جہاد کافتویٰ آچکا،نیتن یاہو سن لو ایک ایک بچے کاحساب لیں گے ،حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
لاہور ، اسلام آباد ، راولپنڈی ، مری، اٹک (نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے مال روڈ پر تاریخی غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا، مارچ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر لیاقت بلوچ، محمد جاوید قصوری، ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ ، سیکرٹری اظہر بلال سمیت دیگر مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین نے شرکت کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اسرائیل اور امریکہ دونوں کی مذمت کریں اور عوام اسرائیل و امریکہ کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں، نیتن یا ہو سن لو ایک، ایک بچے کے خون کا حساب لیں گے ، اگر کوئی چپکے چپکے اسرائیل کے ذریعے فلسطین کی ریاست پر قبضہ کرتا ہے تو اسے چھڑوانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ جہاد کیلئے فتوئی آچکا ہے ، اب مسلم حکمرانوں اور افواج پر جہاد واجب ہے ، مسلمانوں کو کلمہ اور مسجد اقصیٰ کی بنیاد پر ایک ہونا ہو گا ، فلسطینی مظالم پر جلد ایک فیصلہ کریں گے اور شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال کریں گے ، انہوں نے کہا کہ حماس کا دفتر کھول کر مسلم ممالک کو اکٹھا کیا جائے، فریڈم فائٹر ز بنائے جائیں اور اسرائیل کی مدد کرنے والی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ، 18 اپریل کو ملتان اور 20 اپریل کو اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہو گا۔ غزہ مارچ ریلی سٹیٹ بینک بلڈ نگ سے چیئرنگ کر اس تک نکالی گئی، جس میں خواتین ، بچوں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ دیگر قائدین میں لیاقت بلوچ ، ذکر اللہ مجاہد ، جاوید قصوری، ڈاکٹر وسیم اکرم ، جاوید بٹ اور محمد جاوید قریشی شامل تھے ، کراچی میں جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیوایم نے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، نیتن یا ہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر نذر آتش کیں، حیدر آباد میں بھی ریلی نکالی گئی، خیبر پختونخوا میں پشاور ، شانگلہ ، سوات، بلگرام، تور غر ، صوابی، دیر اپر ، دیر لوئر، منیرہ، کوہستان اور ، خیبر پختو نخوا میں پشاور ، شانگلہ ، سوات ، بٹگرام، تور غر ، صوابی، دیر اپر دیر لوئر، منیرہ، کو ہستان اور ضلع کے دیگر علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں ، ادھر ، خیبر پختونخوا میں مظاہرین نے اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویریں بھی نذر آتش کیں ، پشاور میں قصہ خوانی میں شہر بھر کے تاجروں نے شرکت کی ، دریں اثناء اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین کی جانب سے ریڈ زون کی طرف جانے کی کوشش پولیس ناکام بنادی ، بتایا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد ، دیگر مذہبی جماعتوں اور متحدہ طلباء محاذ کے زیر اہتمام آبپارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ، مظاہرین نے آبپارہ سے ریڈ زون کو جانیوالی سڑک پر مارچ بھی کیا تاہم ایمبیسی روڈ سے پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کی پیش قدمی روکے رکھی اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے مابین دھکم پیل بھی ہوئی ، ریڈ زون جانیوالی سڑک پر کنٹینز رکھ کر اسے بند رکھا گیا، مظاہرین نے کن ٹنرز کے سامنے ہی دھرنا دیدیا۔ راولپنڈی میں 5 بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جمعہ کا دن اسرائیلی بربریت کیخلاف یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، ریلیوں کا اہتمام جماعت اسلامی ، جمعیت اہل سنت ، تحریک لبیک ، ریلوے ورکر ز یونین نے کیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ضلع کچہری کی تمام کینٹینوں ، سٹالز ، شاپس ٹھیلوں پر اسرائیلی مصنوعات کی فروخت پر فوری پابندی لگا دی ہے۔ اٹک میں بھی اسرائیل مردہ بادر ریلی اور القدس مارچ نکالا گیا ۔ مری میں فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف مظاہرے جمعیت علماء اسلام اور اسلامی جمعیت طلباء کی طرف سے کیے گئے ، لساں نواب بازار میں فلسطین کیسا تھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔