ویب ڈیسک — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

دونوں رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور غیر ریاستی عناصر تک ان کی رسائی روکنے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ 21 ویں صدی کے لیے امریکہ اور بھارت کا تعاون ایک تاریخی قدم ہے جو ہماری شراکت داری اور دوستی کے ہر پہلو کو مضبوط کرے گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت کو رواں برس سے ہی دفاعی سازو سامان کی فروخت بڑھا دی جائے گی جس کے نتیجے میں نئی دہلی کو ‘ایف 35’لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

پاکستان کا ردِعمل

پاکستان نےاپنے ردِعمل میں مشترکہ اعلامیے کو’یک طرفہ’، ‘گمراہ کن’ اور ‘سفارتی اصولوں کے منافی’ قرار دیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نےایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے بھارت کو دفاعی سازو سامان کی فروخت بڑھانے کے اعلان پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا اندیشہ ہے اور یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے حصول میں بھی مددگار نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ 26 نومبر 2008 کو 10 دہشت گردوں نے ممبئی کے تاج ہوٹل سمیت کئی عمارتوں پر بیک وقت حملہ کیا تھا جس میں 166 افراد اور نو حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے طویل کوشش کے بعد ایک حملہ آور اجمل قصاب کو زندہ پکڑا تھا جس کے خلاف بھارتی عدالت میں مقدمہ چلا تھا اور اسے 2012 میں پھانسی دی گئی تھی۔

بھارت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ سے تھا۔ پاکستان کی حکومت اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔

جنوری 2016 میں پاکستانی سرحد کے قریب پٹھان کوٹ میں واقع بھارتی فضائیہ کے اڈے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کا الزام ہے کہ حملہ آور سرحد پار پاکستان سے آئے تھے اور اُن کا تعلق پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم ‘جیش محمد’ سے تھا۔

امریکہ اور بھارت کا تجارت بڑھانے پر اتفاق

ا س سے قبل جمعرات کو نریندر مودی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے امریکہ اور بھارت کے اقتصادی تعلقات کے "منصفانہ اور باہمی تعاون” پر مبنی ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنا چاہتے ہیں جس میں ممکنہ طور پر تجارتی محصولات میں اضافہ شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی جانب سے بین الاقوامی تجارت پر تمام ممالک پر مساوی مناسبت سے باہمی ٹیرف لگانے کا اقدام بھارت پر بھی لاگو ہو گا۔

انہوں ںے کہا کہ بھارت امریکی مصنوعات پر جو بھی ٹیرف لگاتا ہے، امریکہ بھی اتنا ہی ٹیرف لگا ئے گا۔باہمی مساوی ٹیرف کی صورتِ حال میں امریکہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بھارت کی طرف سے کیا ٹیرف لگائے جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور بھارت آنے والے ہفتوں میں تجارت بڑھانے پر مذاکرات شروع کریں گے۔







No media source now available

ملاقات کے آغاز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی سے بات چیت کے ذریعے یوکرین جنگ کے خاتمے کے انیشیٹو کی حمایت کی۔

وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ”دنیا سمجھتی تھی کہ اس (یوکرین جنگ کے) پورے عمل میں بھارت کسی نہ کسی طرح غیر جانبدار ملک ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہےکیوں کہ بھارت طرف دار ہے اور وہ امن کا طرف دار ہے۔”

تیل و گیس کی خریداری

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا کہ بھارت امریکہ سے "بہت زیادہ ” تیل اور گیس خریدے گا۔

ان کے بقول، "ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ تیل اور گیس ہے اور بھارت کو اس کی ضرورت ہے۔”

وزیرِ اعظم مودی نے بھی کہا کہ امریکہ اور بھارت نے 2030 تک اپنی دو طرفہ تجارت کو 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت امریکہ سے تقریباً 70 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کرتا ہے جب کہ سال 2023 میں اس کی امریکہ کو برآمدات 120 ارب ڈالر تھیں۔




ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ 2008 کے ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز تہور حسین رانا کی بھارت حوالگی کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا "وہ ( تہور حسین رانا) انصاف کا سامنا کرنے کے لیے بھارت واپس جا رہا ہے اور ہم اسے فوری طور پر بھارت کے حوالے کر رہے ہیں۔”

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ” چین دنیا کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ یوکرین اور روس کے ساتھ اس جنگ کو ختم کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔”

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ کافی شدید رہی ہیں اور "اگر میں مدد کر سکتا ہوں تو میں مدد کرنا پسند کروں گا کیوں کہ اسے روک دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔”







No media source now available

بھارتی وزیر اعظم نے ٹرمپ کے "میک امریکہ گریٹ اگین” وعدے کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ "انڈیا کو دوبارہ عظیم بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”

انہوں نے ٹرمپ کی امریکی تحریک ‘میک امریکہ گریٹ اگین’ کے مخفف ایم اے جی اے کے مقابلے میں ایم آئی جی اے یعنی ‘میک انڈیا گریٹ اگین’ کا مخفف بھی استعمال کیا۔

ٹرمپ نے دفاع کے شعبے میں امریکہ اور بھارت کے تعاون کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن جلد ہی بھارت کو "کئی ملین ڈالر” کے فوجی ساز و سامان کی فروخت میں اضافہ کرے گا۔

خبر رساں ادارے ‘ ایسو سی ایٹد پریس’ کے مطابق ٹرمپ کی ملٹری فروخت کے اقدام سے بھارت کو بالآخر ایف 35″ اسٹیلتھ ” لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی – نئی دہلی ایک عرصے سے یہ طیارے خریدنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مودی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم اپنے شہریوں کو لینے کو تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے انسانی ٹریفکنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور بھارت کی جانب سے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

اس رپورٹ میں بعض معلومات خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز سے لی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت صحافیوں سے ملاقات کے کرتے ہوئے کے مطابق انہوں نے بھارت کو بھارت کا کہ بھارت بھارت کے ہے اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا