اہل فلسطین مہنگائی و بھوک سے پریشان
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
اکتالیس سالہ غدہ الکفرنا وسطی غزہ میں کمیونٹی کچن کے باہر ہر روز کی طرح قطار میں کھڑی تھیں۔ گیارہ بجے کا وقت تھا اور پانچ بچوں کی ماں پچھلے دو گھنٹے سے وہاں آئی ہوئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں’’میرے لیے خوراک اور روٹی کا حصول ایک مستقل جنگ ہے۔‘‘ سینکڑوں بچے، خواتین اور مرد ان کے گرد گھوم رہے تھے۔
غدہ کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں اور ان کے شوہر ایک دائمی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگ سے پہلے بھی کام نہیں کر رہے تھے۔اب یہ خاندان، جو شمال میں واقع بیت ہنون میں اپنی رہائش گاہ ر سے جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گیا تھا، دیر البلاح میں اقوام متحدہ کے ادارے، انروا( UNRWA )کے ایک اسکول میں رہائش پذیر ہے۔وہ بھوک مٹانے کے لیے مفت کھانا تقسیم کرنے والے کمیونٹی یا خیراتی باورچی خانوں پر انحصار کرتا ہے جنھیں مقامی طور پہ ’’تکیہ ‘‘کہا جاتا ہے۔
غدہ کہتی ہیں، جب تکیہ بند ہو جاتا ہے تو میرے پاس پڑوسیوں سے کھانے کے لیے بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ آج بھی تکیے سے کھانا لینے آئی ہوئی ہیں مگر بہت تک چکی۔ کہتی ہیں ’’میرے بچوں نے پچھلی دوپہر سے کچھ نہیں کھایا۔ پچھلے چار دنوں سے چیریٹی کچن مشکل حالات کی وجہ سے بند ہیں۔ہمیں مانگ تانگ کر دوپہر کا کھانا تو مل جاتا ہے مگر بچے ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔" انھوں نے روتے ہوئے بتایا۔’’میں اردگرد آباد لوگوں سے ہر روز مدد کی درخواست کرتی ہوں۔لیکن زیادہ تر لوگ غذا کی کمی کا شکار اور میرے خاندان کو کوئی مدد فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘
اکتوبر 2023ء میں جب اسرائیل نے غزہ کی اپنی جنگ شروع کی، تو اس نے پٹی کی "مکمل" ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تب سے چودہ ماہ سے زیادہ عرصے میں اسرائیل نے غزہ جانے والی خوراک میں سے صرف 38 فیصد مقدار کو وہاں محصور بچوں، خواتین اور بوڑھوں تک نہیں پہنچنے دیا ۔بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور خیراتی اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بیس لاکھ سے زائد افراد بھوک کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل پر بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ۔
یکم دسمبر 2024ء کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی، انروا (UNRWA) نے اعلان کیا کہ اس نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کریم ابو سالم کے ذریعے امداد کی ترسیل روک دی ہے جسے اسرائیل اور غزہ کے درمیان انسانی امداد کے لیے اہم کراسنگ پوائنٹ کہا جاتا ہے ۔دراصل خوراک اور امداد کے ٹرکوں کو مسلح گروہ لوٹنے لگے تھے۔
خوراک کی بندش نے غدہ کے خاندان سمیت ہزارہا فلسطینی گھرانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جو پہلے ہی ایک سال سے زیادہ عرصے جاری رہنے والی جنگ سے تباہ ہو چکے۔ جنگ نے ان کی ذہنی اور جذباتی تندرستی پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے۔غدہ کہتی ہیں ’’جب میں اپنے بچوں کے لیے کھانا اور ان کو محفوظ کرنے کی خاطر ہر روز بھیک مانگتی ہوں تو ذلت اور رسوائی محسوس کرتی ہوں ۔ میں اس نہ ختم ہونے والی جدوجہد کی وجہ سے روزانہ موت کی تمنا کرتی ہوں۔جب میرے بچے بھوک سے روتے ہیں، تو میں کبھی کبھی مایوسی میں ان کو پیٹ ڈالتی ہوں۔ کل رات،میں نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو مارا کیونکہ وہ کھانے کے لیے رو رہا تھا۔انھوں نے انکشاف کیا۔ ان کی آواز غم سے بھری ہوئی تھی۔’’وہ روتے روتے سو گیا اور میں نے بھی رات روتے ہوئے گزاری۔‘‘انہوں نے دنیا والوں سے التجا کی:
"ہماری صورتحال الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ خدا کے لیے اس جنگ کو بند کرو۔ ہم تھک چکے ہیں۔"
غدہ کی طرح محمد ابو رامی بھی اپنے گیارہ افراد رکنی خاندان کو کھانا کھلانے کے لیے مکمل طور پر کمیونٹی کچن پر انحصار کرتے ہیں۔ اٹھاون سالہ محمد ابورامی دیر البلاح کے ایک عارضی کیمپ میں واقع اپنے خیمے سے روزانہ دو بیٹوں کے ساتھ خیراتی باورچی خانے آتے اور قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اکثر کھانے کی تقسیم شروع ہونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے پہنچتے ہیِں۔ کہتے ہیں:’’ تکیوں کے بغیر ہم کہیں سے کھانا حاصل نہیں کر سکتے اور بھوک کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر مر جائیں گے۔ پچھلے ہفتے جب خیراتی اداروں کو بند کر دیا گیا، تو ہم نے کئی دن بغیر کھائے پیے گذارے۔ ہماری بقا کا انحصار صرف اس کھانے پر ہے جو تکیے فراہم کرتے ہیں۔"
جب وہ کھانے ملنے کا انتظار کر رہے تھے تو ایک پلاسٹک کا کنٹینر پکڑے ہوئے محمد ابو رامی نے بتایا کہ اس کا خاندان جو غزہ شہر سے بے گھر ہو گیا تھا، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔’’ہمارے پاس کوئی کام نہیں، کوئی پیسا نہیں، کوئی دوا نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، "ہمیں پانچ ماہ سے زائد عرصے میں خوراک پہ مشتمل کوئی امداد نہیں ملی۔" اس کی آواز بھاری تھی۔ "اس قحط کے دوران ہم کس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں؟ ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ ہم بمباری، بھوک اور سردی میں مر رہے ہیں۔ ہمارے پاس صرف خدا ہے۔ مگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ میں نے کبھی ایسے ناقابل برداشت دنوں سے گزرنے کا تصّور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ جان بوجھ کر بھوکا مرنا ہے … ایک جنگ کے اندر دوسری جنگ۔"
یہ تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا اور کریمہ البطش بیکری کے باہر قطار میں کھڑے رہنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی کیونکہ اس کے آس پاس کھڑے لوگ روٹی خریدنے کے لیے آگے پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ صبح پانچ بجے سے وہاں موجود تھی ۔ جب وہ بیکری پہنچی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی وہاں سینکڑوں لوگ پہلے سے ہی قطار بنائے انتظار کر رہے تھے ۔ہر کوئی کھانے کی ایک روٹی کے لیے مقابلہ کر رہا تھا۔
جہاں ہزاروں فلسطینی روزانہ کمیونٹی کچنوں کے سامنے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، اس سے بھی زیادہ تعداد میں لوگ صبح سویرے ہی بیکریوں کے باہر جمع ہوجا تے ہیں۔کمیونٹی کچن اور بیکریاں ،دونوں اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے گندم کے آٹے کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ وہ محدود تعداد میں ہی روٹیاں بنا پاتے ہیں۔
انتالیس سالہ کریمہ البطش بتاتی ہے ’’ کئی ماہ ہو چکے، میرے پاس آٹا نہیں ہے اور بازاروں میں بھی دستیاب نہیں۔کسی امدادی ایجنسی نے بھی ہمیں آٹا فراہم نہیں کیا۔‘‘کریمہ اور اس کا خاندان غزہ شہر کے زیتون محلے میں رہتا تھا۔ وہ بے گھر ہونے کے بعد دیر البلاح چلا آیا اور خیمے میں رہنے لگا۔ وہیں اس کے شوہر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ چار بچوں کی ماں اب بیکریوں کے باہر روٹیاں پانے کی خاطر بپھرے ہجوم کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ خوفناک صورت حال غزہ میں گہرے ہوتے بھوک کے سنگین بحران کی واضح علامت بن گئی ہے۔ غزہ میں بھوک اور مایوسی نے لوگوں کی قوت برداشت کو اپنی آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے۔
کریمہ اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’یہ منظر افراتفری اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔ہر کوئی اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے اور روٹی کے چند ٹکڑے حاصل کرنے کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے۔ بھوک زوروں پر ہوتی ہے ، اس لیے ہر کوئی بے لگام ہو جاتا ہے اور اپنے حواس میں نہیں رہتا۔ پچھلے ہفتے دیر البلاح میں تین خواتین بھگدڑ میں دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔ دنیا کیسے ایسا ہونے کی اجازت دے سکتی ہے؟یہاں انسان صرف ایک روٹی کے لیے مر رہے ہیں؟"
وہ دیکھیے ، محمد دردونہ بیکری کی قطار سے نکلے ہیں ۔ روٹی پانے کے لیے قطار میں لگنے کو وہ "روٹی کی جنگ" کہتے ہیں ۔ اس کے کپڑے دھول آلود ہیں اور چہرہ تھکن سے بھرا ہوا تھا۔بیالیس سالہ محمد دردونہ غم وغصّے سے بھرے لہجے میں کہتے ہیں ’’ہماری زندگی کولتار کی طرح سیاہ اور تاریک ہو چکی۔غزہ کے لوگ جن روح فرسا مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، دنیا والے ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ اس کے کندھے پر روٹی کا ایک چھوٹا سا تھیلا لدا ہوا تھا۔
"میں اپنے گھر والوں کے لیے پانی لانے کو صبح پانچ بجے اٹھتا ہوں۔ صبح آٹھ سے نو بجے تک میں اپنے بچوں کے لیے کھانا تلاش کرنے کی خاطر تکیہ تلاش کرتا ہوں۔ پھر روٹی کے حصول کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑا رہتا ہوں۔ اب آٹے کی قلت کی وجہ سے روٹیاں نایاب ہو رہی ہیں۔‘‘ انھوں نے دیر البلاح میں اپنے روزمرہ کے معمولات بیان کرتے ہوئے وضاحت کی۔ ’’یہ ہے اب میرے جیسے بہت سے لوگوں کے لیے غزہ میں زندگی کا خلاصہ ۔‘‘
آٹھ بچوں کے والد محمددردونہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ میں مقیم تھے۔ جنگ شروع ہوئی تو گھر ان سے چھٹ گیا۔ اس وقت بھی جبالیہ میںتقریباً ایک لاکھ فلسطینی رہ رہے ہیں۔ انہیں بھوک اور غذا کی قلت کا سامنا ہے۔ عالمی امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ جلد وہاں قحط پڑ سکتا ہے اور غذا نہ ہونے سے خاص طور پہ بچے تیزی سے مرنے لگیں گے۔
محمد دردونہ کا کہنا ہے’’ میں ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا ۔ میری ایک چھوٹی سی دکان تھی جس سے خاطر خواہ آمدنی ہو جاتی۔ میرا اپنا گھر تھا جہاں ہم تکالیف کے باوجود رہ رہے تھے۔ ہم نے جنگ کی ہولناکیوں کو برداشت کر لیا لیکن اس طرح بھوک کا سامنا کرنا ناقابل تصّور ہے۔‘‘
اس وقت غزہ میں25 کلو گرام (55 پاؤنڈ) آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ہزار شیکل (28 ڈالر) سے زیادہ ہو چکی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 78 ہزار روپے بنتی ہے۔ محمد کہتے ہیں، اب اتنا زیادہ مہنگا آٹا تو غزہ کے امیر لوگ بھی نہیں خرید سکتے۔ ان کی جمع پونجی بھی جنگ کے باعث ختم ہو چکی۔ ان کا کہنا ہے’’ آٹا اگر اسی طرح مہنگا ہوتا رہا تو ہم خود کو زندہ دفن کر لیں گے۔ موت ہی فرار کا واحد راستہ ہے۔میں نے کبھی ایسے دن کا تصّور بھی نہیں کیا تھا جب میں بھوکا رہوں گا یا اپنے بچوں کو بھوکا دیکھوں گا۔ہم دنیا والو ں سے اپیل کرتے ہیں کہ جنگ بند کرو اور آٹا آنے دو۔ غزہ میں انسانیت کی تذلیل ہوتے دیکھ کر ان کو کچھ تو شرم آنی چاہیے۔"
نو بچوں کی چوالیس سالہ ماں ، فادیہ وادی کمزور جسم رکھتی ہیں۔ وہ بیکری کے گیٹوں پر بڑے ہجوم کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔اس لیے انھیں مانگ تانگ کر کیڑوں والا آٹا بھی مل جائے تو اس کو غنیمت سمجھتی ہیں۔ انھوں نے غزہ کے درے پر آئے غیر ملکی صحافیوں کو بتایا:
’’ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ آٹا خراب ہے۔ کیڑوں سے بھرا ہوا ہے اور اس میں سے تیز بو آ رہی ہے۔‘‘ فادیہ نے آٹا گوندھنے سے پہلے بڑی محنت سے کیڑے نکالتے ہوئے وضاحت کی۔ "لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ؟ آٹا یا تو دستیاب نہیں یا بہت مہنگا ہے۔"
فادیہ وادی کا کہنا ہے ، بھوک نے انہیں ناقابل تصّور سمجھوتا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کا بڑا بیٹا جنوری میں شمالی غزہ میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیا تھا، جب کہ اس کا شوہر شمال میں رہتا ہے۔ اس نے اسے اپنے باقی آٹھ بچوں کی پرورش کے لیے چھوڑ دیا۔’’جنگ نے ہمیں ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیا جنھیں انجام دینے کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ مجھے اب اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے پڑتے ہیں۔‘‘
اگرچہ اس کے بچے خراب آٹے سے بنی روٹی کھانے سے ہچکچاتے ہیں، لیکن فادیہ کو لگتا ہے، یہ کھانا بیکریوں پر پُرتشدد قطار میں لگنے سے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ وہ کہتی ہے ’’میں نے دو دن پہلے روٹی لینے کی کوشش کی تھی لیکن میں بھگدڑ مچنے کے باعث سے زخموں سے ڈھکی ہوئی واپس آئی۔‘‘ آٹا گوندھتے ہوئے اس کا کہنا ہے ’’یہ ایک المناک، انتہائی مشکل زندگی ہے۔‘‘
تکیوں اور بیکریوں پر کھڑے مرد ، خواتین اور بچوں کو جہاں بھگدڑ میں پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے، وہیں انہیں اسرائیلی حملوں کے خطرے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غزہ میں سبزی، گوشت اور پولٹری اور چاول اور پاستا جیسی بنیادی چیزیں عام دستیاب نہیں ہیں ۔ یا پھر بہت مہنگے داموں ملتی ہیں۔ فادیہ کے پاس کیڑوں سے متاثرہ آٹے کے ساتھ کھانا پکانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔وہ آنکھوں میں آنسو لیے کہتی ہے:
’’غزہ میں آٹا غائب ہے۔ امداد کی کمی ہے اور امدادی پارسل مہینوں سے نہیں پہنچے۔ میں بچوں کو روٹی یا کھانا کیسے فراہم کروں؟" وہ مزید کہتی ہے ’’ہم پہلے یہ خراب آٹا جانوروں کے آگے پھینک دیتے تھے۔لیکن اب ہم اسے اپنے بچوں کو کھلانے پر مجبور ہو چکے۔ اب ہمیں اس بات کی بھی پروا نہیں کہ اسے کھا کر بیمار ہو جائیں گے۔ اب ہماری منزل یہی بن چکی کہ جس طرح بھی بن پڑے، اپنی بھوک مٹا لیں۔‘‘
اہل غزہ کے لاکھوں مرد و زن اور بچوں کی زندگیاں اب خیراتی تقسیم پر منحصر ہو چکیں۔ فادیہ ایک ایسی زندگی کی زندہ مثال بن چکی جس میں لامتناہی انتظار اور لمبی قطاروں کا غلبہ ہے۔ ’’یہاں سب کچھ ایک لائن ہے، ایک قطار … کھانا، روٹی، پانی، سب کچھ!" وہ کہتی ہے ’’ہم بھوکے ہیں، ہم ہر چیز کو ترستے ہیں۔ پتا نہیں ہمارا کیا بنے گا؟‘‘
پیاز اور نمک بھی مہنگے
علاء البتنیجی دیر البلاح میں سبزیوں کے اسٹینڈ کے سامنے کھڑے ہو کر چند سبزیاں احتیاط سے چن رہے تھے ۔وہ ایسی سبزی خریدنا چاہتے تھے جسے اپنی جیب کے مطابق لے کر اپنے چار بچوں کے خاندان کو کھلا سکیں۔اڑتیس سالہ علاء کہتے ہیں:’’سبزیوں کی قیمتیں ناقابل یقین ہیں۔ہم پہلے سبزیاں کلو کے حساب سے خریدتے تھے لیکن اب یہ اتنی زیادہ مہنگی ہو چکیں کہ ہمیں ٹکڑوں کے حساب سے خریدنا پڑتا ہے۔‘‘
ہلچل سے بھری سبزی و پھل کی منڈیاں کبھی بہت سے لوگوں کے لیے رزق کا ذریعہ ہوتی تھیں۔مگر جنگ کے آغاز سے ہی وہاں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس وجہ سے وہ خاص طور پہ بے گھر خاندانوں کے لیے ایسے مقام بن گئیں جہاں انھیں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ مہنگائی کا اندازہ یوں لگائیے کہ غزہ میں صرف دو پیاز اور دو ٹماٹر کی قیمت تقریباً 32 شیکل (9ڈالر) ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ڈھائی ہزار روپے بنتی ہے۔
’’ہر روز ہم امید کرتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے گی، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس قدر مہنگائی، فاقہ کشی اور مشکلات کو دیکھنے کا کبھی تصّور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘ علاء البتنیجی کہتے ہیں جو جنگ سے قل غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے میں رہتے تھے مگر اب بے گھر ی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
’’میں نے آج دو پیاز چھ شیکلز میں خریدے،گویا صرف دو پیاز کے لیے تین ڈالر ادا کرنا پڑے۔ ماضی میں، میں ایک شیکل میں پورا کلو پیاز خرید سکتا تھا۔میں نے دو ٹماٹر بھی خریدے۔ ہر ٹماٹر کے لیے مجھے دس شیکل (تقریباً تین ڈالر) ادا کرنا پڑے۔یہاں کی قیمتیں جان کر ایسا محسوس ہوتا ہے ، میں شکاگو یا پیرس میں خریداری کر رہا ہوں… اب تو غزہ میں پیاز اور نمک بھی عیش و عشرت کی علامت بن چکے ۔‘‘ انھوں نے ایک تھیلے میں دو پیاز ڈالتے ہوئے کہا:
’’ مجھے ان لوگوں پر بہت ترس آتا ہے جو ناقابل یقین حالات برداشت کر رہے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیر البلاح میں ور بھی نہیں کر رہے تھے کا کہنا ہے اپنے بچوں کی وجہ سے میں واقع کہتے ہیں نہیں کیا انھوں نے سے زیادہ میں اپنے کرتے ہیں کے لیے ا رہے ہیں ہوتا ہے کیا تھا بچوں کی جاتا ہے روٹی کے بچوں کو کے باہر بچوں کے دو پیاز نہیں ہو ہے اور جنگ کے ہو چکی کر دیا ہیں کی غزہ کے ہیں کہ ہو گیا بے گھر
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔