لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر آئی ہوئی ہے، پاک فوج کے جوان اپنے خون سے ملک کو بچا رہے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتےہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس واقعہ،نوشکی اورپشاور دھماکوں کی مذمت کرنا چاہتی ہوں، تین چار دن سے دہشتگردی کی نئی لہرمیں کئی واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں، افواج پاکستان اور سکیورٹی ادارے کلیئرنس آپریشنز کررہے ہیں، سکیورٹی اداروں نے جعفرایکسپریس واقعہ میں چند گھنٹوں میں کلیئرنس آپریشن کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں آپ اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسی جماعت پیدا ہوچکی ہے جو افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلاتی ہے، ہمارے دشمن ایسے زہریلے پراپیگنڈے سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، بھارتی میڈیا کی شاید پہلے سے تیاری تھی کہ جعفرایکسپریس واقعہ ہونا ہے، انڈین میڈیا اوراس پارٹی کی طرف سے وہی مہم چلائی جارہی تھی، تحریک فساد کی ایسی حب الوطنی پر افسوس ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کےبھگوڑے باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں، شہبازگل آپ کی پارٹی کا رہنما ہے یا نہیں؟ جو پاکستان پر حملے کی خوشیاں منائے ایسی جماعت کو سیاسی پارٹی نہیں مانتی، جعفرایکسپریس واقعہ پرکیا کوئی پاکستانی بھارتی میڈیا کی زبان بول سکتا تھا؟

صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں چند دن میں دہشتگردی کے کئی واقعات ہوئے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے افغان پالیسی پر بڑی تنقید کی، وزیراعلیٰ کے پی نے کہا افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینی چاہیے، 4 مارچ کوہونے والے بنوں دھماکے میں ایک افغان شہری کی شناخت ہوئی ہے، ہمارے افواج پاکستان کے جوانوں ،سکیورٹی اداروں نے کبھی ملک پر آنچ نہیں آنے دی۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی سے متعلق بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہمیشہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی پر بات کرنے آتی ہوں، میری وزیراعلیٰ کی ترجیح پنجاب کے عوام ہیں، پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہورہی ہے، پنجاب کے عوام وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوش ہیں، سروے میں صرف 17فیصد لوگوں کو وزیراعلیٰ اچھی نہیں لگیں،چینی کا مسئلہ آیا تھا جس کو مناسب انداز میں حل کیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیروٹالرنس ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تمام سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں، پنجاب میں ہماری تیاری مکمل ہے، بڑے ایونٹس پر حکومت پنجاب کی تیاری ہے، اس وقت پوری قوم کو مل کر دہشتگردی کی نئی لہر کے خلاف لڑنا ہے، وزیراعظم پارلیمانی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ بھی بلالی ہے، فساد پارٹی کا مقصد پاکستان میں کسی نہ کسی طرح آگ لگوانا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے کہا کہ رمضان نگہبان پیکیج 30 ارب روپے کا ہے، لاکھوں لوگوں کو رمضان نگہبان پیکیج مل چکا ہے، لاہور میں گزشتہ دنوں ایک مسئلہ آیا ، شکایت ہوئی کہ کچھ لوگ پیسے لیکر بھاگ گئے ہیں، ہربنس پورہ تھانے میں مقدمہ درج کرکے ان کو گرفتار کیا گیا، 92 پے آرڈرز تھے جن میں سے 17 کیش ہوئے تھے ۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ان کا کیش وصول ہوچکا ہے، ضلعی انتظامیہ کی تعریف کرنا چاہتی ہوں، گھر گھر جاکر لوگوں کے پے آرڈرز ضلعی انتظامیہ نے پہنچائے، کیش سینٹر ز کا بھی دورہ کیا ہے، پنجاب کے عوام نےپے آرڈر کے طریقہ کو سراہا ہے، پے آرڈرز سے لوگوں کو باآسانی پیسے موصول ہورہے ہیں۔

سلمیٰ بٹ نے کہا کہ رمضان میں سہولت بازار 80 سے زائد ہیں جہاں ماڈل بازار نہیں وہاں بھی رمضان سہولت بازار قائم کیے گئے، پچھلے 18 دنوں میں 65 لاکھ لوگوں نے دورہ کیا، آٹے کے ایک لاکھ سے زائد بیگز سہولت بازاروں سے فروخت ہوئے، کھجور پچھلے رمضان 550 روپےکلو تھی اس رمضان 420 روپےکلو ہے، آلو،پیاز اورٹماٹر کی قیمتوں میں بھی سہولت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں گھی کی قیمت پر50 روپے تک چھوڑے گئے، رمضان سٹالز سے روزانہ 2200 چینی کے تھیلے فروخت ہورہے ہیں، چینی اور گھی کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں کرسکتی کیونکہ اس پرعدالت کا آرڈر ہے، ہم نے صرف درخواست کی تھی رمضان سہولت بازاروں میں چینی 130 روپے کلو دی جائے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام دہشتگردی کی نے کہا کہ کے خلاف

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل