حکومتی دعووں کے برعکس رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان آگیا: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ غلام ذہنیت حکومت نے آئی ایم ایف کو عدالتوں اور اداروں تک بھی رسائی دے دی۔ عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات قومی وقار اور آزادی کے منافی ہے۔ چچا بھتیجی اشتہار دے کر مہنگائی کم کرنے میں مصروف ہیں، زمینی حقائق قطعی مختلف، رمضان کی آمد سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ جاری، پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں۔ ترکیہ کے صدر طیب اردگان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، امید ہے دونوں ممالک غزہ میں امن کے لیے جاندار کردار ادا کریں گے، غزہ پر اسلامی اور فلسطین کے حامی ممالک کی سربراہی کانفرنس بلائی جائے۔ ٹرمپ کا غزہ خالی کرانے کا بیان غیرسنجیدگی اور قبضہ گیروں کی طرح جاری کررہے، عالمی برادری نے اس ناپاک منصوبے کو مسترد کردیا، امریکہ اور اسرائیل مل کر غزہ جنگ کا تاوان دیں۔ کراچی پر کرپٹ، نااہل اور قبضہ مافیا مسلط ہے۔ فارم 47 سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں اور اس سے قبل میئر کی سیٹ پر قبضہ کرایا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے نااہل لوگوں کو مسلط کیا۔ مرضی کی عدلیہ اور پارلیمنٹ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہورہا۔ ملک کو بحرانی صورتحال سے نکالنا ہے تو آئین و قانون کی بالاستی قائم کرنا ہوگی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دس سال تک ملک چھوڑنے اور دوہری شہریت حاصل کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ حکومت بجلی کی قیمتیں کم کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور ڈائریکٹر ڈیجیٹل میڈیا سلمان شیخ بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔