نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کو ایک اور شکست، ’کلب لیول کا بولر بھی شاہین آفریدی سے اچھی بالنگ کرلیتا‘
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان نیوزی لینڈ میں ہونے والی 5 ٹی 20 سیریز کے دوسرے ٹی 20 میں بھی میزبان کیویز نے پاکستان کو شکست دے دی۔ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 136 رنز کا ہدف دیا تھا جو کیویز نے 13.1 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
چیمپیئنز ٹرافی میں مایوس کُن کار کردگی کے بعد پاکستانی ٹیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والی اس سیریز میں بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ نہ کر سکی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اس بری پرفارمنس پر پاکستانی کرکٹ فینز نے ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سلیم خالق نے لکھا کہ ایک سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کے ہوتے ہوئے بولرز کی ایسی پٹائی دیکھنا افسوسناک ہے، چھکے ایسے لگ رہے ہیں جیسے کیویز کا بچوں سے میچ ہو۔
ایک سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کے ہوتے ہوئے بولرز کی ایسی پٹائی دیکھنا افسوسناک ہے،چھکے ایسے لگ رہے ہیں جیسے کیویز کا بچوں سے میچ ہو
— Saleem Khaliq (@saleemkhaliq) March 18, 2025
فرح خان لکھتی ہیں کہ شرم کا مقام ہے کہ پاکستان کی ٹیم نیوزی لینڈ کی بی ٹیم کے خلاف ذلت آمیز شکستوں سے دو چار ہے۔ انہوں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان کی بھلائی سے اسی میں ہے کہ وہ استعفی دے دیں۔
پی سی بی پر منحوسیت محسن نقوی کی صورت میں چھائی ہوئی ہے ۔اس نے پاکستان کرکٹ کو ذلیل و رسوا کیا ہے.
— Farha Khan (@iam_farha) March 18, 2025
ایک صارف نے شاہین شاہ آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کلب لیول کا کوئی بولر بھی اس سے اچھی بالنگ کر لیتا ہے جس طرح کی بالنگ شاہین ابھی کررہا ہے۔واضح رہے کہ ٹم سیفرٹ نے 4 چھکوں کی مدد سے شاہین کے اوور میں 26 رنز بنا ڈالے۔
کلب لیول کا کوئی بالر بھی اس سے اچھی بالنگ کر لیتا ہے جس طرح کی بالنگ شاہین ابھی کررہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے اب شاہین شاہ آفریدی کا دل نہیں کرتا کرکٹ کھیلنے کو بڑا اثاثہ تھا پاکستان کا ????????????????????#PAKvsNZ #Cricket #ShaheenShahAfridi #T20Cricket #pakistancricketteam pic.twitter.com/YaTDFlDo1E
— Zaidan Shopify (@ShopifyZaidan) March 18, 2025
شرلاک اومز نامی ایک صارف نے بابر اعظم کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اسی اوول گراؤنڈ میں شین بانڈ اور دیگربولروں کے سامنے بابر اعظم نے ناقابل شکست 79 رنز بنائے۔ اور آج کی ٹیم مسخروں کا ایک گروپ لگتی ہے۔
Same oval ground, with pace of Shane bond and others Babar Azam scored 79 unbeaten for series winner.
And look at today’s team a bunch of clowns.#PakistanCricket #pakvsnz pic.twitter.com/EFlh3zFQzq
— Sherlock Ohms (@Wanmohnev) March 18, 2025
کریتی سنگھ نے لکھا کہ شاہین شاہ آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ خود کو ’پریمیم فاسٹ بولر‘ کہتے ہیں۔
Kauwa Shaheen Shah Afridi calling himself "Premium Fast Bowler" ????#PAKvsNZ pic.twitter.com/cgxwUZSDUG
— Kriti Singh (@kritiitweets) March 18, 2025
ایک ایکس صارف نے پاکستانی ٹیم پر غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ ان جیسے کھلاڑیوں سے 30 یارڈ سرکل بھی کراس نہیں ہو رہا اور پھر کہتے ہیں نوجوانوں کو سپورٹ کرو۔
Inn jese 3rd class player se 30 yard circle bhi cross nhi ho rahe hai …
Fir bolenge Young guns ko support karo bhakkk ????#PakistanCricket #Pakistan #PakvsNz #BabarAzam???? pic.twitter.com/AnwCopYPip
— NOPE RAHMAN (@Rahman879792) March 18, 2025
سردار اورنگزیب نے لکھا کہ منہ کدھر، بلا کدھر اور گیند کدھر۔ پھر کہتے ہیں کہ نئے ٹینلنٹ کو سپورٹ کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلنٹ ہو تو ہم سپورٹ کریں نا۔
منہ کدھر بلا کدھر اور گیند کدھر
پھر کہتے ہیں نئے ٹیلنٹ کو سپورٹ کرو بھائی ٹیلنٹ ہو تو سپورٹ کرو نا #PakistanCricket #PAKvsNZ pic.twitter.com/1sgbIlLV53
— Au Rangzab Younis (@SardarAurangzab) March 18, 2025
ذیشان خان نیازی نے لکھا کہ شاہین آفریدی تھرڈ کلاس بولر ہے۔
شاہین شاہ آفریدی ایک تھرڈ کلاس بولر ہے
— Zeeshan Khan Niazi (@niyazee26) March 18, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ ٹیم محسن نقوی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ ٹیم محسن نقوی پاکستان کرکٹ ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ نے لکھا کہ محسن نقوی شاہین شاہ سپورٹ کرو کہتے ہیں شاہین ا کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔