عرفان صدیقی کے جملے پر قائمہ کمیٹی میں قہقہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کے ایک جملے پر قائمہ کمیٹی میں قہقہے لگ گئے۔
روز نامہ جنگ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں ایک موقع پر دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر اجازت دیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت پر قرار داد لاسکتے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی سینیٹر کو مخاطب کرکے بھی کہا کہ علی ظفر صاحب! آپ ناراض نہ ہوں تو ہم ٹرمپ کے بیانات کے خلاف قرارداد لانا چاہتے ہیں۔
ن لیگی سینیٹر کے اس جملے پر قائمہ کمیٹی اجلاس میں قہقہے لگ گئے، سینیٹر علی ظفر خود بھی عرفان صدیقی کے جملے پر ہنس دیے۔
اڈیالہ جیل میں دو حوالاتی انتقال کرگئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی عرفان صدیقی جملے پر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :