آزاد کشمیر میں دہشتگردی کی کارروائی نا کام،فتنہ الخوارج کا دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
راولاکوٹ(اوصاف نیوز) چوکی پولیس آزاد تین ضلع سدھنوتی نے چیکنگ کے دوران ایک سوزوکی کلٹس کار کے اندر سے اسلحہ، ایمونیشن اور ہینڈ گرنیڈ وغیرہ برآمد کر کے کار میں موجود شخص کو گرفتار کرلیا جس پر مذکورہ شخص کے خلاف تھانہ پولیس سٹی پلندری میں مقدمہ درج کیا گیا۔ گرفتار ملزم نے دوران حراست انکشاف کیا کہ اس کا تعلق فتنہ الخوارج تنظیم سے ہے جو افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردی کے بڑے نیٹ ورک سے ہے ۔
باغ پر لیس کوسجاد ریشم کانسٹیبل پولیس کے قتل میں مطلوب زرنوش، اسامہ اور محمد الفت عرف ثاقب ضرار کا تعلق بھی دہشتگردی کے اسی فتنہ الخوارج گروہ سے ہے جنہوں نے بھی افغانستان سے دہشتگردی کی ٹریننگ حاصل کررکھی ہے۔ مورخہ 2024-10-27 کو شجاع آباد ضلع باغ سجاد ریشم کانسٹیبل کو آزادکشمیر میں دہشتگردی پھیلانے کی غرض سے انہی ملزمان کے ساتھ مل کر فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ دہشتگرد پاکستان اور آزاد کشمیر میں مختلف وارداتوںمیں ملوث ہیں۔
یکم رمضان کو موٹروے پر ڈکیتی کا واقعہ کی اس نے زرنوش وغیرہ کے ساتھ مل کر ہی کیا ہے۔ زرنوش وغیرہ او جوانوں کو ریاست کے خلاف ورغلا کر ان کی منفی ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی جانب راغب کرنے میں شامل ہیں۔ انہیں پاکستان اور با الخصوص آزاد کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کرنے کے سلسلہ میں افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپ کی مکمل حمایت کے ساتھ فنڈنگ، اسلحہ اور دھما کہ خیز مواد کی فراہمی کی جاتی ہے۔
پولیس نے فتنہ الخوارج سے جڑے اس اہم دہشت گرد کو اسلحہ، ایمونیشن سمیت بر وقت گرفتار کر کے آزاد کشمیر کو دہشت گردی کے کسی بڑے منصوبے سے بچالیا ہے۔ رفتار خرم اوراس سے ملک روش، اساسا والا کے را بلے انسان میں موجود ہشت گرد گروپ سے ثابت ہو چکے ہیں۔ راولا کوٹ پولیس کو مطلوب اشتہاری ملزم غازی شہزادی کی ہی دہشت گرد گروہ کے ساتھ شامل ہو چکا ہے۔
متذکرہ دہشتگرد گروہ سےمنسلک ملزمان خطرناک اسلحہ کی بھاری مقدار کے ساتھ آزاد کشمیر میں سرگرم ہیں جو کسی بھی وقت کوئی بڑادہشتگردی کا واقعہ کر کے آزاد کشمیر کے امن کو تہ وبالا کر سکتے ہیں۔ پولیس اپنی پوری قوت کے ساتھ اس دہشت گرد گروہ کو گرفتار کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔
ہماری عوام علاقہ سے بھی اپیل ہے کہ ان مطلوب دہشتگردوں کی گرفتاری کے سلسلہ میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیاجائے تاکہ ان کوگرفتار کے علاقے کے اس کے ساتھ ساتھ سجاد ریشم شہید کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ متذکر ہ و مطلوب ملزمان کے بارے میں اطلاع دینے والے شخص کا نام نہ صرف صیغہ راز میں رکھا جائے گا بلکہ اس کو معقول نقد انعام بھی دیا جائے گا۔
ٹرمپ،وائس آف امریکااورمیڈیاکی آزادی کابحران
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔