راولپنڈی میں کے ایف سی کی برانچ پر حملہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں پاکستان کے مختلف شہروں میں غیرملکی فاسٹ فوڈ چینز ’کے ایف سی‘ کی مختلف برانچز پر حملے کیے جا رہے ہیں جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر آج ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے راولپنڈی میں موجود ’کے ایف سی‘ کی برانچ پر چند لوگوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں کو ہاتھ میں بیس بال کا ڈنڈا اٹھائے اور بازؤں پر فلسطینی پرچم باندھے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بائیکاٹ کا اثر، ملائیشیا میں کے ایف سی کے 100سے زائد آؤٹ لیٹس بند
حملہ آوروں نے ریسٹورنٹ میں توڑ پھوڑ کی اور گالیاں دیتے رہے۔ حملے کے دوران اگرچہ برانچ میں موجود افراد یا اسٹاف کو تو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا لیکن چند فیملیز جو اس وقت ریسٹورنٹ میں کھانے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں انہیں وہاں سے باہر نکال دیا گیا۔
آج KFC راولپنڈی میں فیملیز بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں، چار دہشتگردوں نے آ کر توڑ پھوڑ کی گندی غلیظ گالیاں دیں بچے اور خواتین ڈر کر کھانا ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ pic.
— M.Waseem Rao (@raowasi57) April 14, 2025
ریسٹورنٹ انتظامیہ کے15 پر کال کرنے پر ریسٹورنٹ پر حملہ کرنے والے نوجوان فرار ہو گئے۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
صحافی معید پیرزادہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کون سا سرمایہ کار اس پاکستان میں آئے گا جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے؟ راولپنڈی کی ایک کے ایف سی برانچ میں جو کچھ اسرائیل کے خلاف ہوا وہ بظاہر غنڈہ گردی ہے اور یہ واقعہ فوج کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہی پیش آیا ہے۔
Which investor will come to this Pakistan without Rule of Law? Scene of gangsterism apparently against Israel in a KFC outlet in Rawalpindi Military Garrison town? Not far from Army HQ@RepTomSuozzi @RepJackBergman pic.twitter.com/Xf5SbCloSv
— Moeed Pirzada (@MoeedNj) April 14, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ یہ سب کرنے سے کیا فلسطین آزاد ہو جائے گا ؟ یہ سب کر کے ہم فلسطین کی کیا مدد کر رہے ہیں ؟ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو پر امن طریقے سے بھی ہو سکتا ہے جیسے ترکی میں ہوا ، وہاں 550 سے زائد کے ایف سی کے ریسٹورنٹ تھے لیکن وہاں کی عوام نے تھوڑ پھوڑ نہیں کی، انہوں بائیکاٹ کیا اور سارے کے ایف سی بند ہو گئے۔
یہ سب کرنے سے فلسطین آزاد ہو جاۓ گا ؟ یہ سب کرنے سے ہم کیا مدد کر رہے ہیں فلسطین کی ؟ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو پر امن طریقے سے بھی ہو سکتا ہے جیسے ترکی میں ہوا ، وہاں 550 سے زیاد KFC ریسٹورنٹ تھے لیکن وہاں کی عوام نے تھوڑ پھوڑ نہیں کی ، انہوں بائیکاٹ کیا اور سارے KFC بند ہو گئے ۔
— Rai Taha g (@raigee239) April 14, 2025
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کو اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
Every muslim should boycott these bloody israeli products.
— Basim (@Basim88648673) April 14, 2025
واضح رہے کہ یہ پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہروں کراچی اور میرپور خاص میں فلسطین کے حق میں احتجاج کے دوران ’کے ایف سی‘ اور ’ڈومینوز‘ کی چار برانچز پر حملہ اور لوٹ مار ہوئی تھی جس کے بعد 24 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی طرح ایک دوسرے واقعے میں زیریں سندھ کے شہر میرپور خاص میں ’کے ایف سی‘ کی ایک برانچ کو مشتعل افراد کی جانب سے آگ لگا دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے پاکستانیوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا؟ سروے میں تفصیلات سامنے آگئیں
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد سے پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ایسی درجنوں مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم جاری ہے جن سے متعلق صارفین کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ فاسٹ فوڈ کمپنی کے ایف سی کو بھی اسی لیے تنقید کا سامنا ہے کہ اس کا تعلق اسرائیل سے ہے۔
پاکستان میں جاری اس بائیکاٹ مہم میں کئی لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اسرائیلی ظلم کو روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کو معاشی طور پر نقصان تو پہنچا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
راولپنڈی کے ایف سی غزہ فلسطین کے ایف سی کے ایف سی بائیکاٹ کے ایف سی حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راولپنڈی کے ایف سی فلسطین کے ایف سی کے ایف سی بائیکاٹ کے ایف سی حملہ کے ایف سی یہ سب کر رہے ہیں
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔