اہل فلسطین مہنگائی و بھوک سے پریشان
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
اکتالیس سالہ غدہ الکفرنا وسطی غزہ میں کمیونٹی کچن کے باہر ہر روز کی طرح قطار میں کھڑی تھیں۔ گیارہ بجے کا وقت تھا اور پانچ بچوں کی ماں پچھلے دو گھنٹے سے وہاں آئی ہوئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں’’میرے لیے خوراک اور روٹی کا حصول ایک مستقل جنگ ہے۔‘‘ سینکڑوں بچے، خواتین اور مرد ان کے گرد گھوم رہے تھے۔
غدہ کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں اور ان کے شوہر ایک دائمی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگ سے پہلے بھی کام نہیں کر رہے تھے۔اب یہ خاندان، جو شمال میں واقع بیت ہنون میں اپنی رہائش گاہ ر سے جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گیا تھا، دیر البلاح میں اقوام متحدہ کے ادارے، انروا( UNRWA )کے ایک اسکول میں رہائش پذیر ہے۔وہ بھوک مٹانے کے لیے مفت کھانا تقسیم کرنے والے کمیونٹی یا خیراتی باورچی خانوں پر انحصار کرتا ہے جنھیں مقامی طور پہ ’’تکیہ ‘‘کہا جاتا ہے۔
غدہ کہتی ہیں، جب تکیہ بند ہو جاتا ہے تو میرے پاس پڑوسیوں سے کھانے کے لیے بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ آج بھی تکیے سے کھانا لینے آئی ہوئی ہیں مگر بہت تک چکی۔ کہتی ہیں ’’میرے بچوں نے پچھلی دوپہر سے کچھ نہیں کھایا۔ پچھلے چار دنوں سے چیریٹی کچن مشکل حالات کی وجہ سے بند ہیں۔ہمیں مانگ تانگ کر دوپہر کا کھانا تو مل جاتا ہے مگر بچے ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔" انھوں نے روتے ہوئے بتایا۔’’میں اردگرد آباد لوگوں سے ہر روز مدد کی درخواست کرتی ہوں۔لیکن زیادہ تر لوگ غذا کی کمی کا شکار اور میرے خاندان کو کوئی مدد فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘
اکتوبر 2023ء میں جب اسرائیل نے غزہ کی اپنی جنگ شروع کی، تو اس نے پٹی کی "مکمل" ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تب سے چودہ ماہ سے زیادہ عرصے میں اسرائیل نے غزہ جانے والی خوراک میں سے صرف 38 فیصد مقدار کو وہاں محصور بچوں، خواتین اور بوڑھوں تک نہیں پہنچنے دیا ۔بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور خیراتی اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بیس لاکھ سے زائد افراد بھوک کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل پر بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ۔
یکم دسمبر 2024ء کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی، انروا (UNRWA) نے اعلان کیا کہ اس نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کریم ابو سالم کے ذریعے امداد کی ترسیل روک دی ہے جسے اسرائیل اور غزہ کے درمیان انسانی امداد کے لیے اہم کراسنگ پوائنٹ کہا جاتا ہے ۔دراصل خوراک اور امداد کے ٹرکوں کو مسلح گروہ لوٹنے لگے تھے۔
خوراک کی بندش نے غدہ کے خاندان سمیت ہزارہا فلسطینی گھرانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جو پہلے ہی ایک سال سے زیادہ عرصے جاری رہنے والی جنگ سے تباہ ہو چکے۔ جنگ نے ان کی ذہنی اور جذباتی تندرستی پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے۔غدہ کہتی ہیں ’’جب میں اپنے بچوں کے لیے کھانا اور ان کو محفوظ کرنے کی خاطر ہر روز بھیک مانگتی ہوں تو ذلت اور رسوائی محسوس کرتی ہوں ۔ میں اس نہ ختم ہونے والی جدوجہد کی وجہ سے روزانہ موت کی تمنا کرتی ہوں۔جب میرے بچے بھوک سے روتے ہیں، تو میں کبھی کبھی مایوسی میں ان کو پیٹ ڈالتی ہوں۔ کل رات،میں نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو مارا کیونکہ وہ کھانے کے لیے رو رہا تھا۔انھوں نے انکشاف کیا۔ ان کی آواز غم سے بھری ہوئی تھی۔’’وہ روتے روتے سو گیا اور میں نے بھی رات روتے ہوئے گزاری۔‘‘انہوں نے دنیا والوں سے التجا کی:
"ہماری صورتحال الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ خدا کے لیے اس جنگ کو بند کرو۔ ہم تھک چکے ہیں۔"
غدہ کی طرح محمد ابو رامی بھی اپنے گیارہ افراد رکنی خاندان کو کھانا کھلانے کے لیے مکمل طور پر کمیونٹی کچن پر انحصار کرتے ہیں۔ اٹھاون سالہ محمد ابورامی دیر البلاح کے ایک عارضی کیمپ میں واقع اپنے خیمے سے روزانہ دو بیٹوں کے ساتھ خیراتی باورچی خانے آتے اور قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اکثر کھانے کی تقسیم شروع ہونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے پہنچتے ہیِں۔ کہتے ہیں:’’ تکیوں کے بغیر ہم کہیں سے کھانا حاصل نہیں کر سکتے اور بھوک کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر مر جائیں گے۔ پچھلے ہفتے جب خیراتی اداروں کو بند کر دیا گیا، تو ہم نے کئی دن بغیر کھائے پیے گذارے۔ ہماری بقا کا انحصار صرف اس کھانے پر ہے جو تکیے فراہم کرتے ہیں۔"
جب وہ کھانے ملنے کا انتظار کر رہے تھے تو ایک پلاسٹک کا کنٹینر پکڑے ہوئے محمد ابو رامی نے بتایا کہ اس کا خاندان جو غزہ شہر سے بے گھر ہو گیا تھا، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔’’ہمارے پاس کوئی کام نہیں، کوئی پیسا نہیں، کوئی دوا نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، "ہمیں پانچ ماہ سے زائد عرصے میں خوراک پہ مشتمل کوئی امداد نہیں ملی۔" اس کی آواز بھاری تھی۔ "اس قحط کے دوران ہم کس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں؟ ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ ہم بمباری، بھوک اور سردی میں مر رہے ہیں۔ ہمارے پاس صرف خدا ہے۔ مگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ میں نے کبھی ایسے ناقابل برداشت دنوں سے گزرنے کا تصّور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ جان بوجھ کر بھوکا مرنا ہے … ایک جنگ کے اندر دوسری جنگ۔"
یہ تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا اور کریمہ البطش بیکری کے باہر قطار میں کھڑے رہنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی کیونکہ اس کے آس پاس کھڑے لوگ روٹی خریدنے کے لیے آگے پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ صبح پانچ بجے سے وہاں موجود تھی ۔ جب وہ بیکری پہنچی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی وہاں سینکڑوں لوگ پہلے سے ہی قطار بنائے انتظار کر رہے تھے ۔ہر کوئی کھانے کی ایک روٹی کے لیے مقابلہ کر رہا تھا۔
جہاں ہزاروں فلسطینی روزانہ کمیونٹی کچنوں کے سامنے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، اس سے بھی زیادہ تعداد میں لوگ صبح سویرے ہی بیکریوں کے باہر جمع ہوجا تے ہیں۔کمیونٹی کچن اور بیکریاں ،دونوں اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے گندم کے آٹے کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ وہ محدود تعداد میں ہی روٹیاں بنا پاتے ہیں۔
انتالیس سالہ کریمہ البطش بتاتی ہے ’’ کئی ماہ ہو چکے، میرے پاس آٹا نہیں ہے اور بازاروں میں بھی دستیاب نہیں۔کسی امدادی ایجنسی نے بھی ہمیں آٹا فراہم نہیں کیا۔‘‘کریمہ اور اس کا خاندان غزہ شہر کے زیتون محلے میں رہتا تھا۔ وہ بے گھر ہونے کے بعد دیر البلاح چلا آیا اور خیمے میں رہنے لگا۔ وہیں اس کے شوہر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ چار بچوں کی ماں اب بیکریوں کے باہر روٹیاں پانے کی خاطر بپھرے ہجوم کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ خوفناک صورت حال غزہ میں گہرے ہوتے بھوک کے سنگین بحران کی واضح علامت بن گئی ہے۔ غزہ میں بھوک اور مایوسی نے لوگوں کی قوت برداشت کو اپنی آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے۔
کریمہ اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’یہ منظر افراتفری اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔ہر کوئی اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے اور روٹی کے چند ٹکڑے حاصل کرنے کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے۔ بھوک زوروں پر ہوتی ہے ، اس لیے ہر کوئی بے لگام ہو جاتا ہے اور اپنے حواس میں نہیں رہتا۔ پچھلے ہفتے دیر البلاح میں تین خواتین بھگدڑ میں دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔ دنیا کیسے ایسا ہونے کی اجازت دے سکتی ہے؟یہاں انسان صرف ایک روٹی کے لیے مر رہے ہیں؟"
وہ دیکھیے ، محمد دردونہ بیکری کی قطار سے نکلے ہیں ۔ روٹی پانے کے لیے قطار میں لگنے کو وہ "روٹی کی جنگ" کہتے ہیں ۔ اس کے کپڑے دھول آلود ہیں اور چہرہ تھکن سے بھرا ہوا تھا۔بیالیس سالہ محمد دردونہ غم وغصّے سے بھرے لہجے میں کہتے ہیں ’’ہماری زندگی کولتار کی طرح سیاہ اور تاریک ہو چکی۔غزہ کے لوگ جن روح فرسا مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، دنیا والے ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ اس کے کندھے پر روٹی کا ایک چھوٹا سا تھیلا لدا ہوا تھا۔
"میں اپنے گھر والوں کے لیے پانی لانے کو صبح پانچ بجے اٹھتا ہوں۔ صبح آٹھ سے نو بجے تک میں اپنے بچوں کے لیے کھانا تلاش کرنے کی خاطر تکیہ تلاش کرتا ہوں۔ پھر روٹی کے حصول کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑا رہتا ہوں۔ اب آٹے کی قلت کی وجہ سے روٹیاں نایاب ہو رہی ہیں۔‘‘ انھوں نے دیر البلاح میں اپنے روزمرہ کے معمولات بیان کرتے ہوئے وضاحت کی۔ ’’یہ ہے اب میرے جیسے بہت سے لوگوں کے لیے غزہ میں زندگی کا خلاصہ ۔‘‘
آٹھ بچوں کے والد محمددردونہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ میں مقیم تھے۔ جنگ شروع ہوئی تو گھر ان سے چھٹ گیا۔ اس وقت بھی جبالیہ میںتقریباً ایک لاکھ فلسطینی رہ رہے ہیں۔ انہیں بھوک اور غذا کی قلت کا سامنا ہے۔ عالمی امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ جلد وہاں قحط پڑ سکتا ہے اور غذا نہ ہونے سے خاص طور پہ بچے تیزی سے مرنے لگیں گے۔
محمد دردونہ کا کہنا ہے’’ میں ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا ۔ میری ایک چھوٹی سی دکان تھی جس سے خاطر خواہ آمدنی ہو جاتی۔ میرا اپنا گھر تھا جہاں ہم تکالیف کے باوجود رہ رہے تھے۔ ہم نے جنگ کی ہولناکیوں کو برداشت کر لیا لیکن اس طرح بھوک کا سامنا کرنا ناقابل تصّور ہے۔‘‘
اس وقت غزہ میں25 کلو گرام (55 پاؤنڈ) آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ہزار شیکل (28 ڈالر) سے زیادہ ہو چکی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 78 ہزار روپے بنتی ہے۔ محمد کہتے ہیں، اب اتنا زیادہ مہنگا آٹا تو غزہ کے امیر لوگ بھی نہیں خرید سکتے۔ ان کی جمع پونجی بھی جنگ کے باعث ختم ہو چکی۔ ان کا کہنا ہے’’ آٹا اگر اسی طرح مہنگا ہوتا رہا تو ہم خود کو زندہ دفن کر لیں گے۔ موت ہی فرار کا واحد راستہ ہے۔میں نے کبھی ایسے دن کا تصّور بھی نہیں کیا تھا جب میں بھوکا رہوں گا یا اپنے بچوں کو بھوکا دیکھوں گا۔ہم دنیا والو ں سے اپیل کرتے ہیں کہ جنگ بند کرو اور آٹا آنے دو۔ غزہ میں انسانیت کی تذلیل ہوتے دیکھ کر ان کو کچھ تو شرم آنی چاہیے۔"
نو بچوں کی چوالیس سالہ ماں ، فادیہ وادی کمزور جسم رکھتی ہیں۔ وہ بیکری کے گیٹوں پر بڑے ہجوم کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔اس لیے انھیں مانگ تانگ کر کیڑوں والا آٹا بھی مل جائے تو اس کو غنیمت سمجھتی ہیں۔ انھوں نے غزہ کے درے پر آئے غیر ملکی صحافیوں کو بتایا:
’’ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ آٹا خراب ہے۔ کیڑوں سے بھرا ہوا ہے اور اس میں سے تیز بو آ رہی ہے۔‘‘ فادیہ نے آٹا گوندھنے سے پہلے بڑی محنت سے کیڑے نکالتے ہوئے وضاحت کی۔ "لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ؟ آٹا یا تو دستیاب نہیں یا بہت مہنگا ہے۔"
فادیہ وادی کا کہنا ہے ، بھوک نے انہیں ناقابل تصّور سمجھوتا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کا بڑا بیٹا جنوری میں شمالی غزہ میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیا تھا، جب کہ اس کا شوہر شمال میں رہتا ہے۔ اس نے اسے اپنے باقی آٹھ بچوں کی پرورش کے لیے چھوڑ دیا۔’’جنگ نے ہمیں ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیا جنھیں انجام دینے کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ مجھے اب اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے پڑتے ہیں۔‘‘
اگرچہ اس کے بچے خراب آٹے سے بنی روٹی کھانے سے ہچکچاتے ہیں، لیکن فادیہ کو لگتا ہے، یہ کھانا بیکریوں پر پُرتشدد قطار میں لگنے سے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ وہ کہتی ہے ’’میں نے دو دن پہلے روٹی لینے کی کوشش کی تھی لیکن میں بھگدڑ مچنے کے باعث سے زخموں سے ڈھکی ہوئی واپس آئی۔‘‘ آٹا گوندھتے ہوئے اس کا کہنا ہے ’’یہ ایک المناک، انتہائی مشکل زندگی ہے۔‘‘
تکیوں اور بیکریوں پر کھڑے مرد ، خواتین اور بچوں کو جہاں بھگدڑ میں پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے، وہیں انہیں اسرائیلی حملوں کے خطرے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غزہ میں سبزی، گوشت اور پولٹری اور چاول اور پاستا جیسی بنیادی چیزیں عام دستیاب نہیں ہیں ۔ یا پھر بہت مہنگے داموں ملتی ہیں۔ فادیہ کے پاس کیڑوں سے متاثرہ آٹے کے ساتھ کھانا پکانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔وہ آنکھوں میں آنسو لیے کہتی ہے:
’’غزہ میں آٹا غائب ہے۔ امداد کی کمی ہے اور امدادی پارسل مہینوں سے نہیں پہنچے۔ میں بچوں کو روٹی یا کھانا کیسے فراہم کروں؟" وہ مزید کہتی ہے ’’ہم پہلے یہ خراب آٹا جانوروں کے آگے پھینک دیتے تھے۔لیکن اب ہم اسے اپنے بچوں کو کھلانے پر مجبور ہو چکے۔ اب ہمیں اس بات کی بھی پروا نہیں کہ اسے کھا کر بیمار ہو جائیں گے۔ اب ہماری منزل یہی بن چکی کہ جس طرح بھی بن پڑے، اپنی بھوک مٹا لیں۔‘‘
اہل غزہ کے لاکھوں مرد و زن اور بچوں کی زندگیاں اب خیراتی تقسیم پر منحصر ہو چکیں۔ فادیہ ایک ایسی زندگی کی زندہ مثال بن چکی جس میں لامتناہی انتظار اور لمبی قطاروں کا غلبہ ہے۔ ’’یہاں سب کچھ ایک لائن ہے، ایک قطار … کھانا، روٹی، پانی، سب کچھ!" وہ کہتی ہے ’’ہم بھوکے ہیں، ہم ہر چیز کو ترستے ہیں۔ پتا نہیں ہمارا کیا بنے گا؟‘‘
پیاز اور نمک بھی مہنگے
علاء البتنیجی دیر البلاح میں سبزیوں کے اسٹینڈ کے سامنے کھڑے ہو کر چند سبزیاں احتیاط سے چن رہے تھے ۔وہ ایسی سبزی خریدنا چاہتے تھے جسے اپنی جیب کے مطابق لے کر اپنے چار بچوں کے خاندان کو کھلا سکیں۔اڑتیس سالہ علاء کہتے ہیں:’’سبزیوں کی قیمتیں ناقابل یقین ہیں۔ہم پہلے سبزیاں کلو کے حساب سے خریدتے تھے لیکن اب یہ اتنی زیادہ مہنگی ہو چکیں کہ ہمیں ٹکڑوں کے حساب سے خریدنا پڑتا ہے۔‘‘
ہلچل سے بھری سبزی و پھل کی منڈیاں کبھی بہت سے لوگوں کے لیے رزق کا ذریعہ ہوتی تھیں۔مگر جنگ کے آغاز سے ہی وہاں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس وجہ سے وہ خاص طور پہ بے گھر خاندانوں کے لیے ایسے مقام بن گئیں جہاں انھیں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ مہنگائی کا اندازہ یوں لگائیے کہ غزہ میں صرف دو پیاز اور دو ٹماٹر کی قیمت تقریباً 32 شیکل (9ڈالر) ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ڈھائی ہزار روپے بنتی ہے۔
’’ہر روز ہم امید کرتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے گی، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس قدر مہنگائی، فاقہ کشی اور مشکلات کو دیکھنے کا کبھی تصّور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘ علاء البتنیجی کہتے ہیں جو جنگ سے قل غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے میں رہتے تھے مگر اب بے گھر ی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
’’میں نے آج دو پیاز چھ شیکلز میں خریدے،گویا صرف دو پیاز کے لیے تین ڈالر ادا کرنا پڑے۔ ماضی میں، میں ایک شیکل میں پورا کلو پیاز خرید سکتا تھا۔میں نے دو ٹماٹر بھی خریدے۔ ہر ٹماٹر کے لیے مجھے دس شیکل (تقریباً تین ڈالر) ادا کرنا پڑے۔یہاں کی قیمتیں جان کر ایسا محسوس ہوتا ہے ، میں شکاگو یا پیرس میں خریداری کر رہا ہوں… اب تو غزہ میں پیاز اور نمک بھی عیش و عشرت کی علامت بن چکے ۔‘‘ انھوں نے ایک تھیلے میں دو پیاز ڈالتے ہوئے کہا:
’’ مجھے ان لوگوں پر بہت ترس آتا ہے جو ناقابل یقین حالات برداشت کر رہے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیر البلاح میں ور بھی نہیں کر رہے تھے کا کہنا ہے اپنے بچوں کی وجہ سے میں واقع کہتے ہیں نہیں کیا انھوں نے سے زیادہ میں اپنے کرتے ہیں کے لیے ا رہے ہیں ہوتا ہے کیا تھا بچوں کی جاتا ہے روٹی کے بچوں کو کے باہر بچوں کے دو پیاز نہیں ہو ہے اور جنگ کے ہو چکی کر دیا ہیں کی غزہ کے ہیں کہ ہو گیا بے گھر
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔