عوام کیلئے خوشخبری، پیٹرول کی قیمت میں کتنی کمی ہوگی ؟ بڑی خبرآگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)(ویب ڈیسک ) پیٹرول کی قیمتوں سے پریشان شہریوں کیلئے اچھی خبر۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے سبب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2 روپے سے 8 روپے فی لیٹر تک کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں.
معروف تحقیقاتی ادارے نے اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ میں اہم پیشگوئی کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 فروری کو پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے کی کمی متوقع ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 79 پیسے کمی کی امید ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 فروری کو پیٹرول کی قیمت 254 روپے 90 پیسے فی لیٹر تک کم ہونے کا امکان ہے، 16 فروری کو ڈیزل کی قیمت 259 روپے 20 پیسے ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد تک کمی ہوئی ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 83.
مزیدپڑھیں:ہانیہ عامر کو بولڈ فوٹوشوٹ پر تنقید کا سامنا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پیٹرول کی قیمت کی قیمتوں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔