اقتصادی خودمختاری، پابندیوں کا مؤثر جواب یا محض خواب؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکانے پاکستان،چین،متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی70کمپنیوں پربرآمدی پابندیاں عائدکی ہیں۔جن میں19پاکستانی،42 چینی اور4متحدہ عرب امارات سمیت ایران، فرانس،افریقہ،سینیگال اوربرطانیہ کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔یہ پابندیاں مختلف وجوہات کی بناپرلگائی گئی ہیں،جن میں قومی سلامتی، جوہری اوربیلسٹک میزائل پروگرامزمیں مبینہ شمولیت اوردیگرامورشامل ہیں۔امریکی حکومت کادعویٰ ہے کہ یہ کمپنیاں امریکاکی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کررہی ہیں۔
یادرہے کہ ایساپہلی بارنہیں کہ امریکانے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کو’’قومی سلامتی کے لئے خطرہ‘‘قراردیتے ہوئے ان پرپابندیاں عائد کی ہوں۔ اس سے قبل2018 میں بھی امریکانے پاکستان کی 7 ایسی انجینئرنگ کمپنیوں کو جوہری آلات کی تجارت میں ملوث قراردیکرسخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا۔اس کے بعد دسمبر2021ء میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ طورپرمددفراہم کرنے کے الزام میں13 پاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں لگادی تھی۔
امریکی پابندیوں کی زدمیں جوپاکستانی کمپنیاں آئی ہیں ان میں الائیڈبزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ،اریسٹن ٹریڈ لنکس،بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی،گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل ، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ، لنکرزآٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ،این اے انٹرپرائززشامل ہیں۔ اوٹومینوفیکچرنگ، پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن،پراک ماسٹر ، پروفیشنل سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ،رچناسپلائیز پرائیویٹ لمیٹڈ اوررسٹیک ٹیکنالوجیزبھی پابندیوں کاشکار کمپنیاں ہیں۔امریکانے نہ صرف پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے چارسپلائرز پر پابندی لگائی ہے ۔پاکستان کے دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ اسلام آبادامریکاکے حالیہ اقدامات کے حوالے سے آگاہ نہیں تاہم ماضی میں ’’محض شک کی بنیادپرفہرست جاری کی گئی یاپھر ان میں شامل اشیاکنٹرول لسٹ میں شامل بھی نہیں تھیں مگرانہیں حساس سمجھا گیا‘‘۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیومِلرکی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ ’’امریکا ان چارپاکستانی کمپنیوں کو نامزدکررہا ہے جوبڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اوران کی ترسیل میں ملوث رہے ہیں۔ امریکاتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کرتارہے گا‘‘۔واضح رہے کہ اب تک خود امریکا نے اسرائیل کوغزہ میں جنگ کے لئے تین ارب ڈالرز سے زیادہ کے ہتھیارمہیاکئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کی گئی ہے۔اس فیکٹ شیٹ کے مطابق امریکانے چین میں قائم شیان لونگڈے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈپرپاکستان کے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کی تیاری کے لئے پرزے اورآلات فراہم کرنے کاالزام عائدکیاہے۔اس میں فلیمینٹ وائنڈنگ مشین بھی شامل ہے جوراکٹ موٹرکیسزتیارکرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ تیانجِن کری ایٹوانٹرنیشنل ٹریڈکمپنی لمیٹڈنے پاکستان کے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کوآلات فرام کئے ہیں جس میں ’’سٹرویلڈنگ‘‘ کا سامان بھی شامل ہے۔ امریکاکے مطابق سپیس لانچ ویہیکل میں استعمال ہونے والے پروپیلینٹ ٹینکوں کی تیاری میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فیکٹ شیٹ میں چین کی گرانپیکٹ کمپنی لمیٹڈ پر الزام عائدکیاہے کہ یہ کمپنی پاکستان کی خلائی تحقیق کے ادارے سپارکوکے ساتھ مل کر راکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے اورمزیدیہ بھی الزام لگایاگیاہے کہ یہی کمپنی پاکستان کوبڑی راکٹ موٹرزآزمانے کیلئے پرزے فراہم کرتی رہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں ایم ٹی سی آرکیٹگری ون بیلسٹک میزائل کی پروڈکشن کی جاتی ہے۔فیکٹ شیٹ کے مطابق بیلاروس میں قائم مِنسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کوبیلسٹِک میزائل پروگرام کے لئے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں۔یہ چیسس بیلسٹک میزائل کے لانچ سپورٹ پروگرام میں کام آتاہے جسے پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس(این ڈی سی ) کو فراہم کیاگیاتھا۔
سی آئی اے اورپینٹاگون کی رپورٹس کے مطابق یہ کمپنیاں جوہری ہتھیاروں،بیلسٹک میزائل پروگرامزاورڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں ملوث ہیں،جو امریکاکی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔امریکا کاالزام ہے کہ پاکستان اورچین این پی ٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری منصوبوں میں تعاون کررہے ہیں اورمیزائل ٹیکنالوجی کاتبادلہ کررہے ہیں۔مثال کے طورپر، پاکستانی کمپنیوں نے سی ایل20ایک جدید ترین ’’دہماکہ خیزمادہ‘‘چین سے درآمدکیا جو بابر-3 کروز میزائل میں استعمال ہوتا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے پاکستانی کمپنیوں کو سالانہ تین سو ملین ڈالر کا نقصان ہو گا کیونکہ ان کی 40 فیصد برآمدات امریکا پر مرکوز تھیں۔ پاکستان کا غوری تھری میزائل پروگرام 6 ماہ کے لئے معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کے لئے گئیر باکسز دستیاب نہیں ہیں
یوکرین کوامریکی ہتھیارفراہم کرنے والی کمپنیوں نے رپورٹ کیاکہ روس ایرانی ساختہ ڈرونزکے ذریعے یوکرین پرحملے کررہا ہے،جن کے پرزے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے سپلائی کیے ہیں۔ علاوہ ازیں روس اوریوکرین جنگ کے تناظرمیں کچھ کمپنیاں روس کوڈیفنس ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے شبہات کی زدمیں ہیں اس لئے ان متاثرہ کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ تک رسانی بندکردی گئی ہے جس سے ان کو2۔1بلین ڈالرکانقصان ہوسکتاہے۔یہ امریکی پابندیاں ان متاثرہ ممالک کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ پیداکرکے سیمی کنڈکٹرز،ڈرون پارٹس،اور لیبارٹری سازوسامان کی درآمد کو متاثر کر سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان تمام متاثرہ ممالک کے ساتھ امریکا اوراس کے اتحادی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات میں تنائواورکشیدگی کاواضح امکان ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق مذکورہ کمپنیاں ایسے اقدامات میں ملوث ہیں جواس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق،یہ کمپنیاں جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز میں معاونت،غیرقانونی تجارت،اور جدید ٹیکنالوجی کی غیرمجازمنتقلی میں ملوث ہیں۔امریکا کا کہناہے کہ بعض کمپنیاں ایسے ممالک کے ساتھ تعاون کررہی تھیں جن پرجوہری عدم پھیلا ؤکے حوالے سے سخت نگرانی ہے اوران کمپنیوں نے جوہری عدم پھیلاؤکی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کچھ کمپنیاں مبینہ طورپر پاکستان اوردیگر ممالک کے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پروگرام میں مدددے رہی تھیں۔چین، ایران اوردیگر ممالک کی کمپنیاں حساس امریکی اوردفاعی ٹیکنالوجی غیر قانونی طریقے سے منتقل کررہی تھیں۔چین اورپاکستان کے ساتھ امریکا کے تجارتی اورسفارتی تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی سپلائی چین خاص طورپرالیکٹرانکس اور دفاعی شعبوں میں میں خلل پیداہوسکتاہے۔یہ اقدام امریکااوردیگرمتاثرہ ممالک کے درمیان مزیدتناؤ پیدا کر سکتا ہے۔بین الاقوامی منڈی میں حساس اشیا ء کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔
امریکاکی پابندیوں کی زدمیں پاکستان کی 19کمپنیاں زیادہ تردفاعی اورانجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔13دسمبر2021کو درجن بھر پاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں،بشمول ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن پرپابندی لگائی گئی تھی۔اس کے علاوہ ’’اے ای ایس‘‘اڈوانسڈ انجینئرنگ سلوشن،کے آرایل ٹیکنیکل سروسزاورنیشنل الیکٹرانکس سرفہرست ہیں۔ان پرالزام ہے کہ یہ کمپنیاں پاکستان کے غوری میزائل تھری کے لئے گئیرباکس اوربابرکروزمیزائل کی تیاری میں معاونت کررہی ہیں۔ایڈوانس انجیئرنگ سلوشن پریہ الزام بھی لگایاگیا کہ یہ غوری میزائل کے لئے ہائی پریشر ٹر بائنز تیارکرتی ہے۔ اس پابندی کے بعدچین سے50ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ ہوگیاہے۔
نیشنل الیکٹرانکس کمپلیکس پرالزام ہے کہ وہ پاکستان کی جوہری لیبارٹریزکے لئے سینسرز اور کنٹرول سسٹمزتیارکرتی تھی۔اسی طرح’’کے آر ایل ٹیکنیکل سروسز‘‘کمپنی شاہین میزائل3 کے لئے گائیڈنس الگو ر تھمزگائیڈنس سسٹم تیار کرتی ہے جو امریکاکے مطابق ایف16طیاروں کے سافٹ وئیرسے چوری شدہ کوڈپرمبنی ہیں۔اسی طرح پاکستانی کمپنی نیشنل انجینئرنگ اینڈسائنسٹفک کمیشن بابر کروزمیزائل کے لئے ٹربوفین انجن کی تیاری میں ملوث ہے۔
امریکانے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے چارسپلائرزپر پابندی عائدکی ہے،جن پرالزام ہے کہ وہ پاکستان کے میزائل پروگرام کے لئے پرزہ جات اور ٹیکنالوجی فراہم کررہے تھے۔ان متاثرہ کمپنیوں پرمختلف الزامات لگاکرجو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں سرفہرست پاکستان کی ایک انڈسٹری پرمیزائل سسٹم کے لئے مخصوص اجزاکی سپلائی کاالزام لگایا گیاہے ۔ ایک دوسری کمپنی پر یہ الزام لگایاگیاہے کہ وہ غیرقانونی نیٹ ورکنگ کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث ہے۔تیسری کمپنی پریہ الزام ہے کہ وہ میزائل پروگرام میں ضروری الیکٹرانک چِپس کی سپلائی میں ملوث ہے اورپاکستان کی ایک معروف سلوشن انجینئرنگ کمپنی پریہ الزام ہے کہ وہ جدید نیویگیشن سسٹم کی فراہمی میں ملوث ہے جبکہ یہ تمام کمپنیاں ان الزامات سے لاعلم ہیں اورانہوں نے اپنی شفافیت پرزوردیاہے۔پاکستانی حکومت کامؤقف ہے کہ اس کی دفاعی ترقی اقوام متحدہ کے قوانین کے دائرے میں ہے اور اس کے سٹریٹیجک پروگرامز ان کے مقامی وسائل سے تیارکیے گئے ہیں۔
(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میزائل پروگرام کے امریکانے پاکستان پاکستانی کمپنیوں پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستانی کمپنی ٹیکنالوجی کی قومی سلامتی پروگرام میں میں ملوث ہے یہ کمپنیاں کمپنیوں نے کمپنیوں کو پاکستان کی نے پاکستان پاکستان کے فراہم کرنے ممالک کے یہ الزام ممالک کی یہ کمپنی فیکٹ شیٹ کے مطابق کی تیاری ہے کہ یہ کے ساتھ ہے اور کے لئے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔