عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے ریاست اور حکومت سے سوال کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس دوبارہ شروع تو ہوگئی، لیکن کیا آپ یہ گارنٹی دے سکتے ہیں اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ جو ہم نے 50، 60 سال سے کھیل رچایا ہوا ہے اسے ہم اس حد تک لے آئے ہیں کہ یہ کھیل اب ہمارے قابو سے باہر ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کا فل اسٹاپ ہونا چاہیئے، اگر یہ فل اسٹاپ آج نہ ہوا تو کہیں پاکستان کو کل خطرہ نہ ہو‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے‘۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ کہتے ہیں ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی، ’کیا کمر توڑی آپ نے؟ کمر تو آپ کی ٹوٹی ہے، ریاست کو دیکھو، چار پانچ ہزار دہشتگردوں سے مقابلے کی باتیں کرتے ہیں اور اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، کمر آپ دہشتگردوں کی تب توڑو جب دہشتگردی کا خاتمہ کرو، اس کی سہولت کاری کا خاتمہ کرو، اس مائنڈ سیٹ کا خاتمہ کرو‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف انتہا پسند ہیں، ریاستگ بھی انتہا پسند، حکومت بھی انتہا پسند، احتجاج والے بھی انتہا پسند، تو جب سب انتہا پسند ہوں گے تو اس میں پھر تباہی ہوگی‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی پارٹی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آئے یا نہ آئے، فرق پڑتا ہے کہ وہاں جو مشورے دئے جائیں ان پر ریاست عمل کرے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو صرف ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، یہ ایک نئی جنگ ہے جس میں ہم گھس چکے ہیں، میں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھی کہا کہ یہ اب ہمارے بس کی بات نہیں ہے، یہ صرف انڈیا، افغانستان اور ایران نہیں ہے، یہ افزائش ہے، ایک طرف طالب ہے دوسری طرف امریکہ ہے، ایک نئی کولڈ وار ہے، گرم پانی کی طرف کھچاؤ ہو رہا ہے، یہ باتیں ایک سمجھدار انسان نہیں سمجھ سکتا؟ لیکن ہم اس میں گھس گئے کہ ڈالر آئیں گے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ بل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر اتنا جوان بہادر بن رہا ہے تو پہلے اپنے اندر جمہوریت ٹھیک کرے، اپنی ڈیپ اسٹیٹ ختم کرے، پاکستان تو امریکی ماڈل کی پیروی کر رہا ہے۔
شیر افضل مروت کے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے کے دعوے پر ایمل ولی خان نے کہا کہ مروت صاحب کو تو بالکل بھی سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئیے، ’وہ سنجیدہ بندہ ہے ہی نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اسٹیج ہیومر آرٹسٹ ہے، جو سامنے کھڑا ہوکے لوگوں کو ہنسا دیتا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اگر خود اپنی پارٹی میں فارورڈ بلاک بنائیں ان لوگوں کے خلاف جو فوج کے ساتھ ہیں تو اس صورت میں فارورڈ بلاک بن سکتا ہے۔
کیا علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہیں گے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’علی امین اور شہباز شریف ایک ہی وقت میں تبدیل ہوں گے جو میں سمجھتا ہوں، دونوں ایک ہی جگہ کے بندے ہیں، جب شہباز شریف اور مریم نواز تبدیل ہوں علی امین بھی تبدیل ہوجائیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’تینوں کی اسٹرنگ (ڈور) ایک ہی ہے‘۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت میں بغض کارے ہوئے لوگ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی اپنے گھروں سے قدم باہر نہیں رکھیں گے، کسی جلسے یا احتجاج میں نہیں آئیں گے، جب ملٹری کورٹس کا مقدمہ ہوا تو ان میں وہ صاحبان شامل ہیں دوڑ گئے تھے ملک سے باہر بھاگ گئے تھے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سب افراد واضح ہوجائیں گے اور عمران خان جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں، جو ذمہ داری انہوں نے مجھے دی ہے کسی وجہس سے دی ہے، تو کون پارٹی کے وفادار ہے کون نہیں ہے، کون صرف شعبدہ بازی کی خاطر کھڑا ہوا ہے یہ سب باتیں عمران خان جانتے ہیں۔
عید کے بعد بنا جے یو آئی کے احتجاج کے سوال پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے باقاعدہ اتحادی بننے سے قبل کچھ ایونٹس ایسے ہوسکتے ہیں جن میں وہ اتحادہ نہ ہوتے ہوئے بھی شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد پر تحریری معاہدے کے مطالبے پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’یہ ممکن ہے‘، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ عمران خان کے ساتھ ہماری مشاورت ہو جو نہیں ہونے دی جا رہی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے واضح کہا ہے علی امین گنڈاپور ہمارے وزیراعلیٰ ہیں اور ان کی پوزیشن مستحکم ہے، ’یہ کسی کی خواہش ہوسکتی ہے، کچھ لوگ ہیں پارٹی کے اندر بھی پارٹی کے باہر بھی جو انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں‘۔
کیا پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کا خطرہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کوئی بہت ہی بیوقوف ہوگا جو اپنی سیاست کو مکمل ختم کرنا چاہتا ہوگا، وہی ایسا کوئی قدم اٹھائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ میں فارورڈ بلاک ایمل ولی خان نے انتہا پسند پی ٹی ا ئی علی امین لوگ ہیں

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی