پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور بلوچستان عوامی پارٹی پر مشتمل بلوچستان میں مخلوط حکومت کے دور اقتدار کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ برس 2 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ کابینہ کی تشکیل کے لیے انہوں نے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لے لیا، جس کے بعد 20 اپریل کو 14 اراکین پر مشتمل کابینہ وجود میں آئی اور صوبے میں نئے حکومتی دور کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان حکومت نے صوبے سے متعلق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا بیان مسترد کردیا

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایک سال کے دوران بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اور سرکار نے تعلیم کے شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے بجٹ میں مجموعی طور پر 300 فیصد کا اضافہ کیا۔

حکومت کے مطابق شعبہ تعلیم میں اصلاحات لاتے ہوئے 10 لاکھ بچوں کو مختلف تعلیمی اداروں میں حکومتی خرچ پر اسکالرشپ دینے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت مختلف فیزز میں بچوں کو اسکالر شپ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بے نظیر اسکالر شپ پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے طلبہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

حکومت کے مطابق مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے 400 بچوں کو اسلام اباد کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حکومتی خرچ پر اسکالر شپس دی گئی ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے حکومت نے یوتھ اسکالر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ اور اس کے ذریعے بچوں کو یورپی ممالک میں بھیجنے کے پروگرام پر بھی کام جاری ہے۔

تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے حکومت نے غیر فعال تعلیمی اداروں کو فعال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کے تحت 100 سے زیادہ بند اسکولوں کو فعال کیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ اسکولوں کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں اساتذہ کو برطرف کیا جاچکا ہے۔ حکومت نے صوبے میں امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے لیے بھی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

بات کی جائے اگر صحت کی شعبے کی تو حکومت کا دعویٰ ہے کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے محکمہ کے بجٹ میں 129 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ 10 سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا اعلان بھی کیا گیا، حکومت نے اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات دینے کا وعدہ بھی عوام سے کر رکھا ہے۔

زراعت کے شعبے میں بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کے زرعی یوٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے سے متعلق پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ اس پروگرام کے لیے 10 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی جس میں مجموعی طور پر 30 ہزار زرعی ٹروپمنٹس کو سولر پر منتقل کیا جانا تھا، تاہم اس پروگرام پر مختلف مراحل میں عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

حکومت نے سال 2022 کے سیلاب میں منہدم ہو جانے والے مکانات اور شاہراہوں کی تعمیر کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، اس پروگرام کے تحت اب تک 250 مکانات مکمل طور پر تعمیر کیے جا چکے ہیں تاہم قومی شاہراہوں کی بہتری پر کام سست روی کا شکار ہے۔

صوبائی وزرا کے مطابق اس ایک سال کے دوران حکومت نے اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے عوام کو ہرممکن سہولت دینے کے لیے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو شروع کیا لیکن اس کے برعکس اپوزیشن اراکین اور تجزیہ نگاروں کا ماننا کچھ اور ہے۔

اپوزیشن اراکین کا مؤقف ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، جبکہ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس ایک سال کے دوران صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت کے دور اقتدار میں لسانی بنیادوں پر قتل کے واقعات میں تین گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ سرفراز بگٹی کی حکومت میں آئے روز قومی شاہراہوں پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے ناکہ بندی کرکے لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی، صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال حکومت کی غیرسنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت کا دور بلوچستان کے بدترین ادوار میں سے ایک ہے کیونکہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے کام نہ ہونے کے برابر کر رکھے ہیں، حکومت تعلیم اور صحت میں بہتری کے بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہے لیکن اس ایک سال کے دوران حکومت نے ایک بڑی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ شروع نہیں کیا اس کے علاوہ صوبے میں موجود یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی آئے روز سر اٹھاتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان حکومت کا نوجوان پائلٹس کی ٹریننگ کے لیے انقلابی اقدام

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھا سکی، صوبے میں بڑھتی بے روزگاری بھی حکومتی کارکردگی کا منہ نوچ رہی ہے، نئے روزگار کے مواقع تو اپنی جگہ سرحدی تجارت کے ذریعے اپنا روزگار پیدا کرنے والے نوجوانوں کو بھی سرحد بند کرکے روزگار چھینا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اپوزیشن بلندو بانگ دعوے بلوچستان حکومت تجزیہ کاروں کی رائے حکومت کا ایک سال سرفراز بگٹی غالب نہاد وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن بلندو بانگ دعوے بلوچستان حکومت تجزیہ کاروں کی رائے حکومت کا ایک سال سرفراز بگٹی غالب نہاد وزیراعلی بلوچستان وی نیوز کے شعبے میں بہتری کے لیے ایک سال کے دوران بلوچستان حکومت تعلیمی اداروں تجزیہ کاروں اس کے علاوہ پروگرام کے کی جانب سے حکومت کی کے مطابق حکومت کا حکومت کے حکومت نے بچوں کو کیا گیا جاری ہے گیا ہے کے تحت

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن