پوری قوم کو مل کر دہشتگردی کی نئی لہر کے خلاف لڑنا ہے: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر آئی ہوئی ہے، پاک فوج کے جوان اپنے خون سے ملک کو بچا رہے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتےہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس واقعہ،نوشکی اورپشاور دھماکوں کی مذمت کرنا چاہتی ہوں، تین چار دن سے دہشتگردی کی نئی لہرمیں کئی واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں، افواج پاکستان اور سکیورٹی ادارے کلیئرنس آپریشنز کررہے ہیں، سکیورٹی اداروں نے جعفرایکسپریس واقعہ میں چند گھنٹوں میں کلیئرنس آپریشن کیا۔
سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ، ڈالر سستا
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں آپ اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسی جماعت پیدا ہوچکی ہے جو افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلاتی ہے، ہمارے دشمن ایسے زہریلے پراپیگنڈے سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، بھارتی میڈیا کی شاید پہلے سے تیاری تھی کہ جعفرایکسپریس واقعہ ہونا ہے، انڈین میڈیا اوراس پارٹی کی طرف سے وہی مہم چلائی جارہی تھی، تحریک فساد کی ایسی حب الوطنی پر افسوس ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کےبھگوڑے باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں، شہبازگل آپ کی پارٹی کا رہنما ہے یا نہیں؟ جو پاکستان پر حملے کی خوشیاں منائے ایسی جماعت کو سیاسی پارٹی نہیں مانتی، جعفرایکسپریس واقعہ پرکیا کوئی پاکستانی بھارتی میڈیا کی زبان بول سکتا تھا؟
لاہور میں سورج کرنیں بکھیرنے لگا،بارش سے متعلق پیشگوئی
صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں چند دن میں دہشتگردی کے کئی واقعات ہوئے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے افغان پالیسی پر بڑی تنقید کی، وزیراعلیٰ کے پی نے کہا افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینی چاہیے، 4 مارچ کوہونے والے بنوں دھماکے میں ایک افغان شہری کی شناخت ہوئی ہے، ہمارے افواج پاکستان کے جوانوں ،سکیورٹی اداروں نے کبھی ملک پر آنچ نہیں آنے دی۔
پنجاب حکومت کی کارکردگی سے متعلق بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہمیشہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی پر بات کرنے آتی ہوں، میری وزیراعلیٰ کی ترجیح پنجاب کے عوام ہیں، پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہورہی ہے، پنجاب کے عوام وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوش ہیں، سروے میں صرف 17فیصد لوگوں کو وزیراعلیٰ اچھی نہیں لگیں،چینی کا مسئلہ آیا تھا جس کو مناسب انداز میں حل کیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیروٹالرنس ہے۔
نوشہروفیروز، تیل منتقلی کے دوران ٹینکر میں آگ لگ گئی، گھروں اور دکانوں کو نقصان
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تمام سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں، پنجاب میں ہماری تیاری مکمل ہے، بڑے ایونٹس پر حکومت پنجاب کی تیاری ہے، اس وقت پوری قوم کو مل کر دہشتگردی کی نئی لہر کے خلاف لڑنا ہے، وزیراعظم نے پارلیمانی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ بھی بلالی ہے، فساد پارٹی کا مقصد پاکستان میں کسی نہ کسی طرح آگ لگوانا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے کہا کہ رمضان نگہبان پیکیج 30 ارب روپے کا ہے، لاکھوں لوگوں کو رمضان نگہبان پیکیج مل چکا ہے، لاہور میں گزشتہ دنوں ایک مسئلہ آیا ، شکایت ہوئی کہ کچھ لوگ پیسے لیکر بھاگ گئے ہیں، ہربنس پورہ تھانے میں مقدمہ درج کرکے ان کو گرفتار کیا گیا، 92 پے آرڈرز تھے جن میں سے 17 کیش ہوئے تھے ۔
سلمان خان کی نئی ویڈیو نے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی
ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ان کا کیش وصول ہوچکا ہے، ضلعی انتظامیہ کی تعریف کرنا چاہتی ہوں، گھر گھر جاکر لوگوں کے پے آرڈرز ضلعی انتظامیہ نے پہنچائے، کیش سینٹر ز کا بھی دورہ کیا ہے، پنجاب کے عوام نے پے آرڈرز کے طریقہ کو سراہا ہے، پے آرڈرز سے لوگوں کو باآسانی پیسے موصول ہورہے ہیں۔
سلمیٰ بٹ نے کہا کہ رمضان میں سہولت بازار 80 سے زائد ہیں جہاں ماڈل بازار نہیں وہاں بھی رمضان سہولت بازار قائم کیے گئے، پچھلے 18 دنوں میں 65 لاکھ لوگوں نے دورہ کیا، آٹے کے ایک لاکھ سے زائد بیگز سہولت بازاروں سے فروخت ہوئے، کھجور پچھلے رمضان 550 روپےکلو تھی اس رمضان 420 روپےکلو ہے، آلو،پیاز اورٹماٹر کی قیمتوں میں بھی سہولت دی گئی ہے۔
کالجزمیں دوران کلاسزموبائل فون استعمال کرنے پر پابندی
ان کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں گھی کی قیمت پر50 روپے تک چھوڑے گئے، رمضان سٹالز سے روزانہ 2200 چینی کے تھیلے فروخت ہورہے ہیں، چینی اور گھی کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں کرسکتی کیونکہ اس پرعدالت کا آرڈر ہے، ہم نے صرف درخواست کی تھی رمضان سہولت بازاروں میں چینی 130 روپے کلو دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔