UrduPoint:
2026-07-24@01:44:19 GMT

رہا ہونے والے یرغمالیوں کی حالت پر تل ابیب میں غم و حیرت

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

رہا ہونے والے یرغمالیوں کی حالت پر تل ابیب میں غم و حیرت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 فروری 2025ء) تل ابیب کے ’’یرغمالی اسکوائر‘‘ پر ہفتے کے روز ایک بڑی اسکرین پر رہائی پانے والی یرغمالیوں کی نحیف اور کمزور صورتیں نمودار ہوئیں، تو وہاں لوگوں میں خوف کی ایک لہر دیکھی گئی۔

ان سینکڑوں افراد نے دیکھا کہ اوہد بن امی، ایلی شارابی اور اور لیوی حماس کے جنگجوؤں کے درمیان کھڑے تھے۔

غزہ میں چھ ہفتوں کی جنگی بندی کے معاہدے کے بعد یرغمالیوں کی رہائی کا یہ پانچواں موقع تھا۔ یہ معاہدہ انیس جنوری سے نافذ العمل ہے۔

تاہم، تب کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا جب آزادی پانے والے یرغمالیوں کی جسمانی حالت انتہائی بدحال نظر آئی۔

ان یرغمالیوں کی ویڈیوز سامنے آنے سے چند لمحے قبل، ماحول خوشگوار تھا، اور لوگ اسرائیلی ٹی وی پر یرغمالیوں کی رہائی کی تیاریوں کو دیکھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔

(جاری ہے)

لیکن جب یرغمالیوں کی رہائی کی ویڈیوز سامنے آئیں، تو ان کی حالت دیکھ کر جشن میں مصروف اسرائیلی شہریوں نے غم و حیرت کی کیفیت میں اپنے چہروں پر ہاتھ رکھ لیے۔ واضح رہے کہ ہفتے کو غزہ کے مرکزی شہر دیرالبلاغ سے ان یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ ان یرغمالیوں کی بدتر جسمانی حالت کے باوجود اسرائیلی شہری ان کے زندہ سلامت آزاد ہوجانے پر شاداں ہیں۔

جذباتی مناظر اور یرغمالیوں کے اہل خانہ کی جدوجہد

یرغمالیوں کی رہائیوں کے سابقہ موقعوں کی طرح اس بار بھیاسرائیل کے ''یرغمالی اسکوائر‘‘ پر لوگ موجود تھے، جو غزہ میں یرغمال اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔

اور لیوی کی تصویر پر اس کی گرفتاری کے وقت کی عمر 33 سال، کو کاٹ کر نیا ہندسہ لکھا گیا تھا۔ اس کی 34ویں سالگرہ قید میں گزری تھی۔

لیوی کو ''نووا میوزک فیسٹیول‘‘ میں اس وقت اغوا کیا گیا تھا، جب وہ اپنی بیوی ایناو لیوی کے ساتھ موجود تھا، جسے اس دہشت گردانہ حملے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ ان کا تین سالہ بیٹا، الماگ، تب سے اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ رہا ہے۔

ایلی شارابی کی بیوی اور دو بیٹیوں کو 7 اکتوبر 2023ء کو جنوبی اسرائیل کے علاقے کِبُوتز بیری میں ان کے گھر پر قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کا بھائی یوسی شارابی بھی اسی حملے میں یرغمال بنا لیا گیا تھا اور بعد میں دوران قید ہلاک ہو گیا، جیسا کہ اسرائیلی فوج نے 2024ء کے اوائل میں تصدیق کی تھی۔

مزید یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

پچھلے ہفتے رہا ہونے والے یرغمالی یارڈن بیباس نے جمعے کے روزاسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی بیوی اور دو بچوں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کریں۔

حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ شیری بیباس اور اس کے دو بیٹے اریئل اور کفیر نومبر 2023ء میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے، لیکن اسرائیل نے تاحال ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ بندی معاہدہ

ہفتے کے روز تین یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں درجنوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

جنگ بندی کے بعد پانچواں تبادلہ ہے۔

اب تک حماس 18 یرغمالیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے ساڑھے پانچ سو قیدی رہا کیے گئے ہیں۔

ہفتے کو رہائی پانے والے یہ تینوں یرغمالی سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گردانہ حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں تقریباﹰ 1,200 اسرائیلی شہر ہلاک ہو گئے تھے جب کہ جنگجو قریب ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے۔ اس کے بعد پندرہ ماہ سے زائد عرصے تک غزہ میں اسرائیل نے وسیع تر فضائی اور زمینی عسکری کارروائیاں کی، جن میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سنتالیس ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

ع ت / ر ب، م ا (روئٹرز، اے ایف پی)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یرغمالیوں کی رہائی کیا گیا گیا تھا کے بعد کو رہا

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا