اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک اہم پیشرفت کے تحت ملک کی سرکردہ انٹیلی جنس ایجنسی نے دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا ہے جس کا مقصد کراچی میں اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سمجھی جانے والی مسرور ایئر بیس پر خطرناک حملہ کرنا تھا۔

حکام کے مطابق، اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروپ فتنہ الخوارج کا ایک کمانڈر ہے جو اس گروپ کے خطرناک خودکش بمباروں کی قیادت کرتا ہے۔

اس سازش میں 9؍ انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد شامل تھے جن میں سے پانچ افغان شہری تھے جن کی قیادت فتنہ الخوارج کا ایک ہائی پروفائل کمانڈر ہے جو پہلے ہی دہشت گردی کے کئی مقدمات میں مطلوب ہے۔

یہ دہشت گرد حال ہی میں دراندازی کرکے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ یہ لوگ ایک طے شدہ مقام پر ایئربیس میں دراندازی کرکے داخل ہونے، اس پر قبضہ کرنے، طیاروں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور ایئربیس کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنے قبضے میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور موت تک ایک طویل بندوق بردار لڑائی کرنا تھا۔ یہ آپریشن مبینہ طور پر افغانستان میں مقیم فتنہ الخوارج کی اعلیٰ قیادت کی براہ راست نگرانی میں کیا گیا تھا اور اس میں تقریباً 13؍ ماہ کی منصوبہ بندی شامل تھی۔

دہشتگردوں نے ایئربیس کے قریب رہائش اختیار کر رکھی تھی اور علاقے کی وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال (ریکی) کی تھی۔ تاہم، انٹیلی جنس ایجنسی ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔

جب حملہ آور اپنی سازش کا آخری مرحلہ شروع کرنے والے تھے، ایجنسی نے ملک بھر میں ایک تیز، خفیہ اور مربوط آپریشن شروع کرتے ہوئے مختلف مقامات سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اسٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کی حامل ایئربیس کی حفاظت کی بلکہ گزشتہ کئی حملوں (بشمول نومبر 2024 میں کراچی کے سائٹ ایریا میں لبرٹی ٹیکسٹائل مل میں چینی انجینئرز پر حملہ) میں ملوث فتنہ الخوارج کے ایک اہم دہشت گرد نیٹ ورک کو بھی تباہ کیا۔

موجودہ آپریشن میں پکڑے گئے اسی فتنہ الخوارج کمانڈر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان فرار ہونے سے پہلے کراچی سائٹ میں ہونے والے حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔حکام کی رائے ہے کہ یہ ماسٹر مائنڈ بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز) کا ماہر ہے جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی اور نیٹو اور اتحادی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران افغان طالبان کے ساتھ مل کر لڑتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے میں دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور آلات فراہم کر رہی ہیں۔

حکام نے گزشتہ اکتوبر میں ناکام ہونے والی اسی طرح کی دہشتگردی کی سازش کی طرف اشارہ کیا، جس میں فتنہ الخوارج اور دشمن ایجنسیوں نے اسلام آباد میں ایک بڑے بین الاقوامی ایونٹ کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی تھی۔

ان خطرات کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی حفاظت کیلئے اپنے مقصد میں ثابت قدم ہیں۔ حکام نے دہشت گردی کو اس کی تمام اشکال میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مربوط، مسلسل چوکسی کے ذریعے قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

(انصار عباسی) Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انٹیلی جنس ایجنسی فتنہ الخوارج ایجنسی نے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار