سولر پینل کی نئی پالیسی کے بعد سے ملک میں سولر پینل صارفین سمیت سولر پینل کا کاروبار کرنے والے افراد بھی خاصے پریشان ہیں۔ کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینل کی اس نئی پالیسی نے بہت سے ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کی ہے جو سولر پینل لگوانے کے حوالے سے سوچ بچار کررہے تھے، یا پھر سولر پینل لگوانے ہی والے تھے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں نئے سولر صارفین سے بجلی کا فی یونٹ 27 روپے میں خریدنے کے بجائے 10 روپے میں خریدنے کے حوالے سے پالیسی متعارف کروائی گئی ہے، اس خبر نے سولر پاور انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں نئی سولر پالیسی سے عام بجلی صارفین کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟

حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن تو جاری کردیا گیا ہے لیکن بہت سے افراد اس کشمکش کا شکار ہیں کہ اس سولر پینل پالیسی کا نفاذ کب سے ہوگا؟ اس کے علاوہ اس سے سولر پینل کا کاروبار کتنا متاثر ہوگا؟ اور وہ سولر صارفین جو اب تک 27 روپے میں فی یونٹ بجلی حکومت کو فروخت کررہے تھے، وہ کب تک اسی ریٹ پر بجلی فروخت کر سکتے ہیں؟ اور کیا نیپرا کی جانب سے نظر ثانی کے بعد اس پالیسی کو باؤنس کیا جا سکتا ہے؟

یہ تمام سوالات وہ ہیں جن کے جوابات تقریباً ہر وہ شخص جاننا چاہتا ہے جو یا تو سولر صارف ہے، سولر پینل کے کاروبار سے منسلک ہے، یا پھر سولر پینل لگوانا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ عام بجلی صارفین بھی جن کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ انہیں بجلی سستی فراہم کرنے کے لیے یہ پالیسی بنائی گئی ہے، وہ بھی اس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہیں۔

سولر پینل کے کاروبار سے منسلک افراد اس پالیسی سے متاثر ہورہے ہیں، نور بادشاہ

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سولر پینل کے کاروبار سے منسلک انجینیئر نور بادشاہ نے کہاکہ سولر پینل کا کاروبار کرنے والے افراد اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ تقریباً 30 فیصد ایسے کلائنٹس ہیں جن کا ہمارے ساتھ معاہدہ ہوگیا تھا اور وہ سولر پینل نصب کروانے ہی والے تھے کہ نئی پالیسی کے بعد انہوں نے منع کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نئی سولر پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد ہمارا کام رک چکا ہے، ابھی اس پالیسی کو منظور ہوئے کچھ دن ہوئے ہیں لیکن اس کے اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے پالیسی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے، اس لیے اب جتنے بھی سولر پاور سسٹم لگائے جائیں گے، یعنی جتنی بھی نیٹ میٹرنگ ہوگی، خواہ وہ آج کی تاریخ پر ہی کیوں نہ سولر پینل لگوائے، ان تمام پر نئی پالیسی لاگو ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ وہ افراد جنہوں نے اس نوٹیفیکیشن سے ایک دن قبل بھی نیٹ میٹرنگ کروائی تھی ان پر پرانی سولر پالیسی ہی لاگو ہوگی، یعنی حکومت ان سے 10 روپے کے بجائے 27 روپے فی یونٹ بجلی خریدے گی۔

عام بجلی صارفین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو لانے کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ اس پالیسی سے عام بجلی صارفین کے بوجھ میں کمی ہوگی، یعنی عام بجلی صارفین کے بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی، تاہم ایسا لگ نہیں رہا۔

انہوں نے کہاکہ نئی سولر پالیسی سے عام بجلی صارفین کے بلوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی، حکومت کا یہ قدم آئی پی پیز کو سپورٹ کرنے کے لیے ہے۔

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جن سولر صارفین نے نوٹیفکیشن سے قبل ہی نیٹ میٹرنگ انسٹال کروایا ہے، ان تمام افراد کا ان کی تنصیب کی تاریخ کے مطابق 7 سال مکمل ہونے کے بعد کنٹریکٹ ختم ہو جائے گا، ان سے حکومت 27 روپے فی یونٹ بجلی خریدے گی، اور اس کے بعد ان پر بھی نئی سولر پینل پالیسی لاگو ہو جائے گی، پھر ان سے بھی 10 روپے فی یونٹ بجلی خریدی جائے گی، ان کے پاس صرف 7 برس کی مدت تک کا وقت ہے۔

نئی سولر پالیسی عوام کے مفاد میں نہیں، آغا مہدی حیدر

سیکریٹری پاکستان سولر ایسوسی ایشن آغا مہدی حیدر نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی کا نفاذ کب سے ہوگا، اس حوالے سے تو ابھی چیزیں واضح نہیں ہیں، البتہ اس کا نفاذ مفاد عامہ میں نہیں لگتا، کیونکہ 27 روپے اور 10 روپے میں بہت زیادہ فرق ہے، لیکن اس کے باوجود سولر پینل کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ملک میں بجلی کی قیمت اس قدر ہے کہ بجلی کا بھاری بھرکم بل ہر مہینے ادا کرنا نہایت مشکل کام ہے۔

سولر پینل کی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ بہت کم چانسز ہیں کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کرکے رعایت برتی جائے، تاہم کاروباری افراد اور گھریلو صارفین کی جانب سے احتجاج کی صورت میں کوئی نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ کی اس پالیسی سے مجموعی طور پر اس سسٹم کے رجحان میں کمی کا بالکل اندیشہ ہے، کیونکہ یہ پالیسی لوگوں کے لیے اب اتنی فائدہ مند نہیں رہی لیکن ابھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت مزید کیا کرےگی، کوئی نظر ثانی کرے گی یا نہیں۔

حکومت نے سولر صارفین کے لیے مشکلات پیدا کیں، شرجیل احمد سلہری

ڈائریکٹر ری انرجی شرجیل احمد سلہری نے وی نیوز کو بتایا کہ اس نئی سولر پالیسی کے بدلنے سے صرف ایکسپورٹ یونٹس کی فنانشل ایڈجسٹمنٹ چارجز میں کمی ہوگی، حکومت کی جانب سے ایک بار جب گراس میٹرنگ کی جانب بڑھا جا چکا ہے تو اب صارفین کے لیے سولر انسٹالیشن میں کوئی کشش نہیں رہے گی۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ چونکہ ابھی پالیسی کے نفاذ میں وقت ہے اس لیے اگلے 3 مہینے آن گرڈ سسٹمز کو کسٹمرز تک پہنچانے کا بہترین وقت ہے تاکہ وہ اگلے 4 سے 5 سالوں کے لیے اعلیٰ نیٹ میٹرنگ ریٹ کا فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے سولر صارفین کے لیے مشکلات ہی پیدا کی گئی ہیں، پاکستان میں اور اتنی پالیسیوں سے کچھ خاص بدلاؤ نہیں آیا تو اس سے بھی بجلی کے بلوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑےگا۔

سولر پینل لگوانے کا فیصلہ نئی پالیسی کے بعد ترک کردیا، شہری

محمد فاروق گلزار کا تعلق اسلام آباد سے ہے، انہوں نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وہ گرمیاں آنے سے قبل سولر پینل لگوانا چاہتے تھے، اور انہوں نے گزشتہ مہینے سے ہی سولر انجینیئرز سے رابطے کرنا شروع کر دیے تھے، اور ایک کے ساتھ وہ اپنا ریٹ بھی طے کرچکے تھے۔

انہوں نے کہاکہ اس پالیسی سے چند قبل ہی انہوں نے سولر انجینیئر سے عید کے فوری بعد سولر پینل کی تنصیب کا بھی کہہ دیا تھا، لیکن سولر پینل کی اس پالیسی کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ وقتی طور پر ترک کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں حکومت کی نئی سولر پالیسی: عوام کے لیے کیا خاص ہے؟

انہوں نے کہاکہ میں یہی سوچ رہا تھا کہ گرمیاں آنے سے قبل سولر پینل لگوا لوں کیوں کہ گرمیوں میں بجلی کے بلوں کی وجہ سے شدید پریشانی اٹھانی پڑتی ہے، تاہم اب سولر پینل لگوانے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے تو مجھے اپنے پیسے ریکور کرنے میں تقریباً 6 سے 7 سال لگ جائیں گے، اور ممکن ہے کہ اس سے زیادہ بھی لگ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پرانی سولر پالیسی سولر پینل سولر کاروبار صارفین نئی سولر پالیسی نیٹ میٹرنگ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پرانی سولر پالیسی سولر پینل سولر کاروبار صارفین نئی سولر پالیسی نیٹ میٹرنگ وی نیوز کہ حکومت کی جانب سے عام بجلی صارفین کے نئی سولر پالیسی انہوں نے کہاکہ پالیسی کے بعد اس پالیسی سے فی یونٹ بجلی روپے فی یونٹ سولر پینل کی سولر صارفین کے حوالے سے نئی پالیسی نیٹ میٹرنگ روپے میں میں کوئی کے بلوں کا کہنا تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان