Express News:
2026-07-24@14:01:13 GMT

غزہ کی گتھی کون سلجھائے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

غزہ میں امداد بند ہونے کے بعد انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 42 روز توسیع کی اسرائیلی تجویز مسترد کردی۔ اسرائیل کے اتحادی جرمنی سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔ مصر، قطر، اور اردن نے اسرائیل کی جانب غزہ میں امداد کا داخلہ بند کرنے کو جنگ بندی اور انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کو قبول کرنے سے انکار کے بعد امدادی ٹرکوں اور گاڑیوں کو غزہ جانے سے روک دیا ہے۔ کیوں کہ اس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا پہلا ختم ہوگیا لہٰذا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے، تاکہ مستقل امن قائم ہوسکے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کے مطابق جنگ بندی کے اصل معاہدے کے مطابق سیز فائر کے دوسرے مرحلے کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے، جب کہ پہلا مرحلہ ہفتے کو ختم ہو چکا ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ موجودہ امن ڈیل غزہ میں جنگ کا اختتام نہیں بنے گی۔

فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں جینے کی حتمی آزادی ملے بغیر ایسے معاہدات نقل مکانی، بھوک، موت اور اُن لامحدود صدمات کا علاج نہیں جو فلسطینیوں نے پچھلے 75 سالوں میں جھیلے اور مزید طویل عرصے تک برداشت کرتے رہیں گے۔ ریسکیو کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ اور صفائی ستھرائی کے نظام کو چلانے اور ملبے کو صاف کرنے اور ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کے لیے کافی ایندھن ضرورت پڑے گا، یوں پٹی کے تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیرنو کا طویل کام شروع ہو جائے گا۔ جس وقت معاہدہ پہ بات چیت کا آغاز ہوا تو اسرائیل اور حماس کے درمیان طاقت کا توازن انتہائی غیر متناسب تھا۔

اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے حماس کے اصل مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ اسرائیلی فوجیں غزہ سے مکمل طور پر نکل جائیں، جب کہ جنگ بندی کی شرائط یہ بتاتی ہیں کہ اسرائیلی افواج زیادہ مستقل طور پر سرحد کے ساتھ صرف 40 کلومیٹر لمبے اور پانچ سے 13 کلومیٹر چوڑے بفر زون میں رہیں گی یعنی فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ اسے بشمول گھروں یا کھیتوں کے شہری زندگی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بہرحال، اس معاہدے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ یقینا ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ جنگ بندی ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ثابت ہو گی، بلاشبہ یہ خوش آیند ریلیف ضرور ہے لیکن ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت کے علاوہ لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کے ساتھ، غزہ کی تباہی لاکھوں افراد کو کئی قسم کے صدمات سے دوچار کر گئی، آگے بڑھتے ہوئے، بنیادی مسئلہ یہ ہوگا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ بندی کو برقرار نہیں پائیں گے، وہ انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے یرغمال ہیں، ان کی ممکنہ طور پر محدود وقتی رضامندی اب زیادہ تر واشنگٹن میں ٹرمپ کی افتتاحی تقریب کو خوشگوار بنانے کی مساعی تھی۔

معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی نیتن یاہو مبینہ طور پر ناراض وزراء کو یقین دہانی کر رہے ہیں کہ جنگ بندی عارضی ہوگی، ان کا حماس کی شرائط پر پوری طرح عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کہا جاتا ہے کہ اس نے سخت گیر اتمار بین گویر سے وعدہ کیا، جنھوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور بیزیل سموٹریچ، جو مستعفی ہونے کی دھمکی دے رہے ہیں، کہ وہ جلد ہی جنگ دوبارہ شروع کر دیں گے۔

 امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینی خود مختار انتظامیہ کو غزہ میں اقتدار سونپا جائے، لیکن حماس کی مقبولیت فلسطینی عوام میں اب بھی زیادہ ہے۔ غزہ میں مستقبل کے انتظامات پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس سے پہلے تین اہم نظریات زیر بحث تھے: شروع میں صہیونی حکام کی حکمت عملی ’’نہ فتح، نہ حماس‘ پر مبنی تھی، جس کے تحت وہ یا تو غزہ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لینا چاہتے تھے یا اسے تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ امریکی منصوبے ڈیل آف سینچری کے تحت فلسطینیوں ی کو بے دخل کر کے علاقے کو ایک معاشی زون میں تبدیل کرنا تھا۔

یورپی یونین کی تجویز میں بین الاقوامی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ فلسطینی خود مختار انتظامیہ کو حماس کے متبادل کے طور پر اقتدار دینے کی حمایت شامل تھی۔ اس منصوبے کو پیرس اور ریاض کی حمایت حاصل تھی، جب کہ فلسطینی خود مختار انتظامیہ کو حماس کی جگہ لانا امریکی منصوبہ تھا جس کے تحت غزہ کے شہری اور انتظامی معاملات بین الاقوامی فورسز کے تعاون سے چلایا جانا طے پایا تھا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاوس میں اپنے دوسرے دور اقتدار کے آغاز سے ایک روز قبل شروع ہوا تھا۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’’میرے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے کہ (مشرق وسطیٰ میں) امن برقرار رہے گا۔‘‘ امریکی صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے ہمسایہ ملک مصر اور اردن منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے اسے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جب برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس وقت یہاں یہودی بہت چھوٹی اقلیت تھے جب کہ عرب نسل کے فلسطینیوں کی آبادی 90 فیصد سے زیادہ تھی۔ مگر برطانوی تسلط کے دور میں 20ویں صدی میں یورپ میں ظلم و ستم سے بھاگنے والے یہودیوں نے اس فلسطین پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔حماس اور اسرائیل کے درمیان 15 ماہ کی جنگ سے تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت ایک فلسطینی علاقہ ہے۔

موجودہ جنگ بندی کسی پائیدار امن کی ضمانت نہیں دیتی۔اسی طرح علاقے کی مستقبل کی حکمرانی کے بارے میں اور بھی کم وضاحت ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کے لیے جنگ کے بعد کوئی کردار نہیں ہو سکتا، جس نے 2007 سے غزہ پر حکمرانی کی ہے ۔غزہ اس وقت ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اسرائیل کی جنگی جارحیت نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس میں پانی، بجلی، اسپتال اور خوراک کی قلت نمایاں ہے۔

توقع تھی کہ جنگ بندی سے امدادی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے اور عوام کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا موقع ملے گا، لیکن ایسا اسرائیل نے نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ اسرائیل کا جنگی جنون ہمیشہ سے خطے کے امن کے لیے ایک خطرہ رہا ہے اور اسرائیل چونکہ ایک غاصب ریاست ہے تو بطور غاصب ریاست اس کا ہمیشہ سے یہ چلن رہا ہے کہ جارحیت کر کے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو دبا دے۔ غزہ کی جنگ بندی بلاشبہ ایک خوش آیند قدم ہے، جس سے خطے میں امن قائم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم اصل کامیابی تب ہوگی جب مسئلہ فلسطین کا مستقل حل تلاش کیا جائے گا اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں گے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اسے امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مزید سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ، فلسطینی عوام کو اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ ایک پرامن اور خوشحال مستقبل ممکن ہو سکے۔ بدقسمتی سے، عالمی برادری بالخصوص مغربی ممالک اسرائیلی جارحیت پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم ممالک اسرائیل کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ امریکا اور دیگر مغربی طاقتیں اسرائیل کی حمایت کر کے اس ظلم کو مزید تقویت دیتی رہی ہیں، جب کہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کرنے کے لیے ہی اسرائیلی فوج ظلم و ستم کی نئی داستان رقم کرتی چلی جا رہی ہے، غزہ میں معصوم فلسطینیوں پر بربریت آج بھی جاری ہے۔

فلسطین، اسرائیل جنگ بندی معاہدہ یقیناً ایک پائیدار عمل کی ضمانت ہونا چاہیے، جنگ بندی کا معاہدہ گو تحریری شکل پاچکا لیکن بہت سے سوالات کا ریشم الجھا ہوا ہے۔مسئلہ فلسطین کا مستقل حل نکالنا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی بنا پر فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے امن کے قیام میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ غزہ پر عائد اقتصادی پابندیاں برقرار ہیں، جن کی وجہ سے وہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی آنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ غزہ کی دوبارہ تعمیر ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل جنگ بندی کے کہ جنگ بندی اسرائیل کی اسرائیل کے کے درمیان حماس کی حماس کے کے ساتھ نہیں ہو کے تحت غزہ کی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم