طلاق یافتہ بھارتی کرکٹرز کی فہرست پر نظر ڈالیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
بھارتی کرکٹ ٹیم کے رکن اور اسپنر یوزویندر چہل اور انکی اہلیہ دھناشری ورما کے درمیان باضابطہ طلاق کے بعد بھارت کے نامور طلاق یافتہ کھلاڑیوں کی فہرست میں نیا اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ روز بمبئی ہائیکورٹ کی درخواست پر فیملی کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ دونوں کے درمیان طلاق کے پراسس کو تیز تر بنایا جائے کیونکہ باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: دھناشری سے طلاق! کیا چہل، مہوش کو ڈیٹ کررہے ہیں؟ نئی ویڈیو وائرل
کارروائی کے کچھ دیر بعد یوزویندرچہل کو عدالت کے احاطے سے نکلتے دیکھا گیا، فیملی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے وکیل نے طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوریوگرافر دھناشری ورما اور کرکٹر یوزویندر چہل کی شادی باضابطہ طور پر ختم ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں: یوزویندر چہل اور دھناشری ورما کی باضابطہ طلاق ہوگئی، وکیل کی تصدیق
یوزویندر چہل اور دھناشری ورما
یوزویندر چہل حال ہی میں ان کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے طلاق کا سامنا کیا۔ انہوں نے 2020 میں ڈانسر اور کوریوگرافر دھناشری ورما سے شادی کی تھی لیکن صرف 2 سال بعد ہی ان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ یہ جوڑی گزشتہ 2 سال سے الگ رہ رہی تھی۔
طلاق کے معاہدے کے تحت چہل دھناشری کو 4.
ہاردیک پانڈیا اور نتاشا اسٹینکووک
فہرست میں دوسرا نام ہاردیک پانڈیا اور سربین اداکارہ نتاشا اسٹینکووک کا ہے جنہوں نے 2020 اپنی منگنی کا اعلان کیا اور اسی سال انکے ہاں بیٹے اگستیا کی پیدائش ہوئی تاہم، یہ جوڑی بھی 2024 میں علیحدہ ہوگئی اور طلاق لے لی۔
شیکھر دھون اور عائشہ مکھرجی
شیکھر دھون کا تعلق میلبرن کی کک باکسر عائشہ مکھرجی سے ایک زمانے میں ایک کہانی کی طرح لگتا تھا، عائشہ ایک مطلقہ اور دو بچوں کی ماں تھیں لیکن انہوں نے دھون کا دل جیت لیا تاہم، تقریباً 10 سال کی شادی اور اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد یہ جوڑا 2021 میں علیحدگی کا اعلان کردیا۔
محمد شامی اور حسین جہاں
محمد شامی اور حسن جہاں کی شادی نے 2018 میں ایک ڈرامائی موڑ لیا، جب انکی اہلیہ نے محمد شامی پر بے وفائی اور گھریلو تشدد کے الزامات لگائے۔ شامی نے ان الزامات کو مسترد کیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
اگرچہ وہ اب علیحدہ ہیں لیکن ان کی کہانی ہندوستانی کرکٹ کی سب سے متنازع اور زیر بحث طلاقوں میں سے ایک ہے۔
یوگراج سنگھ اور شبنم سنگھ
بھارتی کرکٹر یوگراج سنگھ کی ذاتی زندگی نے کافی توجہ حاصل کی۔ ان کی پہلی اہلیہ شبنم سنگھ، کرکٹر یوراج سنگھ کی والدہ ہیں، بعد میں یوگراج نے پنجابی اداکارہ ستویر کور سے شادی کی۔
دینیش کارتک اور نکیتا ونزارا
دینیش کارتک کی پہلی شادی نکیتا ونزارا سے ہوئی تھی، جو کافی متنازع رہی۔ یہ جوڑی، جو بچپن کے دوست تھے، 2007 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے تاہم، نکیتا اور دینیش کے ساتھی کرکٹر مرالی وجے کے ساتھ تعلقات کی افواہوں نے تعلقات کو خراب کردیا۔
دونوں 2012 میں طلاق کے لے کر علیحدہ ہوگئے اور پھر نکیتا نے مرالی وجے سے شادی کرلی، جس کے بعد مرلی وجے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے اپنے دوست کی اہلیہ کیساتھ ہی چکر چلایا۔
محمد اظہرالدین اور ناورین، سنجیتا بجلانی
سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین کی ذاتی زندگی ان کے کرکٹ کیریئر کی طرح ہی پرتجسس رہی، سابق کرکٹر نے پہلی شادی 1987 میں ناورین سے کی، جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے تاہم، 1996 میں بالی ووڈ اداکارہ سنجیتا بجلانی کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ان کی پہلی شادی ختم ہوگئی۔
انہوں نے 1996 میں بالی ووڈ اداکارہ سنگیتا بجلانی سے شادی کی، جنکا اسوقت نام اداکار سلمان خان کیساتھ جوڑا جارہا تھا بعدازاں انہوں نے بھی 2010 میں اظہر الدین سے طلاق لیکر رشتہ ختم کردیا۔
ونود کمبلی اور نوئلا لیوس
بھارتی بیٹر ونود کمبلی کی پہلی شادی سابق رسیپشنسٹ نوئلا لیوس سے ہوئی تھی، جو کچھ سال بعد طلاق پر اختتام پذیر ہوئی، اس مشہور کرکٹر نے بعد میں اینڈریا ہیوٹ سے شادی کی، جن کے ساتھ ان کا ایک بیٹا ہے۔
روی شاستری اور ریتو سنگھ
معروف کمنٹیٹر روی شاستری اور ریتو سنگھ 20 سال تک ساتھ رہنے کے بعد 2012 میں علیحدہ ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاستری کے مصروف کوچنگ کیرئیر اور کمنٹری کے باعث وقت نہ دینے کی وجہ سے تعلقات کمزور ہوئے اور طلاق پر شادی اختتام پذیر ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوزویندر چہل سے شادی کی پہلی شادی انہوں نے طلاق کے کی پہلی کے ساتھ کے بعد
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔