پرواز کے راستوں کی نگرانی کرنے والے 2 افراد کو ڈیوٹی پر ہونا چاہیے تھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی (ایف اے اے) نے ابتدائی رپورٹ میں تصدیق کی کہ سپروائزر نے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو ہینڈل کرنے کے کاموں کو مختص تبدیلی کے وقت سے پہلے ہی یکجا کردیا جس کے نتیجے میں ایک کنٹرولر کو 2 افراد کے فرائض سرانجام دینے پڑے۔ .
اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ فوجی ہیلی کاپٹر بلیک ہاک شاید بہت زیادہ اونچائی پر پرواز کر رہا تھا اور امریکی ایئر لائنز کے طیارے سے ٹکرانے کے وقت اپنے طے شدہ پرواز کے راستے سے دور تھا۔
معاملے پر بریفنگ کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر 300 فٹ سے اوپر تھا جب کہ اسے 200 فٹ سے نیچے ہونا چاہیے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔