کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابل پاکستانی روپیہ تنزلی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 11 پیسے کے اضافے سے 279 روپے 25 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ مثبت معاشی اشاریوں کے باوجود زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں بدھ کو ایک بار پھر روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا۔ فروری میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 280 روپے پر آنے کی پیشگوئی اور معیشت میں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے روپیہ پر دباؤ رہا۔ آئی ایم ایف چیف کے پاکستان کے اسٹرکچرل اصلاحات پر اظہار اطمینان جیسے عوامل کے سبب انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر 06 پیسے کی کمی سے 279 روپے 10 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی سے ڈالر سپلائی متاثر ہونے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 11 پیسے کے اضافے سے 279 روپے 25 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈیمانڈ برقرار رہنے سے ڈالر کی قدر 02 پیسے کے اضافے سے 281 روپے 06 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیسے کی سطح پر ڈالر کی قدر
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔