WE News:
2026-07-24@01:51:05 GMT

خواتین عید الفطر کی تیاریوں سے مایوس کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT

خواتین عید الفطر کی تیاریوں سے مایوس کیوں؟

رمضان کے آخری ایام میں عید کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ بازاروں میں خواتین کی بڑی تعداد عید کی تیاریاں کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ ہر چیز بہت زیادہ مہنگی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے عید کی تیاری کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔ دوسری طرف دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کے ساتھ ہر چیز کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے، اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کی شرح میں کمی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2025 میں افراط زر کی شرح 1.

5 فیصد رہی۔ لیکن اس کے باوجود عوام کی جیب پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

اسلام آباد کی رہائشی فائزہ خان کہتی ہیں کہ عید کی شاپنگ ہر سال مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ برانڈز سے خریداری تو دور کی بات عام مارکیٹوں سے خریداری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

’گزشتہ برس کے مقابلے میں ہر چیز 200 سے 500 روپے تک بڑھ چکی ہے۔ بچوں یا بڑوں کی کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مناسب قیمت پر فروخت ہو رہی ہو۔ جو چیزیں سستی ہیں، ان کی کوالٹی ایسی ہے جو ان پیسوں کو بالکل بھی جسٹیفائی نہیں کرتی۔ ‘

’لیکن اس سب کچھ کے باوجود خاص طور پر بچوں کے لیے بجٹ نکالنا پڑتا ہے کیونکہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔ اب سال میں 2 ہی عیدیں آتی ہیں۔ والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو بالکل بھی مایوس نہ کریں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کے سبب وہ اپنی عید کی خریداری کا ارادہ تو نہیں رکھتیں کیونکہ عید پر گروسری اور بچوں کی تیاری ہی ہو جائے تو بڑی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیےمیٹھی عید پر ملک بھر میں کون سے خاص پکوان روایت سے جڑے ہیں

کرن فاطمہ کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ عید کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عید کے کپڑوں کے لیے بازار کے بہت چکر لگائے مگر تمام برانڈز کے کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پہلے 5 ہزار روپے تک کس بھی برانڈ کا سوٹ آرام سے مل جایا کرتا تھا، لیکن اب تو 5 ہزار روپے میں صرف شرٹ بھی مشکل سے مل رہی ہے۔

’ ٹھیک ہے کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے مگر برانڈڈ کپڑوں کی قیمتیں حد سے زیادہ ہیں۔ ان کپڑوں کے ٹیگ پر لکھی قیمت اس آرٹیکل سے اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ آرٹیکل اس قیمت کے قابل نہیں ہوتا۔ اور مڈل کلاس کے لیے تو اب برانڈڈ کپڑے پہننا نہ ممکن ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا  کہ مارکیٹوں میں مسلسل گھومنے پھرنے کے بعد انسٹاگرام پر انہیں ایک ایسا آن لائن اسٹور نظر آیا جس پر پاکستان کے ایک بہت مہنگے اور معروف برانڈ کی کاپیاں موجود تھیں۔ جب اس آن لائن اسٹور کو میں نے مزید ایکسپلور کیا تو اس پر ہو بہو ویسے ہی کپڑے بہت ہی کم قیمت میں دستیاب تھے۔

’ بس وہ دیکھتے ہی میں نے جلدی سے اپنے لیے ایک سوٹ آرڈر کیا جو مجھے پرسوں ہی ڈیلیور ہوا ہے، اور واقعی اس کی کوالٹی بھی بہت اچھی تھی اور اس پر جو کڑھائی ہوئی تھی وہ تو بالکل ویسی ہی تھی۔ وہ جوڑا اس برانڈ کی شاپ پر تقریباً 14 ہزار 500 کا تھا لیکن آن لائن مجھے وہ 5 ہزار 950 کا مل گیا۔‘

مزید پڑھیں عید پر فیملی کے ہمراہ سیاحتی مقامات کی سیر کے دوران کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

اقراء فاروق کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی تو شاید کبھی ختم ہی نہیں ہوگی۔ اب شاید ایسا لگتا ہے کہ ہم نے مہنگائی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ عید ایسا موقع ہے جس کی تیاریاں نہ کی جائیں تو کیا فائدہ۔ کیونکہ میٹھی عید سال میں 1 ہی بار آتی ہے۔ چیزوں کی قیمتیں تو ویسے ہی ہیں بلکہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس تہوار کو تمام مسلمانوں کو جوش و خروش سے منانا چاہیے۔

حکومت اور بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ عید کے موقع پر اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرے جیسے پوری دنیا میں کرسمَس وغیرہ کے مواقع پر کمی کی جاتی ہے تاکہ ہر شخص کی استطاعت میں کپڑے، جوتے اور دیگر چیزیں خریدنا ممکن ہو۔ اور یہ درست ہے کہ عید کی تیاریوں کے لیے سستی اور معیاری چیزوں کا انتخاب کرنا اب ایک چیلنج بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خواتین عید الفطر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواتین عید الفطر کی تیاریوں کی قیمت لیکن ا کہ عید عید کی کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار