مہنگائی میں کمی،زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے :شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
شہباز شریف:وزیراعظم نے کہا ہے کہ کہ ایک سال کے عرصے میں مہنگائی میں خاطر خواہ کمی، زر مبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، معاشی اعشاریے آئندہ سالوں میں مزید بہتر بنانے کے لیے انتھک محنت جاری رکھیں گے۔
نئے وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں سے سمیت وفاقی کابینہ کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ سب کا انتخاب آپ کی قابلیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے، ہم سب اللہ تعالیٰ اور عوام کی عدالت میں جواب دہ ہیں۔
حکومت وزرا کی فوج لیکر بھی اپنی نا اہلی کو ختم نہیں کر سکتے: شبلی فراز
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے وفاقی کابینہ کے نئے ارکان کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا، ملاقات کےدوران ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہباز شریف کا مزید کہناتھا کہ تمام وفاقی وزراء اور کابینہ کے دیگر ارکان کی کارکردگی کا باقاعدہ اور متواتر جائزہ میں خود لوں گا، عوامی نمائندوں کے طور پر آپ سب کی خدمات لائق تحسین ہیں۔
وفاقی کابینہ کے ارکان نے ملکی ترقی اور اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، شرکاء نے حالیہ معاشی ترقی پر وزیراعظم کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار جہاز کو اڑانے والی ترکی کی پہلی خاتون
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔