راولپنڈی؛ ٹریفک پولیس آفس کے باہر سے موٹر سائیکل چوری کی انوکھی واردات
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
راولپنڈی میں لائسنس بنوانے کے دوران ٹریفک پولیس کے دفتر کے باہر سے شہری کی موٹر سائیکل چوری ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق چیکنگ کے دوران لائسنس نہ ہونے پر سٹی ٹریفک پولیس کا وارڈن موٹر سائیکل سوار کو لائسنس بنوانے کے لیے ٹریفک آفس لیکر گیا تو سڑک پر پارک اسی شہری کی موٹر سائیکل چوری ہوگئی۔
چوری ہونے والی موٹر سائیکل 2 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی تھی جس پر شہری سخت پریشان ہوگیا۔
تھانہ ریس کورس کو مقدمہ درج کرواتے ہوئے ڈھوک چوہدریاں کے رہائشی ملک نقاش نے بتایا کہ موٹر سائیکل نمبر CXQ58 پر دن دو بجے کے قریب قاسم مارکیٹ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ جہانگیر نامی ٹریفک وارڈن نے روکا اور لائسنس کا پوچھا جس پر میں نے بتایا کہ نہیں ہے تو وہ مجھے لرنر لائسنس بنوانے کے لیے ٹریفک پولیس کے لائسنس آفس لے گیا، واپس آیا تو جس جگہ موٹر سائیکل کھڑی کی تھی موجود نہیں تھی۔
شہری کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
رابطہ کرنے پر متاثرہ شہری ملک نقاش نے مزید بتایا کہ جس جگہ ٹریفک وارڈن نے مجھے روکا وہاں اور بھی وارڈنز و شہری کھڑے تھے لیکن وارڈن مجھے موٹر سائیکل پر لائسنس بنوانے ساتھ لے گیا، موٹر سائیکل باہر ہی سڑک کنارے کھڑا کروایا جس پر میں نے ان سے کہا بھی کہ موٹر سائیکل کسی محفوظ جگہ پارک کرنے دیں لیکن وارڈن نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا جس پر بمشکل موٹر سائیکل کو ہینڈل لاک ہی لگا پایا اور اسکے ساتھ چل دیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ خود پارکنگ کا کام کرتا ہوں، دو لاکھ روپے کا نیا موٹر سائیکل تھا۔ قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج نکلوا کر سب کچھ دیکھ لیا جائے اور موٹر سائیکل برآمد کروایا جائے۔
واقعے پر رابطہ کرنے پر ایس ایچ او ریس کورس انسپکٹر چوہدری جمیل کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ درج کر لیا ہے، تفتیش اور تلاش میں مصروف ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان موٹر سائیکل چوری لائسنس بنوانے ٹریفک پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔