سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں سے اوورسیز پاکستانی خود حساب لیں گے، چوہدری پرویز اقبال لوسر
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہا ہے کہ 90 فیصد اوورسیز پاکستانیوں کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، سوشل میڈیا پر پروپگینڈا کرنے والے پاکستان دشمنوں کے ٹاؤٹ ہیں، یہ ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں، کل اسلام آباد میں پہلا اوورسیز کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں 80 ملکوں سے اوورسیز پاکستانی آئیں گے جو ڈیڑھ کروڑ اوورسیز کی نمائندگی کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرنے والوں سے اب تارکین وطن خود حساب لیں گے۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہاکہ ہماری فیڈریشن اس وقت 28 ملکوں میں موجود ہے جس کا مقصد پاکستان کا مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانا ہے، ہم یورپی پارلیمنٹ اور پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں، ہم نے یورپی پارلیمنٹ میں مختلف قراردادیں منظور کرائی ہیں، اصل ہمارا مقصد یہ ہے کہ ایک غیر سیاسی تنظیم بنائی جائے جو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں اوورسیز پاکستانی ہمارے سروں کا تاج ہیں، عطاتارڑ
انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف 10 فیصد اوورسیز پاکستانی سیاسی طور پر متحرک ہیں، باقی سب پاکستان کے سپورٹر ہیں، پاکستان کے اداروں کے ساتھ ہیں، جو لوگ پاکستان کا امیج خراب کر رہے ہیں وہ پاکستان دشمنوں کے ٹاؤٹ ہیں، ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں، یہ ملک ہماری ماں ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان سے آگے کچھ بھی نہیں، تارکین وطن صرف سبز ہلالی پرچم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’حکومت کی منتقلی کا بس اتنا فائدہ کہ چور چلے جاتے اور ڈاکو آ جاتے ہیں‘چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہاکہ حکومت کی منتقلی سے اوورسیز پاکستانیوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ چور چلے جاتے ہیں اور ڈاکو آ جاتے ہیں، مختلف حکومتیں اپنے نمائندہ ٹھیکیدار ہمارے اوپر مسلط کر دیتی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں سے اس طرح اتنے پیسے لینے ہیں، حکومت ہمارے لیے تو کچھ نہیں کر سکتی، ہم ہی پاکستان کے لیے سب کچھ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 2003 میں چوہدری شجاعت کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ڈیڈ باڈی پی آئی اے فری میں لائے گا، آج تک یہی دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کا ایک پرانا دیرینہ مسئلہ ان کی جائیدادوں پر قبضوں سے متعلق ہے، ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ کوئی ایسا ون ونڈو آپریشن والا نظام بنائے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے مسائل یا اپنی جائیداد کے حصول کے لیے مختلف اداروں یا دفاتر کے دھکے نہ کھانے پڑیں بلکہ ایک ہی ونڈو سے ان کا کام ہو جائے۔
’اوورسیز کنونشن میں ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری آنے کی امید ہے‘چوہدری پرویز اقبال نے کہاکہ کل سے اسلام آباد میں پہلا اوورسیز کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں 80 ملکوں سے اوورسیز پاکستانی آئیں گے، جو ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی کریں گے، اس کنونشن میں مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری پاکستان آنے کی امید ہے، اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانی جو کہ بڑے کاروباروں سے منسلک ہیں وہ دیکھیں گے کہ کس طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو صرف ایک یہی خوف ہے کہ یہاں پر ان کا سرمایہ محفوظ نہیں، اگر حکومت ان کو سیکیورٹی اور ان کے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کی گارنٹی دے تو اوورسیز پاکستانی اس کنونشن میں بہت بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کر سکتے ہیں۔
’پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے اوورسیز میں رہنا مشکل کردیں گے‘چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہاکہ وہ پاکستانی جو پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں بیٹھ کر پاکستانی ریاست، حکومت اور اداروں کے خلاف منفی پروپگینڈا کررہے ہیں، اوورسیز پاکستانی اب خود ان کے خلاف ایکشن لیں، گے، ان کے گھروں کا محاصرہ کریں گے اور ان کا اوورسیز میں رہنا بھی مشکل کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن کے وفد کا او پی ایف اور ایس آئی ایف سی کا اہم دورہ
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ وہ متعلقہ حکومتوں کو بھی کہیں گے کہ یہ لوگ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں اور سازش میں ملوث ہیں اس لیے ان کو یہاں سے نکال دیا جائے، کل یہ لوگ فوج کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، آج کسی اور سے پیسے لے کر فوج کے خلاف پروپیگنڈا کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اوورسیز پاکستانی اوورسیز کنونشن چوہدری پرویز اقبال لوسر حکومت فوج مخالف مہم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی اوورسیز کنونشن حکومت فوج مخالف مہم وی نیوز سے اوورسیز پاکستانی اوورسیز پاکستانی ا اوورسیز کنونشن انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری پاکستان کے کررہے ہیں کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.