ایران اور امریکا کے درمیان عمان کی میزبانی میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 12 April, 2025 سب نیوز

تہران (سب نیوز )ایران اور امریکا کے درمیان عمان کی میزبانی میں تہران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے جب کہ امریکی وفد کی قیادت صدر ٹرمپ کے مشرق وسطی کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بغائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے وزیر خارجہ کی ثالثی سے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔اسمعیل بغائی کا کہنا تھا کہ دونوں وفود کے لیے الگ الگ کمرے مختص کیے گئے تھے اور وہ عمان کے وزیر خارجہ کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات پہنچا رہے تھے۔یاد رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی کے بڑھتے ہوئے پروگرام کو نہ روکا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

اگرچہ دونوں فریق مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی امید ظاہر کر رہے ہیں تاہم وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری تنازع پر اتفاق رائے سے بہت دور ہیں جب کہ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا ہے کہ مذاکرات ٹرمپ کی خواہش کے مطابق براہ راست ہوں یا پھر ایران کے مطالبے پر بلواسطہ جاری رہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان پہلی بار ہونے والے مذاکرات سے قبل عباس عراقچی نے مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی تاکہ انہیں تہران کے اہم نکات اور مقف سے آگاہ کیا جاسکے جو وہ دوسرے فریق تک پہنچائیں۔

مذاکرات میں پیش رفت مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جہاں پر 2023 سے غزہ اور لبنان میں تنازعات کے علاوہ ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں، بحیرہ احمر میں حوثی حملوں، اور شام میں حکومت کی برطرفی جیسے واقعات کے باعث کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

تاہم، مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطے میں تصادم کے خدشات مزید بڑھ جائیں گے۔دوسری جانب، تہران نے اپنے ان پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جہاں پر امریکی اڈے موجود ہیں کہ وہ اگر ایران پر کسی امریکی فوجی حملے میں ملوث ہوئے تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے سرکاری میڈیا کو بتایا اگر امریکا برابری کی بنیاد پر مذاکرات میں شامل ہو تو ابتدائی مفاہمت کا امکان موجود ہے تاہم مذاکرات کے دورانیے سے متعلق ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ابھی پہلی ملاقات ہوئی ہے اور میں کئی بنیادی اور ابتدائی امور کو واضح کیا گیا ہے، اس دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ دونوں فریقین مذاکرات کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہیں اور ان کے کیا ارادے ہیں، اس کے بعد ہی ٹائم لائن کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عباس عراقچی کو مذاکرات کے لیے مکمل اختیار دے دیا ہے۔

امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک نے کئی دہائیوں سے تہران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے، ایران اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف سویلین مقاصد کے لیے ہیں۔ہفتہ کے روز، پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ حسین سلامی نے کہا کہ ملک جنگ کے لیے تیار ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا ( آئی آر این اے ) کے مطابق حسین سلامی نے کہا کہ ہمیں جنگ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ہم جنگ میں پہل نہیں کریں گے لیکن ہم کسی بھی جنگ کے لیے تیار ہیں۔2015 میں، ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان یعنی امریکا، فرانس، چین، روس، اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ جرمنی کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدہ کیا تھا۔

2015 کے معاہدے کے بعد، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) کے نام سے جانا جاتا ہے، جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کی ضمانت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ 2018 میں، ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران، امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔

ایک سال بعد، ایران نے معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے جوہری پروگرام کو تیز کر دیا۔گذشتہ پیر کے روز، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر علی لاریجانی نے خبردار کیا تھا کہ اگرچہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر اس پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کے پاس ایسا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایران اور امریکا کے درمیان عمان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز جوہری پروگرام مذاکرات میں کے مطابق ایران کے کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟